اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست خارج کردی
- سوموار 05 / اکتوبر / 2020
- 4900
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی مواد سے متعلقہ معاملات عدالتوں میں لانا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح کی درخواستوں کے لیے متبادل فورم موجود ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار مطمئن نہیں کر سکا کہ اس کے کون سے حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کمزور نہیں ہے اور نہ اسے سیاسی بیان بازی سےخطرہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کا انحصار عدالت کی طرف سے رٹ جاری کرنے پر نہیں ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو خطرات کےخدشات درخواست گزار کی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں۔ سیاسی نوعیت کی پٹیشنز نظام انصاف اور عدالتوں کو متنازع بناتی ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کی درخواست کی سماعت سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔
عدالت عالیہ میں شہری عامر عزیز کی دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی تقاریر ٹی وی پر دکھانے سے روکا جائے۔ درخواست میں سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، چیئرمین پیمرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست کے مطابق نواز شریف نے حالیہ تقاریر میں ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ ان کی تقاریر کے باعث ملکی اداروں کا وقار مجروح ہوا ہے۔