بغاوت کے مقدمے میں نواز شریف کے سوا تمام لیڈروں کو بے قصور قرار دیا گیا

  • اتوار 11 / اکتوبر / 2020
  • 5980

پولیس نے حال ہی میں شاہدرہ تھانے میں درج ہونے والے بغاوت کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے سوا تمام مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بے قصور قرار دیا ہے۔

ایف آئی آر میں سے تعزیرات پاکستان کی 4 دفعات کو بھی ختم کردیا گیا۔ یہ پیش رفت کیس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم اور لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر عمر شیخ کے درمیان ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ پیر کو سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت بشمول آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم وفاقی حکومت نے خود کو اس اقدام سے دور کیا تھا کیونکہ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر خوش نہیں تھے۔  گو کہ پاکستان تحریک انصاف کے متحرک رکن  بدر رشید کی شکایت پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز اور 41 مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ سابق وزیراعظم نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اور اپنی جماعت کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے بالترتیب 20 ستمبر اور یکم اکتوبر کو کیے گئے خطاب میں ریاست، اس کے اداروں اور قوم کے خلاف ’نفرت انگیز تقاریر‘ کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے بیرون ملک (لندن) سے میڈیا کے ذریعے اپنے پارٹی کے رہنماؤں، ریاستی اداروں اور قوم کو پاکستان کے خلاف اکسایا۔  تاہم رات گئے جاری بیان میں لاہور کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کیس کی اچھی طرح سے تحقیقات کی اور تمام سیاست دانوں بشمول آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بے قصور پایا۔

ٹیم نے شکایت کنندہ کے تحریری اور ویڈیو بیانات ریکارڈ کیے اور اس نتیجے پر پہنچی کہ بغاوت کیس میں نامزد سیاست دانوں نے پارٹی کے 2 اجلاسوں میں نواز شریف کی نفرت انگیز تقاریر کی تائید نہیں کی تھی۔ نتیجتاً پولیس نے نواز شریف کے سوا نامزد سیاست دانوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس نے مزید کہا کہ تحقیقات کی روشنی میں ایف آئی آر سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 121 اے، 123 اے، 124 اور 153 اے کو ختم کردیا گیا ہے۔