حسین فاروق کی داستان الم؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 07 / اکتوبر / 2020
- 9380
مولانا مودودی مرحوم کے ساتھ درویش کی جتنی قربت تھی، گزرتے ہر لمحے کے ساتھ اس میں فرق آتا چلا گیا اور موقع ملنے پر پوری داستان وصل و ہجر رقم کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ برادر محترم شعیب بن عزیز نے کافی مدت قبل یہ تقاضا کیا کہ سید حسین فاروق مودودی کی کتاب آفتاب علم و عرفان پر ایک بھرپور کالم لکھیں۔
حسین فاروق صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اس مقصد کے تحت انہوں نے اپنی کتاب بھی قدرناشناس کو بروقت پہنچا دی مگر وعدہ کیا کہ ستمبر میں لکھوں گا جب 22کو ان کی برسی اور25کو ان کی سالگرہ منائی جا رہی ہو گی۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ مولانا صاحب کی تحریروں سے جس نوع کی اسلامی ذہنیت تیار ہوئی، اس کے ساتھ برسی یا سالگرہ دونوںکوئی فالتو قسم کی چیزیں لگتی ہیں، جنہیں منانے کا کوئی شرعی جواز نہ تھا۔ جمعیت کی ہم سفری میں اکثر یہ بحث ہوتی کہ ہمارے آقا نے اپنی پوری زندگی میں کیا کبھی ایک بار بھی اپنی سالگرہ یا اپنے بزرگوں کی کوئی برسی منائی؟ یا آپ کے بعد آپ کے صحابہؓ نے کبھی کہیں اس نوعیت کا کوئی اہتمام کیا؟
اس ذہنی افتاد یا ساخت کے ساتھ جب یہ پڑھا کہ حضرت مولانا مودودی نے بغرض علاج امریکا روانہ ہونے سے قبل اپنی وطن واپسی کے متعلق یہ بیان دیا کہ میں اپنا برتھ ڈے (یعنی 25 ستمبر) واپس لاہور آ کر مناﺅں گا تو ایک دم حیرت ہوئی کہ کیا مولانا صاحب روایتی شرعی ڈگر سے ہٹ کر اپنا برتھ ڈے بھی مناتے تھے ؟ اب اصل بات پر آتے ہیں مولانا صاحب کے صاحبزادے حسین فاروق نے اپنے والد محترم پر جو کتاب لکھی ہے اس پر اگر سچائی کے ساتھ جائزہ پیش کریں تو کم از کم ہمارے ادارے والے اسے چھاپنے سے فوری معذرت کر لیں گے کیونکہ وہ جماعت یا جمعیت والوں کی ناراضی کسی صورت افورڈ نہیں کر سکتے ۔ کاش وطن عزیز میں کبھی سماجی، سیاسی اور مذہبی گھٹن میں کچھ کمی آئے تو ہم اپنے سماج کو 80 فیصد جھوٹ کی بجائے 80 فیصد سچ بتانے کے قابل ہو سکیں۔
درویش کو خوشی ہے کہ حسین فاروق مودودی نے بڑی جرات اور حوصلے کے ساتھ کم از کم ففٹی پرسنٹ سچ لکھ ڈالا ہے۔ جبکہ لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کہ خداوند سید حیدر فاروق مودودی کو سلامت رکھے، وہ کبھی بقیہ ففٹی پرسنٹ سچ بھی اسی حوصلے کے ساتھ تحریر فرما دیں تاکہ سند رہے۔ اور آنے والی نسلوں کے کام آئے ۔ کہنے کو بہت کچھ ہو تو انسان مشکل میں پڑ جاتا ہے کہ کون سی بات کہے اور کون سی سنسر کردے۔ درویش اکثر اوقات اپنا کالم طے شدہ الفاظ سے زیادہ کر جاتا ہے تاکہ کاٹنے والوں کو بھی کچھ مواد مل جائے اور اپنی علت کو پورا کرنے سے ان کی روح کو بھی کچھ نہ کچھ شانتی ملے ۔ سید حسین فاروق مودودی کی 230 صفحات پر محیط زیر نظر کتاب کا مواد جیسا متنازعہ بھی ہے ، جلد بندی اور اعلیٰ کوالٹی کا کاغذ خوبصورت تصاویر کے ساتھ بلاشبہ جاذب نظر ہے جسے ترجمان القرآن پبلی کیشنز نے پورے اہتمام کے ساتھ 5 اے ذیلدار پارک اچھرہ سے چھاپ کر قیمت بھی ہزار روپے رکھی ہے۔ لیکن جو خواتین و حضرات مولانا صاحب کی فیملی اور فرینڈز کے تنازعات کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے شاید یہ قیمت کچھ معنی نہ رکھتی ہو۔
مولانا مودودی ایک زمانے میں احباب کے نکاح بھی پڑھایا کرتے تھے پروفیسر ڈاکٹر ریاض قدیر بھی ان میں سے ایک تھے ۔ بعد ازاں وہ ازراہ تفنن فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ڈاکٹر ریاض قدیر کا جو نکاح پڑھایا تھا اس کی فیس میں نے بعد میں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی حاصل کرتے ہوئے وصول کر لی ہے ۔ سید حسین فاروق انہی ڈاکٹر ریاض قدیر کے داماد ہیں۔ اور 1986سے اپنی اہلیہ ڈاکٹر فرزانہ فاطمہ قدیر اور بچوں کے ہمراہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں آباد ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر احمد فاروق مودودی تو ان سے بھی بہت پہلے مولانا مودودی کی زندگی میں ہی امریکا آباد ہو گئے تھے۔ اور مولانا انہی کے کہنے پر 1979میں علاج کیلئے امریکا تشریف لائے اور امریکی ریاست بغلومیں ان کی وفات ہوئی۔
واضح رہے کہ مولانا کے 6 بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جو ماشائاللہ سبھی بقید حیات ہیں۔ لیکن شہرت سب سے زیادہ سید حیدر فاروق مودودی نے کمائی ہے جو اپنی سچائی و صافگوئی کی بدولت ہمیشہ دوطرفہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں وہ کورونا کی گرفت میں آ کر خاصے بیمار ہو گئے تھے، یوں قدرت نے انہیں نئی زندگی بخشی ہے ۔ درویش ان کی تیمار داری کیلئے گیا تو اتنی محبت و اپنائیت سے پیش آئے اور مشکل ترین موضوعات پر ایسی مدلل گفتگو فرمائی کہ گویا وہ بیمار تھے ہی نہیں۔
سید حسین فاروق نے اپنی کتاب میں مولانا کی حیات و افکار کے علاوہ جماعت کی قیادت سے ان کے اختلافات اور تنازعات پر بھی کھل کر اظہار خیال فرمایا ہے۔ اور یہاں تک لکھ دیا ہے کہ ”جماعت کے ایک لیڈر نے ان سے کہا کہ آپ فتنہ اولاد میں مبتلا ہو گئے ہیں“۔ اولاد اور احباب کے مالی تنازعات اور اس سلسلے میں ہونے والی خط و کتابت کی دستاویزات بھی کتاب ہذا میں شامل ہیں۔ اور دلچسپی رکھنے والوں کیلئے چشم کشا ہیں۔ اپنی کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے سید حسین فاروق خود رقمطراز ہیں کہ ”جو لوگ موجودہ جماعت اسلامی کی اخلاقی و سیاسی حیثیت میں انحطاط و زوال دیکھ کر کڑھتے ہیں، ان کی سوالیہ نگاہیں حقیقت جاننا چاہتی ہیں لیکن جماعت کی جانب سے ان کو کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ جو ان کی تمام گتھیاں سلجھا کر ان کی تشفی کر سکے ۔جماعت اسلامی کے غیر واضح، مبہم، الجھے ہوئے اور غیر متوازن لائحہ عمل کے باعث ہمارے والد کی فکر پر تنقید بلکہ طعن و تشنیع ہوتی ہے جو قطعی مناسب نہیں۔ ذمہ دار موجودہ جماعت اور مورد الزام مولانا مرحوم کیوں؟ اگرچہ راقم الحروف نہ ادیب ہے نہ مورخ اور نہ وقائع نویس مگر مولانا مودودی کے خاندان کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے بیشتر واقعات کا عینی شاہد ضرور ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے احباب کا مسلسل اصرار اور شدید دباؤ آخر کار مجھے یہ تاریخی داستان الم لکھنے پر آمادہ کر سکا ہے“ ۔
علامہ شبلی نعمانی نے ساری زندگی جس جانفشانی کے ساتھ مقدسات کے متعلق بہت کچھ لکھا اور جس عظمت رفتہ کے گیت گائے، آخر عمر فرمایا کہ میں نے جھک ماری۔ تعلی بازوں کی تعلی مزید بڑھا کر میں نے کونسی اچھائی کی۔ اسی طرح ایک شخصیت جس نے اتنے ہنگامے اٹھا کر خطے کا جغرافیہ بدلا آخر عمر فرمایا مجھے ماقبل معلوم ہوتا کہ اس ساری توڑ پھوڑ کا نتیجہ یہی کچھ نکلنا ہے تو میں کبھی یہ سب نہ کرتا۔ کچھ اسی نوع کی سوچ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مولانا صاحب کے حوالے سے ابھرتی ہے ۔ صفحہ 182 پر یہ الفاظ درج ہیں کہ ”میری زندگی بھر کی تربیت، سارے کام اور محنت پر پانی پھیر دیا گیا ہے“ ۔