چین ہانگ کانگ کے معاملے پر پاکستان کی حمایت سے مطمئن ہے

  • ہفتہ 10 / اکتوبر / 2020
  • 6470

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں مباحثے کے دوران چین نے ہانگ کانگ سوال پر اس کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونیِنگ نے کہا ہے کہ ہم انصاف کے حق میں بولنے پر پاکستان اور ان تمام ممالک سے اظہار تشکر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی حمایت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ انصاف ہمیشہ قائم رہے گا اور ہانگ کانگ اور سنکیانگ کے معاملات کے بہانے چین پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرنے والے مغربی ممالک کی ایک بڑی تعداد پھر ناکام ہوگئی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کا معاملہ بیجنگ کا داخلی معاملہ ہے جبکہ پاکستان خود مختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے 55 ممالک کی جانب سے تقریر کرتے ہوئے یہ باتیں جرمنی کی طرف سے ایغور مسلمانوں کے حقوق کا احترام کرنے اور ہانگ کانگ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنے کے لئے چین پر زور دینے کے رد عمل میں کی تھیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں اقوام متحدہ کے سفیر کرسٹوف ہیوسن نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ سنکیانگ تک اقوام متحدہ کے مبصرین کو فوری اور معنی خیز  رسائی کی اجازت دے اور بیجنگ سے ہانگ کانگ کے باشندوں کے حقوق اور آزادیوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ تیسری کمیٹی کی عام بحث کے دوران 70 سے زائد ممالک نے چین کی حمایت کا اظہار کیا۔ اب تک 57 ممالک نے ہانگ کانگ سے متعلق امور پر مشترکہ بیان پر  دستخط کیے ہیں اور 48 ممالک نے ایک سنکیانگ پر بھی اسی طرح کا مشترکہ بیان دیا ہے۔

پاکستان اور کیوبا نے چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون کے نفاذ کی حمایت میں بات کی ہے۔ اس کے علاوہ سنکیانگ میں دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے اور تمام نسلی گروہوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے اقدامات کی تعریف کی گئی۔

چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے معاملات کی سیاست، دوہرے معیار کے اطلاق، چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں اور چین کے اندرونی معاملات میں بلاجواز مداخلت کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اظہار کیا۔ بیجنگ کسی بھی فرد، ملک اور طاقت کو چین میں عدم استحکام، تقسیم اور انتشار پیدا کرنے اور انسانی حقوق کے بہانے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

بدھ کے روز اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے اور ہانگ کانگ کے معاملات چین کے اندرونی معاملات ہیں جس میں غیر ملکی افواج کی مداخلت کی ضرور نہیں۔ انہوں نے ان ممالک کا نام بھی لیا جنہوں نے انہیں اپنی طرف سے بولنے کا اختیار دیا تھا۔ اور کہا کہ انہوں نے چین کی ایک ملک، دو نظام پالیسی کی حمایت کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک میں قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی کا ریاست کو اختیار ہے۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون کا نفاذ ایک جائز اقدام ہے جس سے ایک ملک، دو نظام پالیسی مستحکم اور پائیدار ہوتی ہے اور ہانگ کانگ کو طویل مدتی خوشحالی اور استحکام حاصل ہے۔ محفوظ ماحول میں ہانگ کانگ کے باشندوں کے جائز حقوق اور آزادیوں کا بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔