لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑ دیا
- سوموار 12 / اکتوبر / 2020
- 9050
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ وزیراعظم نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔
ایک ٹوئٹ پیغام میں عاصم باجوہ نے لکھا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی تھی کہ مجھے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے اضافی عہدے سے دستبردار ہونے دیں۔ وزیراعظم نے میری درخواست منظور کرلی ہے۔
عاصم سلیم باجوہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ معاون خصوصی کے اضافی عہدے پر بھی فرائض انجام دے رہے تھے۔ اگست میں صحافی احمد نورانی کی جانب سے ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی اہلیہ، بچوں اور بھائیوں کے آف شور کاروبار بنانے میں اپنے دفتر کا استعمال کیا۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عاصم باجوہ کے چھوٹے بھائیوں نے 2002 میں پہلا پاپا جوہن پیزا ریسٹورنٹ کھولا اور یہ وہی سال تھا جب عاصم باجوہ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے اسٹاف میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر کام شروع کیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ 53 سالہ ندیم باجوہ جنہوں نے پیزا ریسٹورنٹ فرنچائز کے لیے ڈیلوری ڈرائیور کے طور پر کام کا آغاز کیا تھا، اب ان کے بھائیوں اور عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ اور بیٹوں کا اپنا کاروبار ہے۔ ان کی 4 ممالک میں 99 کمپنیاں ہیں۔ ان میں 3 کروڑ 99 لاکھ ڈالر مالیت کے 133 ریسٹورنٹس کے علاوہ پیزا فرنچائزز بھی شامل ہیں۔
خاندان کے اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کے بعد عاصم باجوہ نے ستمبر کے اوائل میں معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ستمبر کے اوائل میں عاصم سلیم باجوہ نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی وہ اس سے مطمئن ہیں۔
اس وقت وزیر اعظم نے انہیں بطور معاون خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگائے جانے والے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مذکورہ رپورٹ کے بارے میں چار صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بارے میں خبر شائع کی، جسے غلط اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا تھا کہ حقیقت دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر الزامات میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے۔