سانحہ موٹر وے کی وجہ گھٹیا ذہنیت؟
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 12 / اکتوبر / 2020
- 8930
سانحہ موٹر وے کا ایک ملزم نشاندہی کے باوجود ہنوز نہیں پکڑا جا سکا۔ حکومت پنجاب کی انتظامی اہلیت کے حوالے سے یہ افسوسناک صورتحال ہے۔ اس اندوہناک سانحہ پر سوشل میڈیا میں بڑی بحث ہوئی ہے، اس کے باوجود یہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔
سوشل میڈیا پر کئی زیادہ سیانے بہت سے اعتراضات کرتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس میں احساسِ ذمہ داری کا فقدان ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منفی ذہنیت والے عزت داروں کی عزتیں اچھالنے میں بھی ذرا شرم محسوس نہیں کرتے ۔ بلاشبہ سچ اور جھوٹ کی پرکھ کے ساتھ فٹ ڈیڑھ فٹ کی زبانوں کو لگام پڑنی چاہئے ۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وقت کے ساتھ جوں جوں عوامی شعور کی سطح بلند ہوتی چلی جائے گی اسی حساب سے سوشل میڈیا میں احساسِ ذمہ داری بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ ضرورت خارجی بندش کے بجائے داخلی تربیت کی ہے ۔
سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی کسی بھی سوچ کا ابلاغ اور بے پایاں آزادی اظہار کا میسر آنا ہے ۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی گھٹن کی شکار کسی بھی سوسائٹی میں سوشل میڈیا کی آزادی عظیم الشان نعمت اور رحمت سے کم نہیں ہے ۔ پابندیوں اور بندشوں کی ماری کسی بھی مملکت یا سوسائٹی میں سوشل میڈیا کی آزادی گھٹا ٹوپ مایوسیوں کے اندھیرے میں سحر کا اجالا ہے ۔ ہمارے سماج کو کسی بھی قیمت پر اس کا تحفظ کرنا ہوگا کیونکہ اس کی برکت سے صدیوں کی جہالت لرزہ براندام اور سخت پریشان ہیں۔ اندھی جذباتیت کو اپنے بچاﺅ کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے دانشور اور شاعر و ادیب صدیوں سے رونا روتے چلے آ رہے ہیں۔ بھرم کھل جائے ہے ظالم ترے قامت کی درازی کا / گر اس طرہ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے ۔
قصور کی معصومہ زینب کا کیس ہو یا فرانس سے تشریف لائی ہوئی یہ بے قصور و بے نوا محترمہ، ان کے دکھوں کو سوشل میڈیا نے ہی آواز اور زبان دی ہے۔ ورنہ اس نوع کے اندوہناک سانحات سے تاریخ انسانی کا کوئی دور بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔ فرق یہ پڑا ہے کہ پہلے ایسی دکھیاریوں کی درد بھری آہوں کو وقت کا مقدس و غیر مقدس جبر شانِ بے نیازی سے دبا دیا کرتا تھا۔ غضب خدا کا ایک حضرت صاحب کھلے بندوں فرما رہے تھے کہ وہ مظلوم عورت جس کے ساتھ ریپ جیسی درندگی ہو وہ یا تو چار چشم دید تزکیة الشہود کے معیار پر پورا اترنے والے متقی پرہیزگار مسلمان مرد گواہ پیش کرے، بصورت دیگر چپ چاپ گھر چلی جائے یعنی زبان بھی نہ کھولے ۔
کاش پارسائی کے یہ دعویدار قوم کی بچیوں کو بھی اپنی بچیوں کی طرح دیکھتے یا اپنی بچیوں کو وہاں رکھ کر نظر ڈالتے، پھر انہیں دوسروں کے سینوں میں امڈتی ہوئی جلن کا احساس و ادراک ہوتا۔ انہی نیکوکاروں کا یہ جعلی پروپیگنڈہ رہا ہے کہ سوسائٹی میں ریپ کی وجہ حجاب و نقاب کی پابندی نہ کرنا ہے ۔ ایک علامہ نے تو یہاں تک فرما دیا کہ جو خواتین تھوڑے کپڑوں میں باہر نکلتی ہیں، ان کی مثال اس ننگے گوشت کی ہے جس پر بلا فوری حملہ آور ہوتا ہے ۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہ کی کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی وہ خواتین آپ ذمہ دار ہیں، اس میں مردوں کی گندی نظروں کا تو گویا کوئی قصور نہیں ہے ۔
سوشل میڈیا کی برکت سے آج پوری سوسائٹی یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ ہماری مساجد اور مدارس میں چھوٹی چھوٹی نابالغ معصوم بچیوں کے ساتھ آئے روز درندگی و سفاکی کی جو لرزہ خیز وارداتیں ہو رہی ہیں، ان کا کارن کیا ہے ؟ ان چھ سات سال کی بچیوں کو بھی کیا ٹوپی والے برقعے پہنا دیئے جائیں؟ چلیں ٹھیک ہے آپ زور آور ہیں پہنا دیں۔ اسی عمر کے معصوم بچوں یعنی لڑکوں کے ساتھ انہی مقامات پر جو کچھ ہوتا ہے، اس کی تفصیلات تمامتر پردہ پوشیوں کے باوجود جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں تو درویش کا سوال یہ ہے کہ یہ ذہنیت کہاں سے پیدا ہوتی ہے ؟ کیا آپ یہ فرماتے ہیں کہ ان بچوں کو بھی نقاب و حجاب کا پابند بنایا جانا چاہئے ؟
ہمارے یہاں عام وتیرہ ہے کہ جی اس کی وجہ دین سے دوری یعنی فحاشی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری روایتی سوسائٹی میں فحاشی کے معنی ہی غلط لئے جاتے ہیں۔ یہ تو پرلے درجے کی بدتہذیبی کا نام ہے۔ اس کا لباس کی تراش خراش سے کیا تعلق ہے؟ آپ کی ذہنیت میں اگر تراش خراش یا سلیقہ طریقہ نہیں ہے، وہاں اگر شعور کی جگہ روایتی گٹر بھرا ہوا ہے تو آپ حرمین شریفین جیسے مقدسات میں بیٹھ کر بھی نیچ ہی رہیں گے ۔ شیاطین احرام پہن لیں پھر بھی شیاطین ہی رہیں گے لہٰذا اصل ضرور شیطانی ذہنیت کو بدلنے کی ہے ۔
کئی معززین یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جی عورت کو بغیر محرم کے سفر نہیں کرنا چاہئے ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ہماری اسی اسلامی سوسائٹی کی کیا یہ مثالیں آپ لوگوں کے سامنے نہیں آ چکی ہیں کہ پہلی رات قبر میں دفن کی گئی محترم خواتین کے ساتھ کیا کلمہ گو مسلمان درندگی کی آخری حدوں کو نہیں چھو چکے ہیں؟ کیا وہاں بھی محرم کو ساتھ ہونا چاہئے ؟ درویش پوچھتا ہے کہ ایسی گندی ذہنیت والوں نے کون سی فحش کتابیں پڑھ رکھی تھیں، معصوم بچوں اور بچیوں کو پڑھانے والے نام نہاد صاحبان ، انڈین موویز دیکھتے ہیں یا ہالی وڈ کے ڈرامے ؟ یہ گھٹیا قسم کے پروپیگنڈے آپ لوگ کب تک کرتے رہیں گے ؟ آپ ہی لوگ اس نوع کی روایات سناتے پڑھتے پڑھاتے نہیں تھکتے ہیں کہ بہترین زمانہ وہ ہوگا جب زیورات پہنے سجی سجائی نوجوان خاتون مدینے سے تنہا حضرموت کا سفر کرے گی اور اسے سوائے خدا کے کسی کا کوئی خوف نہیں ہو گا۔ معاف کیجئے گا آپ کے ستاون خطوں میں تو یہ آئیڈیل صورتحال 14صدیوں میں پیدا نہیں ہو سکی اور جنہیں فحاشی و عریانی کے طعنے دیتے نہیں تھکتے ہو، وہاں ایسی ایک سو ایک مثالیں آپ کو دکھائی جا سکتی ہیں۔
شاید اسی لئے ایک روایتی ذہن نے یہ کہہ دیا تھا کہ خاتون کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ فرانس نہیں پاکستان ہے، اسے لیٹ نائٹ اس رستے سے سفر نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ایسے لوگوں کو شرم دلانے کیلئے بنگلہ دیشی جج صاحب کے الفاظ یاد دلانے کے قابل ہیں۔ جس نے سولہ زانیوں کو سزائے موت سناتے ہوئے کہا کہ یہ بنگلہ دیش ہے پاکستان نہیں۔ اے وطن عزیز کے متقی و پرہیزگار لوگو! ایسی گندی ذہنیتوں کو بدلنے کیلئے روایتی ملمع کاریوں کو چھوڑتے ہوئے کب شعور اور انسانیت کی آواز بنو گے ؟