کیا مہنگائی پر قابو پایا جاسکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 11 / اکتوبر / 2020
- 4960
پاکستان کے دیگر بحرانوں میں ایک بڑا بنیادی مسئلہ خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے۔ بڑی بڑی سیاسی بحثوں میں عام لوگوں کے بنیادی مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں یا یہ حکمران طبقات کی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں بن پاتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست، جمہوریت اور عام فرد کے درمیان سیاسی خلیج ہے۔
اس وقت قومی سطح پر جو بحث عام آدمی سے جڑی ہوئی ہے وہ مہنگائی کی ہے۔لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کو اس حکمرانی کے نظام سے فوری طور پر کوئی بڑا ریلیف ملنے کی امید کم ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسائل نہ صرف موجود ہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر ان میں شدت یا اضافہ ہورہا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے بڑے سیاسی دعوے کیے تھے۔ابتدا میں عمران حکومت کا بیانیہ یہ ہی تھا کہ ہمیں اقتدار مشکل او ربحران کی حالت میں ملا ہے اور فوری ریلیف ممکن نہیں۔ اسی طرح زیادہ تر غلطیوں کو سابقہ حکمران طبقات سے جوڑا گیا تھا کہ ان کی غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کے پاس کوئی جادوئی فارمولہ نہیں ہوتا کہ وہ راتوں رات حالات کو تبدیل کرسکے۔اس لیے جو بڑے بڑے سیاسی دعوے عمران حکومت نے کیے تھے ان میں بھی جذباتیت کا پہلو نمایاں تھا۔لیکن اب کیونکہ اس حکومت کو دو برس سے زیادہ کا عرصہ گزرگیا ہے تو یہ حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس لیے اب جب حکمران طبقہ محض سابقہ حکمرانوں پر الزامات لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حکمت عوام میں قبولیت حاصل نہیں کرپاتی۔ چینی، آٹا، ادوایات، بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل،کھانے پینے کی روزمرہ کی اشیا، علاج معالجہ سمیت بہت سے بنیادی مسائل پر عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔عوام کو حکمران طبقہ ریلیف دینے میں مسلسل ناکام ہے۔ احساس پروگرام سمیت کچھ پروگراموں کی مدد سے عام یا کمزور طبقہ کو معاشی ریلیف بھی دیا جارہا ہے لیکن مجموعی طور پر عوام واقعی بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔
ایسے میں حکمران طبقات ہو ں یا حزب اختلاف انہیں عوام سے جڑے ہوئے مسائل نظر نہیں آتے۔ سیاستدانوں کے مسائل بڑی نوعیت کے ہیں جن میں ذاتیات، الزام تراشی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا حکومتوں کو گرانے یا حکومتوں کو اپنی سطح پر مضبوط بنانے کے منفی کھیل نمایاں ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد جس فعال او رمتحرک اندازمیں صوبائی حکومتوں کو مہنگائی وغیرہ کو کنٹرول کرنے میں کام کرنا چاہئے تھا اور ذمہ داری قبول کرنی چاہئے تھی۔ اب وفاق سے زیادہ صوبائی حکومتیں حکمرانی کے بحران کی براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ان ہی صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں مقامی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کو بھی مفلوج یا یرغمال بنایا ہوا ہے۔صوبائی حکومتیں سارے بحران کا ملبہ وفاق پر ڈالتی ہیں جبکہ اصل ذمہ داری ان ہی صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔
مہنگائی کو قابو کرنے یا کم کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان جو موثر رابطہ کاری یا تعاون درکار ہے اس کا بھی واضح فقدان نظر آتا ہے۔صوبائی حکومتوں کی سطح پر کوئی موثر نگرانی، جوابدہی اور شفافیت کا نظام نظر نہیں آتا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ خود بیوروکریسی کا نظام بھی ہے جو عام آدمی کے مفاد سے زیادہ اپنے مفادات کے تحت کام کرتا ہے۔ سیاسی منتخب لوگ اپنے آپ کو اس نظام میں بے اختیار سمجھتے ہیں اور اس کای بڑی وجہ جہاں حکومتی پالیسی ہے وہیں وہ اس بحران کی وجہ بیوروکریسی بھی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی سطح پرمعاشی استحصال کے خلاف جوابدہی کا کوئی موثر نظام نہیں۔ جن لوگوں نے ملک میں چینی اور آٹے کا بحران پیدا کیا وہ تاحال احتساب کے شکنجے میں نہیں جکڑے جاسکے۔وزیر اعظم عمران خان کو یہ بات کھل کر تسلیم کرنی ہوگی کہ وجوہات جو بھی ہیں او رمہنگائی کا جو بھی جواز ہے لوگ ان کی حکمرانی کے نظام کو چیلنج کررہے ہیں۔کیونکہ حکومت کا کام مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے۔ اور لوگوں کو جب عمومی طور پر ریلیف ملتا ہے تو اس سے ہی حکومتوں کی ساکھ اور شفافیت قائم ہوتی ہے۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی براہ راست حکومت ہے۔ ان دونوں صوبوں میں کچھ نہ ہونا یا بہتری نظر نہ آنا ان کی اپنی جماعت اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہے او راس کا ردعمل عوام میں بتدریج بڑھ رہا ہے۔
حکمران طبقہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض بڑے بڑے سیاسی نعروں، تقریروں یا جذباتیت پر مبنی گفتگو سے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا۔اس کو ہر صورت میں معاشی ریلیف درکار ہوتا ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے تو دوسری طرف بے روزگاری او رمعاشی بدحالی کی کیفیت ہے تو ایسے میں کمزور اور غریب یا بدحال لوگ کہاں جائیں۔نئے لوگوں کو روزگار دینا تو دور کی بات پہلے سے موجود روزگار لوگوں کو جس برے طریقے سے بے روزگاری کا سامنا ہے وہ بھی سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیر اعظم اور وزرائے اعلی ایسی ٹھوس حکمت عملی، قانون سازی یا پالیسی سازی سمیت عملدرآمد کے نظام میں کوئی بڑی بنیادی تبدیلی نہیں کرسکے جو عام لوگوں کی حالت بدل سکے۔وزیر اعظم کو سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی کے جن کا علاج کسی روائتی اور فرسودہ پالیسی یا حکمت عملی سے ممکن نہیں۔ اس وقت جو مہنگائی کی غیر معمولی صورتحال ہے اس میں واقعی غیر معمولی، کڑوے اور سخت گیر اقدامات کرنے ہوں گے۔
اصولی طور پر مہنگائی کے خاتمہ کے لیے ایک بڑی ”ایمرجنسی“ کو نافذ کرنا ہوگا۔ یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت میں موجود تمام فریقین یعنی وفاقی اور صوبائی حکومتیں یا انتظامیہ مل بیٹھ کر کچھ علاج تلاش نہ کریں۔ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تشویش او رحالات کی نزاکت کو سمجھیں اور فوری طور پر چاروں صوبائی وزرائے اعلی سمیت مہنگائی سے جڑی وزارتوں او ربیوروکریٹس کو بلا کر ایک ہنگامی حکمت عملی یا پالیسی اختیار کریں۔