بُلھے شاہ کا سوال نامہ

خواب صرف خواب ہوتے ہیں ، جو بیک وقت  خوبصورتی اور بد صورتی کا مرقع ہو سکتے ہیں۔  اس کی مثال یوں ہے کہ  شادی ایک خوبصورت خواب ہے۔  دو اجنبیوں  کا شناسائی کے رشتے میں منسلک ہوجانا  نیک فال ہے لیکن  اس رشتے میں خوبصورتی کے ساتھ ازدواجی تنازعات ، میکے اور سسرال  کے دو متحارب کیمپوں کے درمیان  مقابلے، تنازعات اور  طلاق کے امکان کی بد صورتی بھی شامل ہوتی ہے۔

 ہمارا آپ کا پاکستان غالباً  مذہب کی جدید ترین تاریخ کا  حسین ترین خواب تھا  جس میں چار مارشل لاؤں،  سقوطِ ڈھاکہ اور  بیڈ گورننس کی بد صورتی بھی شامل ہوگئی ہے۔  انہی سوچوں کے درمیان  غنودگی کے عالم میں  ِ خود کو میں نے حضرت بہلول دریائی  کی درگاہ کے نواح میں پایا ، جہاں حضرت بُلھے شاہ  ایک پہاڑی چٹاں سے ٹیک لگائے ، دو زانو  قبلہ رو براجمان تھے۔  میں نے بصد ادب سلام پیش کیا  اور کچھ پوچھنے کی اجازت طلب کی۔  آپ نے سر کے لطیف اشارے اور بلیغ مسکراہٹ   سے اذن بخشا  تو میں نے گزارش کی کہ  آپ نے سوال اُٹھایا تھا کہ:

بُلھیا کیہ جاناں  میں کون؟

میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ بُلھا شناسی کی منازل کیا ہیں ؟  آپ نے کمال شفقت سے میرے سر پر ہاتھ رکھا  اور فرمایا کہ اپنے من کے بُلھے سے پوچھو۔  مجھ سے مت پوچھو کیونکہ میرا جواب تمہارا جواب نہیں ہوگا۔  ہر شخص کو اپنی زندگی کے سوالوں کے جواب  خود دینے ہوتے ہیں ۔

میں نے عرض گزاری کہ میری زندگی کی گاڑی اب  آخری سٹیشن  پر پہنچنے کو ہے ، کوئی ایسا طریقہ بتائیے  کہ میں ہر مرحلہ  شوق کو بہ آسانی طے کر لوں ۔ اس پر آپ نے اپنے بُغچے میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکالا جس  پر کچھ سوالات درج تھے۔  وہ کاغذ مجھے تھماتے ہوئے فرمایا کہ  ان سوالوں کا جواب تلاش کرو، اللہ تمہیں آسانیاں عطا فرمائے گا اور اگر تمہاری طلب صادق ہے تو اپنا مقصود پا لو گے۔ یہ کہ کر اتنی زور سے میرا کندھا تھتھپایا  کہ میں ہڑبڑا کر  اُٹھ بیٹھا۔  اور حیرت کی بات یہ تھی ایک ایک کاغذ سچ مچ میری دونوں ہتھیلیوں کے درمیان  کڑکڑا رہا تھا۔  میں نے اچنبھے کے عالم میں کاغذ کھولا تو دیکھا کہ اس پر دس سوالات درج ہیں؛

۱۔ کیا تم خُدا کی آواز  آسانی سے سُن اور سمجھ  پاتے ہو؟ وہ آواز جو  جو قرآنی آیات میں پنہاں ہے۔  تم جانتے ہوگے کہ اللہ سمیع اور بصیر ہے ۔ وہ دیکھتا اور سُنتا ہے۔ کیا تم خدا کی طرح غیر جانبداری سے دیکھ اور سن سکتے ہو؟

۲۔ کیا تم خُدا کی ٓاواز کے آئینے میں  خود اپنی آواز سن سکتے ہو اور سن کر قرآنِ کریم  کے احکامات کی من و عن اور حرف بحرف  پیروی کرتے ہو یا صرف مونہہ زبانی  اسما  کا ورد کرتے رہتے ہو؟

۳  کیا تم اپنی آواز کے آئینے میں خود اپنی آواز سن سکتے ہو اور قراانِ کریم کے احکامات کی حرف بحرف پیروی کر سکتے  ہو یا  مسلمان ہونے کا محض خیالی پلاؤ ہی پکاتے رہتے ہو۔

۴۔ کیا تم اپنے غصے کو دیکھ کر،  اُسے پچھاڑ کر لوگوں کو معاف کرسکتے ہو  کیونکہ تیرے رب نے کہا ہے کہ: والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس۔  کہ اُس کے بندے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں  جب کہ عام لوگ ایک گالی اور ایک مخالفانہ رائے کو عمر بھر نہیں بھول سکتے اور ایک لفظ کا زخم عمر بھر نہیں بھرتا۔اسی لیے پرانے عربوں نے کہا تھا:

جراحت السنان لہ التیام

ولا یلتام ما جرح اللسان

کہ نیزے  کا لگا گھاؤ تو بھر جاتا ہے مگر زبان کا دیا زخم کبھی نہیں بھرتا،  کیا تم زبان کے زخم کو عفو درگزر  سے بھرنے کی اہلیت رکھتے ہو؟

۵۔ کیا تم اپنے اندر کینسر کی طرح جاگزیں  لالچ سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہتے ہو؟

۶۔کیا تم کو اس بات کا واضح علم ہے  کہ تمہارے  وجود میں کتنی نفرت چھپی ہے؟

۷۔ کیا تم دوسروں سے اور اپنی ذات سے بولے ہوئے جھوٹ  سے واقف رہتے ہو؟ جب تم خود سے یہ  وعدہ کرتے ہو  کہ فلاں کام کرنا ہے اور تم نہیں کرتے تو تم خود سے جھوٹ بولتے ہو اور تم پر لعنت اللہ علی الکاذبین کا  حکم نافذ ہوجاتا ہے ۔اور کیا تم بتا سکتے ہو کہ جو شخص خود سے جھوٹ بولتا ہے وہ کسی دوسرے سے کیسے سچ بول سکتا ہے؟

۸۔ کیا تم کسی بات کو سن کر آگے بیان کرنے سے پہلے تحقیق کرتے ہو کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یا پھر سنے سنائے جھوٹ کو میڈیا پر اچھالتے اور اپنے حلقہ  شناسایاں میں تقسیم کرتے پھرتے ہو اور جھوٹ کے ڈسٹریبیوٹر بن جاتے ہو۔

۹۔ کسی کی عدم موجودگی میں اُس کے خلاف  باتیں کرنا  غیبت ہے۔ غیبت کو مردے بھائی کا گوشت کھانے سے مماثل قرار دیا گیا ہے جو حرام ہے ۔ کیا کبھی تم نے یہ گوشوارہ  مرتب کیا ہے کہ  غیبت کر کے  تم چوبیس گھنٹے میں کتنا حرام کھاتے ہو؟

۰۱۔ تم نے ایک عقیدہ بنا رکھا ہے جس کی کھڑکی سے تم اپنے رب کو دیکھتے ہو۔ تم  یقیناً  رب  تک رسائی چاہتے ہو  لیکن جب ذکر وصلوٰۃ کے ساتھ جب  تم اپنی روزمرہ زندگی میں  بے انصاف، کرپٹ، ظالم، دھوکہ باز ، ذخیرہ اندوز  اور بے ایمان ہو تو  کیا تمہاری نمازیں  تمہیں رب تک پہنچا سکیں گی:

سجدے کر کر گھس گئے متھے

نہ رب تیرتھ نہ رب مکے

جس پایا تس نور انوار

عشق دی نوہیں او نویں بہار

یہ دس سوال ہیں ۔ اگر ان دس سوالوں کا جواب تم  اپنے طور پر تلاش کر لو  تو شاید تم اپنے آپ تک پہنچ سکو  ورنہ جو ہو رہاہے وہ ہوتا رہے گا، گیہوں کے ساتھ گھن پستا رہے گا، بچے سڑکوں پر بے آبرو ہو کر قتل ہوتے رہیں  گے ، تم بے بسی سے ہاتھ ملتے رہو  گے۔  اور آسمان تم پر ہنستا رہے گا۔