حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں، بتایا جائے کہاں ملتا ہے: شاہد خاقان عباسی

  • بدھ 07 / اکتوبر / 2020
  • 6590

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے؟ ملک کا وزیراعظم رہنے کے بعد اب میں بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 16 مشیر، معاون خصوصی اور کرایے کے ترجمان جو چند روز پہلے تک کہہ رہے تھے کہ فلاں غدار ہے، وہ آج نظر نہیں آتے بلکہ اب نئی کہانی یہ سامنے آئی کہ وزیراعظم کو مقدمے کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے معلوم ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وزیراعظم کو معلوم نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہوگئی ہے، غربت بڑھتی جارہی ہے، بے روزگاری عام ہوگئی ہے، معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ گزشتہ 2 سال میں انہوں نے اتنے قرضے لے لیے کہ جو گزشتہ 10 سال کے عرصے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومتوں نے مل کر بھی نہیں لیے تھے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 4 دن وزرا غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے، اب مقدمہ درج ہوگیا ہے۔  ہم نے دنیا کے سامنے رکھا کہ آزاد کشمیر کا وزیراعظم بھارتی ایجنٹ ہے اور اس پر مقدمہ درج کردیا تو آپ کشمیر کا مقدمہ دنیا میں کیسے لڑیں گے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے 2 سابق وزیراعظم، وزیر دفاع، وفاقی وزرا، اسپیکر، وزیراعلیٰ کے علاوہ 3 ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرلز جو انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے اور ان کی قابلیت کا پورا ملک اعتراف کرتا ہے، آج وہ بھی غدار ٹھہرے یہ اس ملک کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے؟ وزیراعظم رہنے کے بعد میں بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ غداری کا الزام تو آپ نے لگا دیا ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ کوئی بھی وفاقی وزیر عوام کی مشکلات پر بات نہیں کرتا، عوام کی تکالیف، پاکستان کے مسائل کی بات نہیں کرتا بلکہ صرف غداری کے الزام لگاتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما  نے کہا کہ غدار وہ ہوتے ہیں جو بھارت کو فائدہ پہنچاتے، کشمیر کا سودا کرتے، سی پیک بند کرتے، ملکی معیشت تباہ کرتے، جو عوام کو مشکل میں ڈالتے ہیں، آج غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹیں۔ عوام کی مشکلات حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حب الوطنی کے اعلامیے جاری کرنے کے لیے نہیں بنی بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مقدمات پاکستان میں پہلے بھی بن چکے ہیں لیکن اس سطح کے نہیں بنے کہ جس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بھی شامل کرلیا، جن لوگوں نے اہم ترین عہدوں پر رہ کر ملک کی خدمت کی انہیں بھی بغیر ثبوت کے شامل کیا لیکن وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزرا کو علم نہیں ہے۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق پاکستان کا وہ سب سے فرض شناس ایس ایچ او ہے جس نے رات کی تاریکی دیکھی نہ قانون دیکھا اور ایک شخص نے آکر کہا کہ میں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور سابق وزرا کے خلاف پرچہ درج کروانا چاہتا ہوں اور اس نے رات کے 2 بج کر 25 منٹ پر مقدمہ درج کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ اب میں بھی ایک مقدمہ درج کروانا چاہتا ہوں عمران خان کے خلاف کیوں کہ میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے ٹی وی پر کہا کہ وزیراعظم نے مجھے بلا کر نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور دیگر پر مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق جس آدمی کی ذہنی کیفیت یہ ہو کہ اسے اپنے آئینی حلف کی پرواہ نہ ہو، آئین کی دفعہ 62،63 اور اپنے عہدے کی بھی پرواہ نہ ہو اور پھر وہ قانون کو بالاتر رکھتے ہوئے ایک افسر کو کہے کہ جھوٹے پرچے بناؤ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مقدمہ بھی عمران خان کی ہدایت پر درج ہوا اور وفاقی وزرا جتنے بہانے بنالیں اس سب کے پیچھے عمران خان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے کی باتوں نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارا وزیراعظم سارا وقت اپوزیشن کو دبانے کے بارے میں سوچتا ہے۔ کیا ان پرچوں سے عوام کی تکلیف دور ہوئی؟ ہم پرچوں سے نہیں گھبراتے، وزرا مدعی بنیں اور گرفتار کرکے عوام کے سامنے کھلی عدالت میں مقدمہ چلائیں۔

واضح رہے کہ ایک شہری بدر رشید کی شکایت پر لاہور کے شاہدرہ تھانے نے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے متعدد دیگر رہنماؤں کے خلاف ملک دشمنی کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی تھی۔