تقریر کے بعد –
- تحریر خورشید ندیم
- ہفتہ 10 / اکتوبر / 2020
- 7260
جسٹس عیسیٰ فائز کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ بینچ کا نیا فیصلہ، ایک اور نشانی ہے کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے۔ وہ دور جس کا آغاز ’تقریر کے بعد‘ ہوا۔ تبدیلی اس کا نام ہے کہ اس کی ہوا چلتی ہے تو کوئی گوشہ محروم نہیں رہتا۔
کونپل بھی نشانی ہے اور خورشید کی پہلی کرن بھی۔ کونپل نزاکت کا استعارہ ہے مگر یہ گاہے زمین کا اور گاہے چٹان کا سینہ چیر کر نکلتی ہے۔ اس کو ایک تناور درخت بننے میں وقت لگتا ہے۔ پہلی کرن کا معاملہ یہ نہیں۔ وہ افق پہ نمودار ہوتی اور دوسرے لمحے زمین نور میں نہا جاتی ہے۔ تقریر کونپل نہیں، سورج کی پہلی کرن کی طرح تھی۔ لمحوں میں سیاہ رات چھٹنے لگی۔ نشانیاں ان کے لیے ہوتی ہیں جو عبرت کدہ دہر پر غور کرتے اور سوچتے ہیں۔ افسوس، آج سخن ور بہت ہیں اور سخن شناس بہت کم۔ مولانا امین احسن اصلاحی، قرآن مجید کے بے مثل عالم ہی نہیں تھے، بذلہ سنجی میں بھی یک تا تھے۔ علمی نکات بیان کرتے ہوئے کسی رائے پر تنقید کرتے تو کبھی زیر لب مسکراتے اور کہتے : ”پڑھے کم، لکھے زیادہ“ ۔ کالم پڑھتا اور تبصرے سنتا ہوں تو مولانا اکثر یاد آتے ہیں : ”پڑھے کم، لکھے زیادہ“ ۔
سیاسی پنڈت پیش گوئی کر رہے تھے کہ نواز شریف کا عہد تمام ہوا۔ خواہشیں تجزیوں میں ڈھل رہی تھیں۔ آج ہر کوئی بچشم سر دیکھ سکتا ہے کہ سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے۔ ملک میں ایک ہی بیانیہ ہے۔ وہی جو نواز شریف صاحب نے پیش کیا۔ آپ اس کے حامی ہیں یا مخالف۔ اس کے سوا کوئی انتخاب نہیں۔ اداروں کے فیصلے بولنے لگے ہیں کہ ایک نئے دور کی نمود ہے۔ کوئی خدشات میں مبتلا ہے کہ ”دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔“ کوئی طرب انگیز جوش میں پکارتا ہے کہ ”تماشا دکھا کر مداری گیا“ ۔ آج چوکوں اور چوراہوں کا ایک ہی موضوع ہے : بیانیہ، نواز شریف کا بیانیہ۔
مسئلہ وہی سخن شناسی کا ہے، ورنہ مقدمہ واضح ہے۔ اس وقت بیانیہ اہم ہے، نواز شریف نہیں۔ نواز شریف اگر اہم ہیں تو اس لیے کہ انہوں نے بیانیہ پیش کیا۔ جو بات بین السطور کہی جاتی تھی، انہوں نے اسے چوراہے میں کہہ دیا۔ اس کے ابلاغ عام کے لیے عزیمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے باوصف، میرا کہنا یہ ہے کہ افراد اب مقدمے کے محتاج ہیں، یہ مقدمہ کسی کا محتاج نہیں۔ صداقت اپنے وجود پر خود گواہ ہے۔ اسے کسی گواہی کی ضرورت نہیں۔ گواہی دینے والے تو اپنے لیے بلندی درجات کا سامان کرتا ہے۔
آج اس بیانیے کی مخالفت میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اس کے مخالفین بھی یہ بات جانتے ہیں۔ اس لیے وہ حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں، ہمارے بعض ناقدین مذہب کی طرح۔ وہ جانتے ہیں کہ مذہب کے مقدمہ کو غلط ثابت کرنا مشکل ہے۔ اس میں ناکامی کے بعد، وہ مولوی کو ہدف بناتے ہیں، اس لیے کہ وہی ہے جو سماج میں مذہب کا مقدمہ پیش کر تا ہے۔ مولوی کو غلط ثابت کرنے سے، ان کا گمان ہے کہ مذہب کا مقدمہ غلط ثابت ہو جائے گا۔ یہی حربہ اس بیانیے کے ناقدین نے اختیار کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کی صداقت پر خود پاکستان کی تاریخ گواہ ہے۔ اس کا رد ممکن نہیں، اس لیے نواز شریف کو برا کہو، شاید اس سے کوئی بات بن جائے۔ اسی لیے یہ جملہ دہرایا جاتا ہے : نواز شریف خود آمریت کی پیداوار ہیں۔
نواز شریف صاحب جب کہتے ہیں کہ اس ملک میں ستر بہتر برس سے ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے تو اس میں جنرل ضیا الحق کے دس سال بھی شامل ہیں۔ وہی دور جب نواز شریف خود ایک فوجی آمر کے حلیف تھے۔ جب وہ اس کھیل کا ذکر کرتے ہیں تو اس زبان حال سے اس عہد سے اعلان برات کر رہے ہوتے ہیں۔ سخن شناسی ہو تو بات کو سمجھا جا سکتا تھا مگر اب مزید گواہی بھی آ گئی ہے۔ یادش بخیر اعجاز الحق نواز شریف صاحب کے بڑے ناقد بن کر سامنے آ گئے ہیں۔ ضیا مرحوم کے پرانی حلیفوں کی انجمن میں نواز شریف کو غدار ثابت کر رہے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی نواز شریف کی سیاسی قلب ماہیت کی کوئی دلیل چاہیے؟
بیانیے پر جب براہ راست تنقید ممکن نہ ہو سکی تو ایک اور حیلہ استعمال کیا گیا: ”یہ بیانیہ فوج کے خلاف ہے“ ۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ کوئی پاکستانی فوج کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ نواز شریف صاحب نے لیکن اس باب میں بھی کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ برف پوش بلندیوں سے تہ سمندر تک، ملک کے جغرافیے کی حفاظت کرنے والے، بری، بحری اور فضائی فوج کے جوان اور افسر انہیں بہت عزیز ہیں۔کون پاکستانی ہے جسے اپنے یہ جوان پیارے نہیں ہیں؟ ان سے محبت ہمارے ڈی این اے میں ہے۔ میجر عبدالعزیز بھٹی اور راشد منہاس ہمارے چمن کے گل سر سبد ہیں؟ انہیں کون بھول سکتا ہے؟ ان کے احترام کے لیے کسی قانون کی نہیں، صرف ضمیر کی ضرورت ہے۔ مگر کیا میں یحییٰ خان کو بھی وہی محبت دے سکتا ہوں جو میں کیپٹن سرور شہید کو دیتا ہوں؟ اس کے لیے ایک پاکستانی کو اپنا ڈی این اے بدلنا پڑے گا جو کسی کے بس میں نہیں۔ نواز شریف صاحب نے اسی فرق کو واضح کر دیا ہے۔
نواز شریف صاحب اس مقدمے کو لڑنے کے لیے کوئی مثالی راہنما نہ تھے۔ ان کو ابھی مزید ثابت فراہم کرنے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے رجوع کر چکے۔ ابھی نون لیگ کو اپنی صفوں میں جمہوریت لانی ہے۔ انہیں ابھی بہت سے خدشات کو مخاطب بنانا ہے جو ان کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے زیر بحث رہتے ہیں۔ اس کےباوجود، اس میں مجھے کوئی شبہ نہیں کہ آج وہی ہیں جنہوں نے اس ملک کو درپیش اصل مسئلے کو مخاطب بنایا ہے۔ وہ مسئلہ جس کو حل کیے بغیر سیاسی استحکام آ سکتا ہے نہ معاشی۔ وہ مثالی نہ سہی، لیکن کون ہے جو ان کے سوا، اس بیانیے کا پرچم اس جرات کے ساتھ تھامے ہوئے ہے؟
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
مولانا فضل الرحمٰن نے بھی یقیناً اًستقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا موقف بھی واضح اور دو ٹوک ہے۔ انہوں نے تو توسیع کے قانون کی بھی حمایت نہیں کی۔ ان کے بارے میں بھی وہی حربہ اختیار کیا جا رہا ہے جو نواز شریف صاحب کے لیے اپنا یا گیا۔ ماضی کے واقعات سے حال کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے حوالے سے بھی میرا موقف وہی ہے جو نواز شریف صاحب کے بارے میں ہے۔ اگر وہ اس بیانیے سے انحراف کریں گے تو ان کی اخلاقی ساخت برباد ہو جائے گی۔ اس وقت لیکن اس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ قومی دھارے میں یہی دو سیاست دان ہیں جن کی باتوں میں کوئی ابہام نہیں۔ اللہ کرے پیپلز پارٹی کو بھی یہ یک سوئی نصیب ہو۔
الزامات بے اثر ہو رہے ہیں۔ کرپشن کی بھینس نے جو دودھ دینا تھا، دے چکی۔ اب وہ صرف قصائی کے کام کی رہ گئی۔ غداری کا نعرہ تو طفولیت ہی میں دم توڑ گیا۔ اس پر مستزاد مہنگائی کا بے قابو جن۔ بجلی کی قیمت پھر بڑھ گئی۔ حکومت کے پاس کوئی حل نہیں، نہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے نہ سیاست کے استحکام کے لیے۔ کھیل اب پوری طرح فریق اول کے ہاتھ میں ہے۔ اب فریق ثانی کے ترکش میں صرف ایک تیر باقی ہے :گرفتاریاں۔ جس دن یہ چل گیا اور خطا ہو گیا، اس دن الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ تاریخ یہ ہے کہ گرفتاریاں حکومت مخالف تحریک کو مہمیز دیتی ہیں، اسے کمزور نہیں کرتیں۔
یہ سب کچھ ایک تقریر کے بعد ہوا۔ اس تقریر نے سارا منظر بدل دیا۔ وہ اپوزیشن جو کبھی کشکول تعاون لیے پھرتی اور بار بار دھتکار دی جاتی تھی، اب ایک مختلف روپ میں ہے۔ ایک تقریر نے کبوتر کے تن نازک میں شاہین کا جگر پیدا کر دیا ہے۔ اب ہم ایک نئے دور میں زندہ ہے جس کے داخلی دروازے پر صاف لکھا ہے : ’تقریر کے بعد‘ ۔ بہت سے کالم نگاروں اور قلم برداروں کو مگر یہ دکھائی نہیں دے رہا۔ ہر سخن ور لازم نہیں کہ سخن شناس بھی ہو۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)