چین کے اثر و نفوذ کے خلاف امریکہ، جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کا اجلاس

  • بدھ 07 / اکتوبر / 2020
  • 8250

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے  چین کے استحصال، جبر اور کرپشن پر تنقید کی ہے۔ وہ منگل کو جاپان میں منعقدہ ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک تھے۔

امریکہ، جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں اور امریکہ ان رہنماؤں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا مقابلہ کریں گے۔ سفارتی حلقوں میں چار ملکوں کے اس اشتراک کو ’کوایڈ‘ یعنی چار فریقی اتحاد کہا جاتا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کوایڈ میں شراکت دار ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے لوگوں اور شراکت داروں کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے استحصال، کرپشن اور جبر سے بچانا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کے بعد مائیک پومپیو کو اپنا دورہ مختصر کرنا پڑ رہا ہے۔ اجلاس سے پہلے پومپیو نے تینوں وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقات بھی کی۔ قبل ازیں منگل کو جاپانی میڈیا اداروں سے بات کرتے ہوئے پومپیو نے کو ایڈ کا تعارف کرایا۔ چین کو ایڈ کو اپنی ترقی  کے خلاف اشتراک قرار دیتا ہے۔

پومپیو نے نائیکی ایشئین ریویو سے بات کرتے ہوئے کوایڈ کو ایک ایسا علاقائی گروپ قرار دیا جو چین کی کمیونسٹ پارٹی سے گروپ کے تمام ارکان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ پومپیو کا کہنا تھا کہ  یہ گروپ جب ایک تنظیم کی شکل اختیار کر جائے گا تو چاروں ملک مل کر سیکیورٹی سے متعلق ایک درست بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے کی جانب بڑھیں گے۔  دیگر ممالک بھی درست وقت پر کو ایڈ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ برسوں سے اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں کو چین کے خلاف ایک ٹھوس اشتراک تشکیل دینے پر قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم یہ کاوشیں چین کی معاشی قوت کی وجہ سے درست سمت اختیار نہیں کر سکی تھیں۔ امریکہ چین کو خطے میں استحکام کے خلاف ایک بڑھتا ہوا خطرہ گردانتا ہے۔

جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے چین کے ساتھ اہم معاشی تعلقات ہیں۔ تینوں ملک اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ یہ چار کا گروپ چین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا منصوبہ ہے۔ گروپ میں شامل ارکان کا موقف ہے کہ یہ ہم خیال جمہوریتوں کا سیکیورٹی میکانزم سے متعلق ایک مشاورتی گروپ ہے۔

منگل کے روز تینوں ملکوں نے چین پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔ اجلاس کے بعد کسی مشترکہ اعلامیہ کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ ہر ملک کی جانب سے اپنا الگ الگ بیان جاری ہونے کی توقع ہے۔