فاطمہ جناح کو بھی غداری کے سرٹیفکیٹ دیے گئے تھے، یہ ہتھکنڈے بند کئے جائیں: محمد زبیر

  • سوموار 05 / اکتوبر / 2020
  • 4520

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے حکومت کو اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر سیاست کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی آل پارٹیز کانفرنس میں تقریر کے بعد حکومت سیاست کے بجائے ذاتیات پر آتر آئی ہے اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جا رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سابق گورنر سندھ محمد زبیر کو پارٹی کے قائد نواز شریف اور نائب مریم نواز کا ترجمان مقرر کردیا ہے۔  کراچی میں بحیثیت ترجمان پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹگ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ بھرپور جدوجہد ہو گی جو جلسوں اور پریس کانفرنس  میں نظر آئے گی۔

انہوں نے ترجمان مقرر کرنے پر پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے روز تین سے چار پریس کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ 20 ستمبر کو شروع ہوا تھا جب میاں نواز شریف نے اے پی سی کے پلیٹ فارم سے تقریر کی تھی۔ وہ تقریر ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہلچل مچ گئی۔ عوام کو اُمید کی کرن نظر آئی کہ میاں نواز شریف سیاسی سرگرمیوں میں فعال ہو گئے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا کہ اس دن کے بعد حکومت، وزیر اعظم عمران خان، ان کے وزرا اور ترجمان بہت پریشان ہوں گے۔ لیکن اتنا پریشان ہوں گے کہ سیاست چھوڑ کر ذاتیات پر آئیں گے، یہ ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ خوف سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور ہمارا آدھا کام ہو چکا ہے۔ روز حکومت کی جانب سے تین سے چار پریس کانفرنس ہوتی ہے لیکن کسی بھی معاملے پر عوام کے مسائل حل کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ پچھلے پندرہ روز میں مہنگائی، بے روزگاری پر ایک بھی بات نہیں کی گئی۔ کوئی بھی عوام کے اصل مسائل پر بات نہیں کرتا۔

محمد زبیر نے کہا کہ ہم چاہتے کہ ناقدین اور مخالفین نواز شریف کی تقریر کے سیاسی پہلوؤں پر ردعمل دیں اور تنقید بھی کریں کیونکہ یہ جمہوری ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم انٹرویو دیتے ہیں تو اس میں بھی وہ ذاتیات پر آجاتے ہیں۔ ہم سمجھے تھے کہ 15-20 سال پہلے پاکستان میں ایک ماحول آیا تھا جس میں غداری کا سرٹیفکیٹ نہیں بانٹا جانتا تھا۔ ہم نے 40-50 سال تجربہ کرکے دیکھ لیا جس میں غفار خان، جی ایم سید، فاطمہ جناح سمیت پتا نہیں کس کس کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ فاطمہ جناح، قائد اعظم کی بہن تھیں ان کو بھی غدار کہا گیا۔ جب فاطمہ جناح کو نہیں بخشا تو ہمیں بھی نہیں بخشیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیاست کا طریقہ نہیں ہے۔ ہمیں عمران خان سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہم نے کبھی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ نہیں بانٹے۔ یہ کہتے ہیں میاں نواز شریف سے لندن میں تین بھارتی ملے۔ نواز شریف کے ساتھ 22 کروڑ پاکستانی ہیں۔ جس کے ساتھ 22 کروڑ پاکستانی ہوں، اسے تین بھارتیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیں اتناہی عزیز ہے جتنا کسی جنرل، کسی صحافی، کسی بیور کریٹ کو ہے۔ ہمارے بھی دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، ہمیں نہ بتایا جائے کہ نواز شریف کس سے ملے تھے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اس طرح کی سیاست کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز گل، شیخ رشید اور دیگر ترجمانوں نے کہا کہ 10 یا 11 بھارتیوں نے مریم نواز سے پچھلے دنوں ملاقات کی۔ مجھے یہ بتائیں کہ اس ملک میں 10-11 بھارتی دندناتے پھر رہے ہیں اور کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کیسے ملک میں آگئے۔  یہ بتایا جائے کہ شہباز گل اور شیخ رشید کو یہ کس نے خبر دی ہے۔ جب آپ کے پاس سیاسی میدان میں لڑنے کے لیے دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو آپ اس طرح کی گری ہوئی باتیں کرتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کی مرکزی ترجمان اور سینٹرل انفارمیشن سیکٹری کی سربراہی میں اسپوکس پرسنز کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ پانچ رکنی اسپوکس پرسنز کمیٹی میں ڈاکٹر مصدق ملک، محسن رانجھا، طلال چوہدری، عظمی بخاری اور عطااللہ تارڑ شامل ہیں۔