کے الیکٹرک کے مالی معاملات پر سپریم کورٹ کی تشویش
- منگل 13 / اکتوبر / 2020
- 6380
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے واحد نجی ادارے کے الیکٹرک پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خبروں میں آرہا ہے کہ کراچی کی کمپنی ممبئی سے کنٹرول کی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف ازخود نوٹس پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت میں اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان، ایم ڈی کے الیکٹرک، نیپرا اور کے الیکٹرک کے وکلا و دیگر لوگ پیش ہوئے۔ عدالت میں بجلی کی فراہمی سے متعلق رپورٹس پیش کی گئیں، جنہیں مسترد کردیا گیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ان رپورٹس میں کچھ بھی نہیں۔ کراچی میں بجلی کا مسئلہ جوں کا توں ہے، وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کچھ کر رہی ہے، فیڈریشن بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ جس کی مرضی ہے حکومتی اداروں کا استحصال کرے کوئی روکنے والا نہیں۔ حکومتی کمزوری کا سب ادارے فائدہ اٹھا رہے ہیں، دائیں اور بائیں ہر طرف سے حکومت کا استحصال کیا جارہا ہے۔
کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی واحد نجی کمپنی کے الیکٹرک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کے الیکٹرک والے لوگوں کو ہائی جیک کرکے ماسٹربن گئے ہیں، آج پھر بجلی کی قیمت بڑھا دی گئی۔
عدالت میں سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو کنٹرول کون کرتا ہے، کتنے شیئر ہولڈرز ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ وہ 9 شیئر ہولڈرز کون ہیں جو فریق بننا چاہتے ہیں؟ یہ چیئرمین شان عشری کون ہے؟ کیا یہ پاکستانی ہے؟
اس پر شان عشری عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ ان کا پورا نام شان عباس عشری ہے۔ شان عشری نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں، میری وفاداری پر شک نہ کریں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ پاکستان سے وفادار ہوتے تو کے الیکٹرک اور پاکستان کے عوام کا یہ حال نہ ہوتا۔
اس پر شان عشری نے جواب دیا کہ کے الیکٹرک میں سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے 400 ملین (40 کروڑ) ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں پر ہمیں تحفظات ہیں۔ اخباروں میں خبریں لگی ہیں کہ شرما ورما نام کے لوگ کے شیئر ہولڈرز ہیں۔ خبروں کے مطابق کراچی میں بجلی کی تقسیم ممبئی سے کنٹرول ہورہی ہے۔
وکیل کے الیکٹرک نے بتایا کہ ممبئی کے شیئر ہولڈرز والی خبریں غلط ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تو اخبار میں خبریں پڑھی ہیں۔ ہمیں سورس (ذرائع) کا نہیں پتا، اس پر وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں شیئر ہولڈرز کی سیکیورٹی کلیئر ہے۔ وکیل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کارپوریٹ معاملات الجھے ہوئے ہوتے ہیں، سامنے کوئی اور پیچھے کوئی اور ہوتا ہے۔ سارے عمل میں آخر میں فائدہ کوئی اور لے جاتا ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت سے 2 ہفتوں میں پریزنٹیشن اور نیپرا سے 4 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا