امریکی صدر سے رابطے میں رہنے والے متعدد سول و ملٹری عہدے دار کورونا کا شکار
- بدھ 07 / اکتوبر / 2020
- 4970
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کے معاون سٹیفن مِلر اور اعلیٰ فوجی عہدے دار میں بھی کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔
سٹیفن مِلر گذشتہ پانچ دن سے خود ساختہ تنہائی اختیار کیے ہوئے تھے اور انہوں نے منگل کو تصدیق کی کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کے جنرل مارک ملی اور کوسٹ گارڈ کے سربراہ ایڈمرل چارلس رے میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سے وہ بھی قرنطینہ میں ہیں۔ اس کے بعد فوج کے دیگر افسران بھی احتیاطی طور پر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جولائی میں سٹیفن مِلر کی دادی روتھ گلوسر، جن کی عمر 79 برس تھی، کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد جانبر نہیں ہو سکی تھیں۔ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ان کی ہلاکت کی وجہ کوونا نہیں بلکہ وہ ادھیڑ عمری کے باعث اپنے گھر میں پرسکون نیند کے دوران چل بسیں۔
کیٹی مِلر جو کہ نائب صدر مائیک پینس کی ترجمان بھی ہیں، رواں برس مئی میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئی تھیں تاہم وہ اب صحت یاب ہو چکی ہیں۔ سٹیفن مِلر صدر ٹرمپ کی تقاریر لکھتے ہیں اور وہ امیگریشن کے حوالے سے قوانین پر اپنے سخت موقف کے لیے مشہور ہیں۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے نائب کمانڈنٹ ایڈمرل رے نے کہا ہے کہ انہیں بہت ہلکی علامات محسوس ہو رہی ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جن افسران نے ایڈمرل رے کے ساتھ ملاقات کی تھی وہ بھی اب قرنطینہ میں ہیں تاہم ابھی کسی میں کورونا کی تصدیق نہیں ہوئی نہ ہی ان میں کوئی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔
حکام کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا گیا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ ایڈمرل رے میں کورونا وائرس کی منتقلی کیسے ہوئی ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں دس روز پہلے شرکت کی تھی لیکن یہ معلوم نہیں کہ انہیں یہ وائرس اس تقریب میں لگا یا کہیں اور سے۔ حالیہ دونوں میں صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس میں موجود دیگر حکام میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈمرل رے میں پیر کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور ابھی وہ اپنے گھر میں قرنطینیہ میں ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے ساتھ جو بھی اہلکار قریبی رابطے میں تھے انہوں نے بھی خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
سی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ایڈمرل رے کے ساتھ ملاقات کرنے والے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے تقریباً تمام ممبران جو کہ صدر کے معاون کاروں پر مشتمل سینیئر فوجی افسران ہیں بھی قرنطینہ میں ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ملی کے علاوہ قرنطینہ میں جانے والوں میں نائب چیف آف سٹاف، آرمی چیف آف سٹاف، چیف آف نیول آپریشن، ائیر فورس چیف آف سٹاف، سائبر کام کمانڈر، خلا سے متعلق فورس کے چیف، چیف برائے نیشنل گارڈ اور سمندری امور سے متعلق نائب کمانڈنٹ شامل ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کی ’آپریشنل تیاریوں یا مشن کی صلاحیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سینئر ملٹری سربراہان اب بھی اپنی ڈیوٹی ایک متبادل جگہ سے سرانجام دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سے سینئر ریپبلکنز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، معاون ہوپ ہکس اور متعدد رپبلکن سینیٹرز شامل ہیں۔ پریس سیکریٹری کیلی میکینے میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے پیر کو اس حوالے سے بتایا۔ اس کے علاوہ پریس آفس کے تین اور ارکان میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔