پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے متعلق شبہات
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- منگل 13 / اکتوبر / 2020
- 7020
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے منسلک ذیلی ادارے ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کو بدستور نگرانی کی فہرست مین شامل رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگرچہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے کچھ پیش رفت کے مشاہدہ کیا گیا یے۔ حال ہی میں ایشیا پیسفک گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویز کردہ 40 میں سے دو سفارشات پر موثر عمل درآمد کیا ہے, 26 پر جزوی طور پر جب کہ 9 پر بڑی حد تک عمل کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھا جائے گا اور پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے ایشیا پیسفک گروپ کو آگاہ کر رکھے گا۔ ایشیا پیسفک گروپ کی رائے کا انکشاف حال ہی میں جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ایک وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو تنظیم کی گرے لسٹ میں برقرر رکھا جائے یا نہیں۔ یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ تنطیم کی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔
اقتصادی امور کے تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسفک گروپ کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے حوالے سے ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کے لیے 40 سفارشات تجویز کی تھیں کہ ان پر عمل درآمد کو موثر بنایا جائے۔ مناسب قوانین وضع کرنے کے باوجود ان کے بقول ابھی تک پاکستان میں مالیاتی جرائم میں سزایاب ہونے کی شرح بہت کم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب آخری بار ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تجویز کردہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا تھا تو اس وقت پاکستان کو 51 پوائٹ ملے تھے۔ عمل درآمد کے حوالے سے اگر پوائٹس پچاس سے نیچے ہوں تو بلیک لسٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر پوائٹس 50 اور 75 کے درمیان ہوں تو گرے لسٹ میں برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ایف اے ٹی ایف کے تین رکن ممالک چین، ملائیشیا اور ترکی، پاکستان کے حق میں ووٹ دیتے رہے تو بعض ممالک کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو روز قبل ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویزکردہ 27 میں سے 21 سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کر رہا ہے۔ جب کہ باقی چھ کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس لیے پاکستان جلد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان پیرس میں 21 سے 23 اکتوبر کر ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کرے گا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق اس نے کئی موثر اقدمات کیے ہیں۔ جب کہ پاکستان کی پارلیمان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی منظوری دی چکی ہے۔