اپوزیشن کے خلاف مقدمات قائم نہ کرنے پر وزیر اعظم ناراض ہوگئے: سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے

  • منگل 06 / اکتوبر / 2020
  • 8860

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ خاتون اول کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کی وجہ سے انہیں مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت ملی تھی۔

صحافی مطیع اللہ جان کو ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت ان کے اہلخانہ اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔  انہوں نے کہا کہ مجھے لاہور بھیجا گیا جہاں مجھے مواد دیا گیا لیکن میں نے کہا کہ یہ صوبائی اینٹی کرپشن کا کام ہے۔  ایف آئی اے اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم عمران خان آپ سے کیا چاہتے تھے جو آپ پورا نہیں کررہے تھے جس پر بشیر میمن نے جواب دیا کہ ’جو جو نیب نے کیا وہی‘۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے درمیان میں آنے سے مجھ پر دباؤ دور ہوگیا۔ وہ میرے ’محسن‘ ہیں کیوں کہ اب نیب کے مقدمات پر عدالتی فیصلوں کو سن کر میں سوچتا ہوں کہ خدا نے میری عزت بچانی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ’مجھے پاکستان کے سب سے اعلیٰ دفتر میں بلا کر سوشل میڈیا پر خاتون اول کی تصویر جاری ہونے کی وجہ سے مریم نواز کے سوشل میڈیا کے سیل پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی۔ لیکن میں نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ اس پر کس قانون کے تحت دہشت گردی کا مقدمہ ہوسکتا ہے‘۔

خواجہ آصف کے کیس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بشیر میمن نے بتایا کہ وہ وزیر دفاع تھے اور دبئی کی ایک کمپنی سے تنخواہ حاصل کرنے پر آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا پرچہ کروانے کا کہا گیا۔ جس کی انکوائری کرنے کا حکم کابینہ نے دیا تھا تاہم ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے عمرے پر جانے کے لیے چھٹی لی ہوئی تھی۔ اس سے 2 روز قبل مجھے وزیراعظم کے دفتر میں بلایا گیا جہاں ان کے پرنسپل سیکریٹری موجود تھے جبکہ میں اپنے ساتھ اپنے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو لے کر گیا تھا۔ اجلاس میں کے الیکٹرک کی بدحالی پر بات ہوئی جس پر میں نے کہا کہ کے الیکٹرک پر سوئی سدرن کے 87 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ لیکن کہا گیا کہ ابراج گروپ تباہ ہوگیا ہے۔ ایف آئی اے نے ان کے خلاف تحقیقات کرکے بہت غلط کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وزیراعظم کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے کے الیکٹرک کا کئی مرتبہ ذکر کیا اور کہا کہ آپ نے اسے تباہ کردیا۔ وزیراعظم کی ناراضی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق ڈی جی ایف آئی اے نے تائید کی کہ مسلم لیگ (ن) بالخصوص شریف خاندان کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ آپ نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا۔ لیکن میں نے انہیں جواب دیا کہ اس قسم کے مقدمات کے لیے نیب ہے، ان سے کروالیں۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایک نوٹس دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے ایوان میں خاصی تنقید کی تھی۔ چنانچہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بلا کر کہا کہ آپ نے انہیں نوٹس دیا ہے وہ ہمیں ہاؤس نہیں چلانے دیتے۔ جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ سر نوٹس دینا ہمارا کام ہے، ایوان چلانا آپ کا کام ہے۔ اس پر وہ ناراض ہونے کے بجائے خاصے خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہاں سننے کے عادی ہوجاتے ہیں اور آپ جیسے افسروں کو ڈھونڈتے نہیں ہیں۔ لیکن اگر آپ جیسے افسر پاکستان کو مل جائیں تو پاکستان ترقی کرے۔

موجودہ وزیراعظم سے ہونے والی آخری ملاقات کے بارے میں بشیر میمن نے بتایا کہ وہ خواجہ آصف، مریم نواز، اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر خاصے جذباتی تھے۔ لیکن میں نے انہیں کہا کہ میری ملازمت کے 3 ماہ باقی ہیں اور 22 گریڈ سے بڑا گریڈ کوئی نہیں۔ اس لیے معاملات اسی طرح چلیں گے جیسے چل رہے ہیں۔

بشیر میمن نے کہا کہ 16 دسمبر کو مجھے ریٹائر ہونا تھا لیکن 2 دسمبر کو میرا تبادلہ کردیا گیا جو عموماً نہیں ہوتا لیکن اس سے قبل میں 3 سے ساڑھے 3 ماہ میں جبری چھٹی پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمرے پر جانے کے لیے چھٹی لی ہوئی تھی لیکن جب واپس آیا تو جس کی حکومت ہے اس نے مجھے 15 روز کی چھٹی پر بھیج دیا اور اس کے بعد ہر 15ویں روز چھٹی مل جاتی تھی۔ میں ایک طرح سے گھر میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔

 تاہم جب اگلے 15 روز کی چھٹی کی منظوری نہیں آئی تو میں نے اس وقت کے سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان سے پوچھا تو انہوں نے دفتر بلا لیا۔ بشیر میمن کے مطابق جب دوبارہ دفتر آیا تو تیسرے روز میرا تبادلہ کردیا گیا حالانکہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے میرے تبادلے پر حکم امتناع جاری کیا ہوا تھا۔ اس کے باوجود تبادلہ کردیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپوزیشن کے سیاست دانوں کے خلاف مقدمات درج کرنے سے متعلق اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سرکاری افسران اس طرح کی باتیں سننے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے کوئی حیرانی نہیں تھی۔ میرے خیال میں یہ بات کسی شخص کی نہیں بلکہ کرسی کی طاقت کی ہے‘۔

صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قانون کے استعمال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے ایک آلہ رہی ہے کہ جس کو چاہو پکڑ لو۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے قبل سیکریٹری داخلہ کی طرف سے سعودی ولی عہد کے خلاف ٹوئٹر پر تصاویر لگانے والے صحافیوں کے حوالے سے معاملہ آیا تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ مناسب نہیں رہے گا، دوسرے یا تیسرے دن شیریں مزاری نے مجھ سے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بعد میں معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایک بار صحافی احمد نورانی کی جانب سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے خلاف ٹوئٹ کی گئی جس پر وزیر داخلہ نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ میں نے انہیں بتایا یہ قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے اور انہیں کارروائی کے لیے قانونی طریقہ بتایا کہ آپ کو عدالت جانا پڑے گا۔ جس پر اعجاز شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کیوں عدالت جاؤں، صحافی کی ٹانگیں توڑ دو۔ میری طرف سے وضاحت کے بعد انہوں نے مجھے کبھی طلب نہیں کیا۔

اصغر خان کیس کی تحقیقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں نے جو آخری رپورٹ جمع کرائی تھی اس میں لکھا تھا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کس نے پیسے دیے، کب اور کس کو دیے۔ ثبوت نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جس نے پیسے بانٹے وہ پاکستان سے بھاگ گیا تھا‘۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے کیس میں تحقیقات سے متعلق ایف آئی اے کو خصوصی ہدایات کےبارے میں افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں آئیں، نہ کسی نے مقدمہ واپس لینے کا کہا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی تیاری کے حوالے سے بشیر میمن نے کہا کہ ’ریفرنس کی تیاری میں ایف آئی اے کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ایف آئی اے تحقیقات کر ہی نہیں سکتی‘۔