ناانصافی کی بنیاد پر کوئی نظام نہیں چل سکتا: وزیر اعظم

  • جمعہ 09 / اکتوبر / 2020
  • 8220

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینے کی ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی تھی۔ کوئی بھی  قانون سے اوپر نہیں تھا۔ اسلام آباد میں  انصاف لائرز فورم کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم  نے کہا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ناانصافی اور ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ میں انتخابات سے پہلے مدینے کی ریاست کا ذکر اس لیے نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جیت کےلیے یہ بات کررہا ہوں لیکن حکومت میں آنے کے بعد بار بار اس کا ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وکلا پر بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون پر تھی۔

عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک دوسروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک قانون پر عمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہ اکہ جے آئی ٹی کی پورے دو سال تحقیق کے بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے پھر بھی پوچھا جاتا کہ مجھے کیوں نکالا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتا۔ کہتا کہ مجھے کیوں نکالا اور اس فیصلے کو نہیں مانتے۔ اس کا خاندان بھی نہیں مانتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے الگ قانون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے۔ اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں میں نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا۔ لوگ کسی مقصد اور نظریے کے تحت ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلتےہیں۔ لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے۔

وہ خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں سے کہہ رہا ہے کہ باہر نکلیں۔ لیکن ان کو قیمے کے نان بھی کھلائیں تب بھی نہیں نکلیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ پیسہ بھی چلائیں گے۔ میں ان کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ پیسے لو، قیمے کے نان بھی کھاؤ اور گھر بیٹھو۔