نئے انتخابات کا مطالبہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 06 / اکتوبر / 2020
- 7290
حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت بہت سے اہل دانش یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ سیاسی بحران کا حل نئے انتخابات کا راستہ ہے۔ اور نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سوچ اور فکر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں 2018کے انتخابات شفاف نہیں تھے۔
اس طبقہ کے بقول موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ مینڈیٹ ا سے اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کی وجہ سے ملا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سیاسی قوتوں سمیت اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ سے سیاسی بحران کی وجوہات یا محرکات کو سمجھنے کی بجائے قبل از وقت انتخابات ہی کو مسئلہ کا حل سمجھتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی کہ اس ملک میں ہر انتخابات کی حیثیت شفافیت پر مبنی نہیں سمجھی جاتی۔ کیونکہ جیتنے والے انتخابی نتائج کو شفافیت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں جبکہ ہارنے والی سیاسی جماعتیں اپنی شکست کو قبو ل کرنے کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے خود کو شفافیت کی سیاست کے ساتھ جوڑتی ہیں۔اسی سوچ اور فکر کی بنیاد پر ہارنے والی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کی قبولیت کی بجائے ’انتخابی دھاندلی‘ کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔یہ ہی حکمران جماعتیں جو مختلف ادوار میں اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہیں تو انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے نئی اصلاحات، الیکشن کمیشن کو خود مختاری اور اسے بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔سیاسی حکومتیں عمومی طور پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر انتخابی اداروں کو کمزور کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے یا نتائج کو تقویت دیتی ہیں۔اسٹیبلیشمنٹ کا کردار بھی انتخابی سیاست میں موجود ہے او رسیاسی جماعتیں ان ہی کی مدد سے اپنے لیے سیاسی اقتدار میں حصہ تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہوتی ہیں۔
عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی اور عوامی تحریک نے جب 2014میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنا اسلام آباد میں دیا تھا تو اس کے نتیجے میں دو پہلو سامنے آئے تھے۔ اول انتخابی دھاندلیوں کا جائزہ لینے کے لیے جو عدالتی کمیشن بنا اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیالیس ایسے نکات سامنے آئے تھے جو انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ سپریم کورٹ کے بقول حکومت او رالیکشن کمیشن ان بیالیس بے ضابطگیوں کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ اگلے انتخابات میں ان بے ضابطگیوں کا ازالہ ممکن ہوسکے۔ دوئم اس وقت کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے دھرنے کی وجہ سے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس میں دیگرجماعتوں سمیت پی ٹی آئی بھی شامل تھی۔ لیکن 2018کے انتخابات میں نہ تو ان بے ضابطگیوں پر قابو پایا جاسکا او رنہ ہی پارلیمانی کمیٹی کی منظوری سے بننے والی انتخابی اصلاحات کا کوئی نتیجہ نکل سکا۔
اس لیے حزب اختلاف کا یہ نیا نعرہ کہ ملک میں عمران خان کی حکومت کو ختم کرکے فوری طور پر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے بھی ایک جذباتی یا سیاسی مفاد پرستی کا نعرہ ہی ہے۔ کیونکہ اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ یہ سب جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لیں گی وہ ملک میں نئے انتخابات کے نتائج کو قبول کرلیں گی۔مثال کے طور پر آج کی حزب اختلاف یا حکمران جماعت جیت یا ہار کی صورت میں انتخابی نتائج کو قبول کرلیں گی؟اسی طرح اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ موجودہ الیکشن کمیشن یا اس سے جڑے ادارے ملک میں شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔اس لیے یہ امکان بدستور موجود رہے گا کہ جب بھی نئے انتخابات ہوں گے توہارنے والی جماعت انتخابی دھاندلی کا سیاسی نعرہ بلند کرکے پورے مینڈیٹ کو ہی چیلنج کردے گی۔
بدقسمتی سے ہمارے یہاں نہ تو سیاسی او رجمہوری کلچر یا روایت مضبوط ہوسکی او رنہ ہی آئینی، انتظامی او رقانونی بنیادوں پر ہم شفاف نظام کو یقینی بناسکیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے پوچھا جائے کہ جو انتخابات انہوں نے جیتے ہیں کیا وہ شفاف اور اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت سے پاک تھے تو ان کے بقول ایسا ہی تھا۔اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہماری سیاسی ڈکشنری میں شفاف انتخابات سے مراد محض انتخاب جیتنا ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت کے علاوہ خود سیاسی جماعتیں اپنے زور بازو کی بنیاد پر جہاں تک ہوسکتا ہے کہ انتخابی نظام میں دھاندلی نہ صرف کرتی ہیں بلکہ اپنے کارکنوں کی حمایت کرتی ہیں جو ان کے لیے ناجائز طور طریقے اختیار کرتے ہیں۔
اس لیے جو لوگ بھی اس وقت نئے انتخابات کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں وہ سیاسی بحران کو حل کرنا کم اور عمران خان کی حکومت یا جماعت سے زیادہ جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نئے انتخابات کی صورت میں ہی عمران خان سے جان چھوٹ سکتی ہے۔ان جماعتوں کے پاس کوئی ایسا منصوبہ یا متبادل نظام یا اس کا خاکہ موجود نہیں کہ کیسے ملک میں شفاف انتخابات ہوسکتے ہیں۔ بقول نواز شریف کے جب اس ملک میں انتخابات سے قبل ہی سیاسی نتائج تیار کرلیے جاتے ہیں اور اس میں بڑا کردار اسٹیبلیشمنٹ کا ہوتا ہے تو پھر یہ سارا کھیل نئے انتخابات کی صورت میں بھی تو قوم کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔اگر واقعی حزب اختلاف سیاسی بحران کو ختم کرنا چاہتی ہے اور ریاستی و ادارہ جاتی نظام کو آئینی اور سیاسی دائرہ کار میں چلانا چاہتی ہے تو اس کے لیے اس کا مطالبہ نئے انتخابات نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پروگرام ہونا چاہیے۔
حزب اختلاف اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے جو ایجنڈا رکھتی ہے وہ قوم کے سامنے پیش کرے اور اسے ایک بڑے سیاسی مکالمہ کے ساتھ جوڑے۔ اس وقت ہمیں چھ بنیادی نوعیت کے مسائل درپیش ہیں۔ اول شفاف انتخابات کیسے ہوں، دوئم حکمرانی کا سنگین نوعیت کا بحران، سوئم معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی خوفناک سطح کی مہنگائی،چہارم کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست اور احتساب کا فقدان،پنجم ادارو ں کی اصلاحات جس میں بیوروکریسی، ایف بی آر، پولیس اور انتظامی سطح سے جڑے ادارے، ششم اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو محدود کرنا اور سول بالادستی کا قیام شامل ہیں۔ اسی طرح سے خارجی سطح پر کامیاب حکمت عملی درکار ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں حکومت اور حزب اختلاف میں بداعتمادی کا ماحول ہے او رکوئی ایک دوسرے کے وجود کو قبو ل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں مکالمہ، اصلاحات اور ملک کی اصلاح کا ایجنڈا بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔اس لیے نئے انتخابات کے مطالبہ سے زیادہ ہماری ضرورت ملک کے سیاسی او رانتظامی نظام میں اصلاحات کا عمل ہے۔