آرمی چیف نے ہائیبرڈ حکومت کے غبارے سے ہوا نکال دی
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 10 / اکتوبر / 2020
- 16840
یہ اچھا ہؤا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وضاحت کردی ہے کہ پاک فوج کا طرز عمل آئین اور قومی مفاد کی روشنی میں طے ہوتا ہے ۔ فوج قانون کے مطابق مختلف شعبوں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرتی رہے گی۔ کاکول میں نئے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے جائز تنقید پر شبہ کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مثبت نکتہ چینی حب الوطنی کے جذبے سے ہی کی جاتی ہے۔
جنرل قمر جاوید باجو کی تقریر کے مخاطب بظاہر نئے کیڈٹ تھے جو پاک فوج میں خدمات سر انجام دینے کا آغاز کریں گے لیکن ان کی باتیں ملک کے کشیدہ سیاسی ماحول میں عمومی رہنما اصول کے طور پر بھی قابل غور ہیں۔ خاص طور یوں بھی آرمی چیف کی تقریر کا متن اہم ہے کہ اس وقت ملک میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی تصادم کی صورت حال دکھائی دیتی ہے ۔ اس میں فوج کا کردار خاص طور سے زیر بحث ہے۔ نواز شریف کی سرکردگی میں اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت انتخابی دھاندلی کے نتیجہ میں ملک پر مسلط کی گئی ہے ۔ نامزد وزیر اعظم اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں کا ذکر کرکے دراصل اپوزیشن قیادت یہ کہنا چاہتی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں بعض عسکری اداروں کا کردار مشکوک رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کے حقیقی نمائیندے اقتدار حاصل کرنے سے محروم رہے ۔ اس کی بجائے ایک ایسے شخص کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا ہے جس کے بارے میں قبل از وقت فیصلہ کرلیا گیا تھا۔
عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت چونکہ معاشی اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں رہی لہذا اس تجربہ پر عوام کے غم و غصہ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعظم خود حفاظتی کی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے تمام اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ فاصلہ قائم کرنے پر مجبور رہے ہیں۔ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے عوام میں جو بے چینی اور پریشانی پیدا ہوئی ہے، اب اپوزیشن اسے پوری قوت سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس عوام کو دینے کے لئے کچھ اور تو نہیں ہے تو وہ یہ نعرہ بیچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سارے سیاسی لیڈر دراصل چور اچکے ہیں جو احتساب کے شکنجے سے بچنا چاہتے ہیں ۔لیکن عمران خان نام کا ایک بہادر وزیر اعظم ان بدعنوانوں کو کبھی معافی نہیں دے گا۔ اب یہ بات ملک کے بچے بچے پر واضح ہو چکی ہے کہ عمران خان اور ان کے حامی یہ نعرے بیچنے کی کوشش کرتے ہوئے دراصل اپنی کوتاہی اور ناکامی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
کوئی منتخب حکومت اگر کسی وجہ سے اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل نہ کرسکے تو وہ اپوزیشن کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ بہتر بنا کر معاملات طے کرتی ہے۔ تحریک انصاف دو سال حکومت کرنے کے باوجود اس صورت حال کا ادراک کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس کا خیال ہے کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر اور بدنام کرکے ہی اپنی کمزوریوں کو چھپایا جاسکتا ہے۔ عمران خان اور کے ساتھ سیاسی منصوبہ بندی کرنے والے لوگوں کا یہ اندازہ غلط ثابت ہورہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا انتخابی منشور بدعنوانی ختم کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل نہیں تھا۔ عمران خان نے ملک کے غریبوں کے لئے پچاس لاکھ گھر بنانے اور ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر کاسہ گدائی ہر صورت توڑ دیں گے اور کسی صورت بیرون ملک اور خاص طور سے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض نہیں لیں گے۔ انتخابی مہم جوئی کے دوران عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ بدعنوانی کا خاتمہ کرکے ملکی وسائل میں اس قدر اضافہ کردیں گے کہ ملک کو کسی قسم کا قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ملک کی حقیقی صورت حال اس سے برعکس ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک طرف یہ وعدے پورے نہیں ہوسکے تو دوسری طرف اپوزیشن کے خلاف قانونی گھیرا تنگ کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ا س طرح ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھتی رہی ہے۔ یہ تعلقات اب مکمل تصادم کی صورت اختیا ر کرچکے ہیں۔ اپوزیشن عمران خان پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ فوج کی مہربانی سے اقتدار میں آئے ہیں۔ اور حکومت اپوزیشن پر کرپشن سے ’معافی‘ کی کوشش کرنے کا الزام لگانے کے علاوہ اب ملک سے غداری اور بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کا الزام بھی عائد کررہی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گیا جب لاہور کے ایک تھانے میں ایک شہری کی درخواست پر نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے چالیس سے زیادہ قائدین پر ملک دشمنی اور غداری کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس مقدمہ میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور تین سابقہ فوجی جرنیلوں کا نام شامل ہونے کی خبر سامنے آنے پر حکومت کو اس مقدمہ سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا لیکن وہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی قیادت کے خلاف کوئی ایس ایچ او کس طرح حکام بالا سے اجازت لئے بغیر مقدمہ درج کرسکتا تھا۔ اب یہ خبریں بھی سامنے آگئی ہیں کہ اس معاملہ سے ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کو مطلع کردیا گیا تھا بلکہ کابینہ کے اجلاس میں دو تین وزیر اس مقدمہ کو سنجیدگی سے چلا کر اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کا مشورہ بھی دیتے رہے تھے۔
بظاہر اس مشورہ کو توقبول نہیں کیا گیا لیکن عمران خان سمیت تحریک انصاف کے تمام لیڈر نواز شریف کی یکے بعد دیگرے تقریروں کے بعد انہیں ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دے رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاک فوج کے خلاف بات کرنے والا کوئی بھی شخص محب وطن نہیں ہوسکتا۔ اب آرمی چیف نے کاکول میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک فوجی لحاظ سے محفوظ ہے۔ اس بیان کے بعد وزیر اعظم کا یہ مؤقف مزید کمزور پڑے گا کہ اس وقت ایسی کوئی بحرانی صورت حال موجود ہے جس میں اپوزیشن کی طرف سے سیاست میں فوجی اداروں کے کردار پر بحث سے ملکی مفاد متاثر ہوگا۔ اور دشمن کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ فوج اور سیاست کی بحث ایک اصولی معاملہ ہے جس پر گفت و شنید خود فوجی قیادت کے مفاد میں بھی ہے۔ اس بحث کو فوج کے احترام یا ضرورت پر اعتراض قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ ملکی آئین کی روشنی میں میرٹ کی بنیاد پر معاملات طے کرکے اس کا حل تلاش ہونا چاہئے۔ تاہم گفتگو کا مرکز پارلیمنٹ کی بجائے میڈیا و بیان بازی ہوجائے اور اپوزیشن ایوان میں تعاون کی درخواست کرنے کی بجائے جلسے جلوسوں کا اعلان کررہی ہو تو بحران کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ پاکستان اس وقت اسی بحران سے دوچار ہے۔
غور کیاجائے تو جنرل قمر جاوید باجوہ کی تازہ ترین تقریر اس بحران میں رہنما اصول متعین کرتی ہے۔ اگر ان رہنما اصولوں تسلیم کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو بظاہر شدید سنگین ہوتے سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ممکن ہے۔ جنرل باجو ہ نے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان فوجی افسروں کو خبردار کیا کہ ’وہ مثبت تنقید کو ہائیبرڈ جنگ سے نہ جوڑیں۔ ایسی تنقید جس کا بہت شور اور چرچا لگے، شاید اعتماد، محبت اور حب الوطنی کا اظہار ہو۔ لہذا ایسی تنقید پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی باتوں کو سننا چاہئے اور اصلاح احوال کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان آوازوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور درست راستے پر گامزن ہیں۔ ہماری طاقت ہمارے عوام، آئین، جمہوریت اور ان جمہوری اقدار میں ہے جن پر ہمارے عوام عمل کرتے ہیں۔ ہمیں اس تعلق اور جمہوری روایات کو مستحکم کرنا ہے‘ ۔
آرمی اکیڈمی میں نوجوان افسروں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف کا آئین اور جمہوری روایات پر زور دینا ایک اہم پیغام ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوج ماضی کی غلطیوں کے باوجود اب آئین سے ہٹ کر کسی قسم کے طریقہ کو اختیار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ جن مباحث کو سیاسی گفتگو میں حب الوطنی اور غداری کا معاملہ بنادیا گیا ہے ، آرمی چیف کے نزدیک وہ حب الوطنی اور محبت کا اظہار ہیں، جن سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دشمن کا حوالہ دیتے ہوئے ہائیبرڈ جنگ سے ضرور متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت پاکستان شدید نفسیاتی ہتھکنڈوں کی زد میں ہے ، جن کا مقصد پاکستان میں اُمید کی فضا کو ٹھیس پہنچانا ہے اور اِس مفروضے کو تقویت دینا ہے کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔ جنرل باجوہ نے کہا کہ ’ مجھے کہنے دیں یہاں انشاللہ سب کچھ اچھا ہوگا۔ ہم پاکستانی ہمیشہ راستہ نکال لیتے ہیں اور ہم ایسا ہی کریں گے‘۔ جنرل باجوہ کی باتوں سے واضح ہورہا ہے کہ ملک میں موجودہ حکومت کو لانے میں اگر فوج نے کردار ادا کیا بھی تھا تو بھی وہ اب کسی ایسے ہائبرڈ حکومتی انتظام کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے جس میں حکومت کی ہر غلطی کا بوجھ فوج کو برداشت کرنا پڑے۔
آرمی چیف کی یہ تقریر واضح کرتی ہے کہ فوج آئین کے علاوہ اختلاف رائے کا احترام کرنے کی بات کر رہی ہے۔ جنرل باجوہ نے قانون و آئین کے مطابق حکومت کے ساتھ مختلف منصوبوں میں تعاون جاری رکھنے کی بات ضرور کی ہے لیکن اس میں ’ایک پیج کی سیاست‘ کی وہ شدت موجود نہیں جو وزیر اعظم کے بیانات میں محسوس کی جاتی ہے۔ اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ فوج ملکی سیاسی معاملات جن میں سیاست میں فوج کے کردار کا معاملہ بھی شامل ہے، کو مل جل کر حل کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ یعنی سیاسی فیصلے ملکی سیاسی قیادت کو کرنے چاہئیں۔
اس تقریر سے یہ سمجھنا غلط نہیں ہوگا کہ فوج ملک کے سیاسی عمل میں اپنی غیر جانبداری کا اعلان کررہی ہے۔ ملک میں جمہوری تحریک کے اس مرحلے پر یہ نمایاں کامیابی کہی جاسکتی ہے۔