آذربائیجان اور آرمینیا کا تنازعہ علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے: ایرانی صدر

  • جمعرات 08 / اکتوبر / 2020
  • 7130

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری لڑائی وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ خطے میں ’استحکام کی بحالی‘ کی امید رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔ حالیہ برسوں میں ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پُرتشدد کارروائیوں کے الزامات لگائے ہیں۔

بدھ کے روز صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’ہمیں اس حوالے سے دھیان دینا چاہیے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ علاقائی جنگ نہ بن جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ امن ہمارے ہر عمل کی بنیاد ہے اور ہم خطے میں پُرامن طریقے سے استحکام کی بحالی کی امید رکھتے ہیں۔  حسن روحانی کا یہ بیان ایران کے ساتھ آرمینیا اور آذربائیجان کی شمالی سرحد کے دیہاتوں میں گولہ باری کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔  صدر روحانی نے کہا کہ ’ہماری اولین ترجیح ہمارے شہروں اور دیہاتوں کا تحفظ ہے۔‘

ایران کے سرحدی محافظوں کے کمانڈر قاسم رضائی نے بھی کہا ہے کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد فوسرز کو اہم علاقوں میں تعنیات کیا گیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’تنازع کی ابتدا سے ہی شیل اور راکٹس ایران کی حدود میں آ رہے ہیں۔‘ ہمارے سرحدی محافظ چوکنا ہیں اور انہیں اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ وہ مکمل طور پر سرحد کی نگرانی اور حفاظت کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ کو ’سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بہت زیادہ تشویش ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تنازع مستقبل قریب میں ختم ہو جائے گا۔‘

روس کا آرمینیا کے ساتھ فوجی اتحاد ہے جبکہ اس ملک میں ان کا ایک فوجی اڈہ بھی ہے تاہم اس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ امریکہ، فرانس اور روس نے مشترکہ طور پر ناگورنو قرہباخ میں لڑائی کی مذمت کرتے ہوئے امن مذاکرات کی اپیل کی ہے لیکن اس تنازع میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

بدھ کے روز آذربائیجان نے کہا کہ اس کے وزیر خارجہ جمعرات کے روز جینیوا میں بین الاقوامی ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔