بھارتی شہری بڑی تعداد میں دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہورہے ہیں: امریکی رپورٹ
- جمعہ 09 / اکتوبر / 2020
- 6160
ایک امریکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت ایشیا اور دیگر خطوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ روابط قائم کئے ہوئے ہے۔
امریکی ادارے فارن پالیسی نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے۔ افغانستان میں طالبان ان دنوں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن دوسری جانب داعش کی شدت پسند کارروائیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔
اگست میں افغانستان کے صوبہ خراسان میں داعش نے جلال آباد کی جیل پر حملہ کیا تھا تاکہ اپنے ساتھیوں کو رہا کرا سکیں اور اس حملے میں سب سے دلچسپ امر یہ تھا کہ اس میں افغان، بھارتی ور تاجک باشندوں نے شرکت کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طرز کے حملوں میں بھارت سمیت مختلف ممالک کے باشندوں نے مل کر ایک ہی جھنڈے تلے حملہ کیا۔ ان حملوں میں 2019 میں ایسٹر کے موقع پر چرچ میں کیا گیا حملہ بھی شامل ہے جس میں 300 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
اس کے علاوہ 2017 میں نئے سال کے موقع پر ترکی میں نائٹ کلب، 2017 میں نیویارک شہر میں ٹرک حملہ اور اسٹاک ہوم میں کیا گیا۔ یہ حملے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارت کاملوث ہونا انتہائی پریشان کْن ہے۔ حالانکہ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں اہم موڑ شام میں خانہ جنگی کے دوران ثابت ہوا اور نوجوان وہاں کا بڑی تعداد میں رخ کر رہے تھے۔ ان میں بھارت اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تاجک جنگجوؤں کے مقابلے میں ان شدت پسند گروپوں میں بھارتی نوجوانوں سے متعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے جہاں انہیں غلام تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ بڑی تعداد میں جوق در جوق اس گروپ کا حصہ بن رہے ہیں۔
بھارتی باشندوں کی مدد سے افغانستان میں داعش کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جس کی سب سے بڑی مثال جلال آباد کی جیل پر حملہ ہے۔ کابل میں سکھ گرودوارہ پر حملہ بھی بھارتی شدت پسندوں نے کیا۔ داعش نے یہ منصوبہ بہت سوچ سمجھ کر تشکیل دیا تھا۔ گزشتہ سال داعش نے باضابطہ طور پر بھارت میں اپنی ایک شاخ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے وہ کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت پر مسلسل بھارتی فوج سے بدلہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں۔
مقامی سطح پر اب بھی وہ عوام میں زیادہ مقبول نہیں کیونکہ کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ داعش کی وجہ سے ان کی بھارتی ریاست کے خلاف دہائیوں پرانی جدوجہد پیچیدگیوں کا شکار ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں کے لیے ماحول تناؤ سے بھرپور ہو گیا ہے کیونکہ مودی حکومت نے اپنی انتہا پسند ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دیا ہے۔
فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سری لنکا میں 2019 میں ایسٹر پر کیے گئے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر توجہ نہ دی گئی تو اس کے مستقبل میں عالمی منظر نامے پر تبادہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستانی دہشت گردی کی کہانی تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔ ہندوستان کی انتہا پسندانہ پالیسی ایک تباہ کن خطرہ ہے۔ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ جریدے نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے داعش کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے۔ شام کی لڑائی میں بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔