کاراباخ میں غیر مشروط جنگ بندی کی اپیل

  • منگل 06 / اکتوبر / 2020
  • 4630

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورونو کاراباخ  میں جاری جھڑپوں کے دوران شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور روس نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں سے غیر مشروط جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

کاباراخ کی علیحدگی پسند فورسز کا کہنا ہے کہ دارالحکومت اسٹیپاناکرٹ میں آذربائیجان کی جانب سے دوبارہ بھاری ہتھیاروں سے گولے باری کی جا رہی ہے۔  تاہم آذربائیجان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی فورسز شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں اور ملک کے دوسرے بڑے شہر گانجا پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔  دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے کے اقدام نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ستائیس ستمبر سے جاری ان جھڑپوں میں اب تک 260 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پیر کی شب امریکہ، روس اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپوں کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملک فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی پر عمل درآمد کریں۔  تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ کشیدگی میں اضافہ اور مبینہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور یہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی کی پیش کش کو قبول کریں۔  آذربائیجان اور آرمینیا نے اب تک جنگ بندی پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ اس سے قبل کاراباخ کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ انہوں نے جنگی حکمتِ عملی کے تحت اپنے جنگجوؤں کو لڑائی کے مقام سے پیچھے بلا لیا ہے جب کہ آذربائیجان نے دعویٰ کیا ہے کہ علیحدگی پسند فوجی اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے آرمینین وزیرِ اعظم نکول پشنیان سے رابطہ کیا اور تنازع پر بات چیت کی۔  دونوں رہنماؤں نے جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں پر تشویش اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

ناگورنو کاراباخ سوویت یونین کا ایک خود مختار علاقہ تھا۔ لیکن اسّی کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آرمینیا سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں خونی جنگ کے بعد ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔ آرمینی اکثریت والے اس علاقے نے 1988 میں آزادی کا اعلان کر دیا تھا جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی، جو چھ سال جاری رہی۔

یہ جنگ 1994 میں ختم ہوئی اور اس کے بعد بین الاقوامی برادری کی امن قائم کرنے کی کوششیں بارہا ناکام رہی ہیں۔ نوے کے عشرے سے جاری اس تنازع میں اب تک تیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ تجزیہ کار دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ لڑائی کو گزشتہ دو دہائیوں کی سب سے زہادہ شدید لڑائی قرار دے رہے ہیں۔