حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف وکلا جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں: بلاول
- ہفتہ 10 / اکتوبر / 2020
- 5460
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وکلا نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر تحریکیں چلائی ہیں اور اس حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف بھی وکلا جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے جناح آڈیٹوریم میں شہید ذوالفقار علی بھٹو لائرز کلب کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق کے لیے وکلا کے ساتھ مل کر تحریکیں چلائی ہیں۔ چاہے وہ ایوب و یحییٰ خان کے خلاف ہو یا ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک ہو یا پرویز مشرف کے خلاف اے آر ڈی تحریک یا وکلا تحریک ہو یا اب ہم جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پلیٹ فارم سے اس نظام، اس حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آج بھی وکلا جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہماری تمام تحریکوں میں آپ کا صف اول کا کردار رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر زرداری پر بے شمار جھوٹے الزامات لگے ہیں اور ہر موقع پر، ہر پیشی پر اور مسئلے پر وکلا پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اب بھی جب ہم اس مہم پر نکلے ہیں تو اب بھی آپ کی ضرورت پڑے گی۔ بلاول نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کے لیے گرفتاری کی دھمکی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب تک وکلا برادی ہمارے ساتھ کھڑی ہے اس وقت تک وہ میرے کارکن پر آنچ تک نہیں آنے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس وکلا تحریک کا آغاز اسی کراچی بار سے ہوا تھا، وہ قانون کی حکمرانی کے لیے ایک جمہوری احتجاج تھا۔ آپ نے جج کی حکمرانی یا افتخار چوہدری کی حکمرانی کے لیے جدوجہد نہیں کی تھی بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی تھی۔ اس لیے جب تک اس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی، اس وقت تک آپ کی آزادی یا عدلیہ کی آزادی کا کوئی مطلب نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب نے حقیقی قانون حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ ہمیں اپنے حقوق کا تحفظ کرنا پڑے گا، یہ غیرجمہوری قوتیں آپ کے ہر حق پر ڈاکا ڈال رہی ہیں۔ بلاول نے کہا کہ ہمیں آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کو واپس لاسکیں اور آئین اور قانون کی بالادستی کو بحال کروائیں۔ جمہوری حق، ووٹنگ کی آزادی دلا سکیں کیونکہ جب تک آپ آزاد نہیں ہوں گے، جب تک آئینی حقوق نہیں ہوں گے تب تک ہم عوام کے مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔