مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں میں خود کشی کا رجحان
- اتوار 11 / اکتوبر / 2020
- 6500
مقبوضہ کشمیر میں تعینات سیکیورٹی فورسز میں خود کشی اور اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک 21 سیکیورٹی اہلکار خود کشی کر چکے ہیں۔ جب کہ 6 سیکیورٹی اہلکار اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
ایک تازہ واقعے میں بھارتی فوج کے ایک سپاہی جگجیت سنگھ نے وسطی ضلع گاندربل میں واقع فوجی کیمپ میں خود کشی کی ہے۔ اس واقعے سے دو دن قبل ایک 22 سالہ فوجی رکشت کمار نے سرحدی ضلع بارہ مولہ میں سروس رائفل سے خود کو گولی مارکر خود کشی کی تھی۔ گزشتہ برس 19 اہلکاروں نے خود کشی کی تھی۔ جب کہ 3 سیکیورٹی اہلکار اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ خود کشیوں اور اپنے ہی ساتھیوں کو مارنے کے اقدامات ذہنی دباؤ میں آ کر کیے جاتے ہیں۔ کیوں کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش کو دبانے کے لیے تعینات یہ اہلکار ناموافق صورت حال میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں میں مایوسی کی سطح اس وقت بڑھ جاتی ہے جب انہیں گھر جانے کے لیے چھٹی دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں میں ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور انہیں تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جن کے نتیجے میں ان میں منفی سوچ کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل برائے شمالی بھارت ذوالفقار حسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے نوجوانوں میں پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو کم کرنے، انہیں مناسب آرام اور تفریح کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔
بھارت کے اخبار ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی بحری، فضائیہ اور بری فوج کے 1100 سے زائد اہلکاروں نے خود کشی کی ہے۔ اخبار کے مطابق جموں و کشمیر اور بھارت کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاستوں میں طویل مدت کی تعیناتی، سیکیورٹی اہلکاروں کی دماغی صحت پر منفی اثرات ڈالنے کی وجہ بن رہی ہے۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجیوں اور دوسرے سیکیورٹی اہلکاروں کو تناؤ سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی خاطر ‘ہیلپ لائنز’ قائم کی گئی ہیں اور ‘یوگا’ کلاسوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ عسکریت پسندوں کے ساتھ مقابلوں یا ان کے حملوں میں مارے جانے والے اہلکاروں کے لواحقین اور زخمیوں کو دی جانے والی مالی امداد میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے۔