نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا
- سوموار 05 / اکتوبر / 2020
- 5550
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مجرمانہ سازش، بغاوت اور لوگوں کو اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مریم نواز سمیت دیگر لیگی قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی متعدد دفعات تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ خیال رہے کہ 20 ستمبر 2020 کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے طویل عرصے بعد خاموشی کو توڑتے ہوئے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت اور اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 کے انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔
اس کے بعد بھی نواز شریف کئی دفعہ اپنی تقاریر میں حکومت، فوج اور پاکستان کے دیگر اداروں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ مذکورہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف پاکستان کی عدالتوں سے سزا یافتہ ہے اور ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے بنیادی انسانی حقوق کی وجہ سے انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق تاہم اب سزا یافتہ نواز شریف علاج کروانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کے خطابات میں بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کئے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے۔
تھانے میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی تقاریر کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا ہے۔ نواز شریف کے آل پارٹیز کانفرنس، مسلم لیگ کی سینٹرل ورکرز کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطبات میں شریک رہنماؤں راجا ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، جنرل (ر) عبدالقیوم، سلیم ضیا، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، مریم نواز شریف، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چوہدری نے تقاریر کی تائید کی۔
ایف آئی آر کے مطابق سردار یعقوب نثار، نوابزدہ چنگیز مری، مفتاح اسمٰعیل، طارق فزاق چوہدری، محمد زبیر، عبدالقادر بلوچ، فاطمہ خواجہ، مرتضیٰ جاوید عباسی، مہتاب عباسی، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطا للہ تارڑ، چوہدری برجیس طاہر، چوہدری محمد جعفر اقبال، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ درانی، دانیال عزیز سمیت ویڈیو لنک پر شریک رہنماؤں راجا فاروق حیدر، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام، عرفان صدیقی و دیگر نے نواز شریف کی تقاریر کو سن کر اس کی تائید کی۔
مختلف دفعات کے تحت درج مقدمے کے مطابق نواز شریف نیب قوانین کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور نواز شریف کا مقصد میڈیا پر براہ راست پاکستان کے مقتدر اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور عوام بالخصوص اپنے پارٹی اراکین کو اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے۔ وہ لندن سے بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ عوام ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کریں اور ملک میں آگ و خون کا کھیل کھیلا جاسکے۔
مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کی اس طرح کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضے کی کارروائیوں اور مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔ اس سے بالواسطہ طور پر پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے اپنے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فائدہ پہنچایا جاسکے اور عالمی برادری میں پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مریم نواز شریف و دیگر مندرجہ بالا مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا نواز شریف کی تقاریر کی تائید کرنا قانون کی گرفت میں آتا ہے۔ لہٰذا نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے خلاف تعزیرات پاکستان اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔