چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی کا تشدد کے بعد قتل

  • جمعرات 08 / اکتوبر / 2020
  • 5730

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی زینب کی لاش ملی ہے جسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

علاقہ مکینوں اور چارسدہ پولیس کا کہنا ہے کہ بچی منگل کی شام گھر کے باہر دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے شیخ کلے قلعہ کے علاقے سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ بدھ کو پرانگ پولیس کو اطلاع ملی کہ بچی کی لاش جبا کرونا کے علاقے میں پڑی ہوئی ہے۔ پرانگ اور داؤد زئی پولیس نے لاش برآمد کی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا۔

چارسدہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد ثاقب خان نے بتایا ہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم اغوا کاروں کے خلاف چارسدہ کے پرانگ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ لاش ملنے کے بعد ایف آئی آر قتل کے جرم میں پاکستان پینل کوڈ کی دفع 302 کے تحت درج کی گئی۔

ثاقب خان نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ بچی کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔ پولیس میڈیکل رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے جس کے بعد پاکستان پینل کوڈ کی مزید دفعات کو مقدمے کا حصہ بنایا جائے گا۔

زینب کے والد نے کہا کہ ان کے اہلخانہ کی کسی سے دشمنی نہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزمان کو گرفتار کرے تاکہ وہ ان سے پوچھ سکیں کہ ان کی بیٹی نے ان کا کیا بگاڑا تھا جو انہوں نے یہ جرم کیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی ڈاکٹر ثنااللہ عباسی اور دیگر کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اسے دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث افراد کو مثال بنایا جائے گا۔ ملزمان قانون سے بچ نہیں سکیں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زینب کے لیے انصاف اور ایک اور زینب کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں اور صارفین نے ملک میں بچوں کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔