نیب نے نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل بند ہونے سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لے لیا

  • منگل 13 / اکتوبر / 2020
  • 5990

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے امریکا میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے بند ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر نوٹس لے لیا ہے۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے نیویارک کی انتہائی اہم جگہ پر تقریباً 100 برسوں سے قائم پاکستان کے مشہور زمانہ روزویلٹ ہوٹل 31 اکتوبر سے بند کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب راوپنڈی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے اعلامیے کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ امریکا میں اہم جگہ پر قائم پاکستان کے قومی ورثہ روزویلٹ ہوٹل کو بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

خاص طور پر ان وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کو مبینہ طور پر لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان ذمہ داران کا بھی تعین کیا جائے گا جنہوں نے اپنے قومی فرائض کی انجام دہی میں مبینہ طور پر کوتاہی برتی اور امریکا کے شہر نیویارک میں قائم روزویلٹ ہوٹل کو منافع بخش بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

واضح رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے مرکز میں واقع ہے۔ پی آئی اے نے 1979 میں اس 19 منزلہ عمارت کو شراکت داری سے حاصل کیا تھا۔ 1999 میں بغیر کسی حکومتی مدد کے اپنے وسائل سے اس کے 100 فیصد شیئرز حاصل کرلیے تھے۔ اس ہوٹل میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور اس کا رقبہ 43 ہزار 313 اسکوائر فٹ ہے جو شہر کے ایک پورے بلاک پر محیط ہے۔

ہوٹل کی مکمل ملکیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے نے اس کی تزئین و آرائش کرائی تھی، جس کے بعد اس نے لمبے عرصے تک زیادہ منافع کمایا ۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحتی شعبے اور ہوٹل سیکٹر میں گراوٹ آئی اور روز ویلٹ ہوٹل بھی اس سے نہ بچ سکا۔ گزشتہ دنوں روزویلٹ ہوٹل نے اعلان کیا تھا کہ وہ 31 اکتوبر سے مہمانوں کے لیے اپنے دورازے مستقبل طور پر بند کردے گا۔

اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ موجودہ معاشی اثرات کے باعث نیویارک کا گرینڈ ڈیم روزویلٹ ہوٹل تقریباً 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد 31 اکتوبر سے اپنے دروازے مستقل طور پر بند کر رہا ہے۔

سفارتی ذرائع نے واضح کیا تھا کہ پی آئی اے ابھی تک اس جائیداد کا مالک ہے چونکہ عمارت کو فروخت نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جارہا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی تمام رپورٹس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور قیاس آرائیوں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی انتظامیہ نے 16 کروڑ ڈالر کا قرض جے پی مورگن بینک سے لیا تھا اور وہ اپنی آمدنی کے نظام سے اس قرض کی باقاعدہ ادائیگی کررہی تھی اور اب 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنا باقی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روزویلٹ ہوٹل فی الحال کام کر رہا ہے اور دوسری ایئرلائنز کے ساتھ اس سال دسمبر تک کے معاہدے ہیں۔ اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی آپشن موجود ہیں لیکن اس سے متعلق تمام فیصلے ہوٹل کے بورڈ اور پاکستانی حکومت مل کرکیں گے۔