دو طوفان

  • تحریر
  • ہفتہ 10 / اکتوبر / 2020
  • 4710

کہنے کو تو آزادی مل چکی، انگریز کو  یہاں سے گئے مدت ہو گئی  مگر ان کی موجودگی کا  اکثر  احساس  ہوتا ہے جیسے یہیں کہیں ہیں۔ کولونیل تسلط کے دور میں مقامی آبادی کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے کئی انتظامی اور قانونی طریقے تھے جن میں ایک  انتہائی سنگین  طریقہ کسی کو غدار قرار دینا بھی تھا۔ ان  تہتر سالوں میں  شاذ ہی کبھی  کوئی ایسی دِہائی گزری ہو جب  ہم  نے اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف  غداری  کے طعنے نہ سنے ہوں۔

 بات طعنوں سے  آگے  نکل جائے تو مقدمات  کی نوبت آتے بھی دیر نہیں لگتی۔ سیاست ہو یا ریاست،  دشمن ماری  کے لئے غداری کا وظیفہ ہماری  سیاست  و  ریاست  کے مَن سے نکل نہیں پایا۔ گزشتہ چند ہفتوں سے سیاسی درجہ حرارت میں  تیزی  آئی  تو ایک بار وہی شناسا الزامات  کی بھرمار ہونے لگی۔ یہ  اِس کا ایجنٹ ہے، وہ اُس کا  ایجنٹ ہے، یہ  دشمن کی بولی بولتا ہے، بزعم خودسلامتی اداروں کے  محافظ   سیاست دانوں کو نواز شریف کے لہجے اور انداز میں  وہ سب برائیاں نظر آئیں  جن کی بنا  پر دشمن کی ایجینٹی اور اس  کے نمک  کے اثرات انہوں نے  جان لئے۔  اس کے بعد وہی کچھ ہوا جو موقع بھی دستور بھی ہے کے مصداق ہوتا چلا آیا ہے۔ البتہ اس زبانی کلامی  دشنام طرازی   کو باقاعدہ قانونی صورت دینے کا خیال لاہور سے ایک محب الوطن کو آیا۔ اس نے جھٹ شاہدرہ پولیس  سے رابطہ کیا، وہ پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے،اِدھر شکایت پہنچی اُدھر بغاوت کا مقدمہ درج۔

 کہاں یہ کہ سائل اپنی درخواستیں ہاتھوں میں اٹھائے مقدمہ اندراج کرانے کے لئے خوار ہوتے رہتے ہیں لیکن اللہ بھلا کرے پولیس میں  وطن کی مٹی سے پیار کرنے  والوں کی موجودگی  کا، انہوں نے  قانون کو فوراٌ چھان پھٹک  کر دیکھا اور ان دفعات کو ڈھونڈ نکالا جن کے اطلاق سے   ہی ملزم  منہ چھپاتا پھرے یعنی غداری کی  دفعات۔ وطن کی محبت کی فراوانی  کا عالم دیکھئے کہ مدعی نے  چالیس سے زائد لوگوں کو مقدمے میں نامزد کیا۔   اب  اتفاق  یہ ہوا کہ ان سب کا تعلق مسلم لیگ ن سے نکلا، وزیر اعظم آزاد کشمیر  بھی اسی الزام کے سزاوار ٹھہرے۔   روایتی تھانہ کلچر ہوتا تو مدعی پر کئی سوالات اٹھتے،  ذاتی حیثیت میں غداری کے مقدمے کے اندراج سے پہلے  پولیس اپنے حکام سے مشورہ کر لیتی  مگر  وہاں بھی حب الوطنی کا جوش اتنا  ہی ٹھاٹھیں مار رہا تھا جتنا مدعی کے سینے میں، سو جھٹ سے  انگریز دور کی بدنام زمانہ غداری کی دفعات  کا   سہارا  ڈھونڈ  نکالا۔ میڈیا میں جب طوفان اٹھا تو حکومت  نے  ہمارا ذمہ توش پوش کہہ کر فاصلہ کرنے کی کوشش کی البتہ مدعی کی نیت کو بار بار سراہا۔

 وزیر اعظم آزاد کشمیر  کا نام  فہرست میں شامل ہونے پر ہاہا کار  مچی تو وہی حکومت جس کا اس مقدمے سے کچھ  لینا  دینا نہ تھا، ا س کی  پنجاب پولیس نے خاموشی سے وزیر اعظم  آزاد کشمیر کا نام  فہرست سے خارج کر دیا۔  ڈھنڈیا مچی تو مدعی کا تعلق پی ٹی آئی سے نکل آیا مگر  پی ٹی آئی کے لیڈران نے یہ کہہ  کر کنارہ کشی کر لی کہ عالم میں مشہور ہیں، روزانہ سو لوگ  ساتھ تصویر بنواتے ہیں، صرف تصویر  بنانے سے کوئی تعلق تھوڑی ثابت ہوجاتا ہے! اپوزیشن کی جماعتوں  کے نو زائیدہ  اتحاد کے لئے  غداری کا یہ مقدمہ ایک نعمت ثابت ہوا۔ میڈیا  میں گرما گرمی کے بعد اب سیاسی میدان میں طوفان  کا ماحول بن رہا ہے۔  جلسے جلوسوں کے پروگراموں کا اعلان ہوچکا۔ درجہ حرارت اپوزیشن کی   توقع کے مطابق بڑھ رہا ہے۔ ادھر حکومت کو بھی اس  طوفان سے بڑی امیدیں ہیں  کہ سیاسی گرج چمک  میں آٹا چینی، دوائیوں، بجلی اور گیس بلوں  سے توجہ ہٹی رہے۔ دیکھئے کون  کون اس طوفان  سے اپنا اپنا مقصد حاصل کر پاتا ہے۔

سیاسی  ہاؤ ہو  سے  پَرے  معاشی نظامت کے حوالے سے کچھ قابلِ غور  تقرریاں ہوئی ہیں جو ایک اور ممکنہ طوفان کو سنبھالنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر وقار  مسعود کو  ریونیو کے لئے مشیر خصوصی مقرر کیا ہے،  چیئر مین ایف بی آر کو  اس عہدے  پرتین  ماہ کے لئے مزید توسیع دی گئی ہے۔  بجلی گیس کے مشیران کی ٹیم میں ایک اور مشیر خصوصی کا اضافہ کر دیا ہے،  تابش گوہر کے الیکٹرک  کے بعد اب وزیر اعظم  کا  سرکلر ڈیٹ سمیت دیگر انرجی مسائل پر ہاتھ بٹائیں گے۔ انرجی سیکٹر میں اتنے سارے معاونین خصوصی کی حکومت کو  کیوں ضرورت پڑ رہی ہے؟ شاید  اس لئے کہ معاشی محاذ پر ایک نیا طوفان لینڈ کرنے والا ہے۔  آئی ایم ایف  سے  موجودہ پروگرام کو پھر سے  جاری رکھنے کے لئے  مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ کووِڈ19  کے بعد اب معیشت کو نئے چیلنجز کے  ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ افراطِ زر پھر سے بڑھ رہا ہے۔ بجلی  کی قیمتیں گزشتہ سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد اگلی سہ ماہی میں پھر سے  بڑھانے، گیس او ر آئل کی قیمتوں  کو بڑھا کر ریونیو شارٹ فال پورا کرنے  کا امتحان سامنے   ہے۔ سرکلر ڈیبٹ دو ٹریلین روپے سے بڑھ چکا۔ اس کا کچھ حصہ بھی  صارفین کے کھاتے میں ڈالنے کی تجویز آئی ایم ایف  مذاکرات میں  شامل ہے۔  ریونیوز بڑھانے  کے ان اقدامات  کے سیاسی مضمرات پر حکومت کے تحفظات ہیں لیکن  جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

موجودہ معاشی استحکام  بہت نازک ہے۔  اشیائے خوردونوش  اور انرجی کی قیمتوں میں افراطِ زر کا لامحالہ دباؤ  اگلی مانیٹری پالیسی پر آئے گا یعنی مارک اپ کی شرح میں اضافے کا امکان،  متوقع تجارتی اور مالی خسارے کا دباؤ روپے کی شرح مبادلہ پر  آئے گا۔ حکومت کے لئے  ریونیوز  ٹارگٹ  پورے کرنا  پہلے ہی  دردِ سر بنا ہوا  ہے۔  خلاصہ اس  تفصیل کا یہ ہے معاشی میدان میں ایک  نیا طوفان بن رہا ہے۔ سیاسی میدان  کا طوفان معاشی طوفان کو مزید  تقویت دے سکتا  ہے اور  سیاسی طوفان معاشی مشکلات سے مزید  قوت حاصل کرے گا۔ ایسے میں سیاست کا تو شاید بھلا  ہو جائے  گا، غداری  اور سلیکٹڈ  کے الزامات کی پِنگ پانگ  کی گرما  گرمی اپنی جگہ مگر  یہ دونوں طوفان  ملک اور عوام کے لئے مشکلات میں اضافے کا  سندیسہ  بھی  ہیں۔

 بہتر ہوگا کہ ٹکراؤ کی بجائے  سلجھاؤ کا ماحول  بنانے کی کوشش کی جائے جس کی زیادہ ذمہ داری حکومت  پر ہے کیونکہ کل کلاں کو ہونے  والے نقصان کا زیادہ حصہ بھی حکومت  ہی کے حصے میں آئے گا۔