مذاکرات کے لئے بھارت کو کشمیریوں کو تیسرے فریق کے طور پر قبول کرنا پڑے گا: پاکستان
- منگل 13 / اکتوبر / 2020
- 6570
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے اقدامات واپس لے اور کشمیریوں کو بھی اس بات چیت کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے بھارتی نئوز سائٹ دی وائر کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بھارت نے پاکستان کو مذاکرات کا پیغام بھیجا ہے۔
ڈاکٹر معید یوسف نے 'مذاکرات' سے متعلق باھرت کی پیشکش کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ 75 منٹ کے انٹرویو میں معید یوسف نے کہا کہ ہمیں بڑوں کی طرح بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، کشمیر اور دہشت گردی دو مسئلے ہیں اور ہم دونوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد کسی بھی پاکستانی سینئر عہدیدار کا یہ بھارتی میڈیا کو پہلا انٹرویو ہے۔ معید یوسف سے باھرتی صحافی کرن تھاپر نے دی وائر کے لئے انٹرویو لیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے انٹرویو میں واضح کیا کہ پاکستان کے پاس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے بھی ثبوت موجود ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت نے اے پی ایس حملے کو سپانسر کیا، جس میں معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
انہوں نے کہا کہ حملے سے قبل ٹی ٹی پی کمانڈر کو بھارت سے کی جانے والی 8 فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ ایک ہمسایہ ملک میں بھارتی انٹیلی جنس ہینڈلرز نے گزشتہ دو برس میں کراچی میں چینی قونصل خانے، گوادر میں پی سی ہوٹل اور اسٹاک ایکسچینج پر حملے کروائے تھے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بی ایل اے کے دہشت گرد نے نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں علاج کروایا ہے۔
ڈاکٹر معید نے بتایا کہ حال ہی میں 'را' افسران کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے 10 لاکھ ڈالر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اگر مقبوضہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو نئی دہلی پہلے مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ غیر انسانی فوجی محاصرے کی صورت حال ختم کی جائے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی کا قانون کو منسوخ کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔
ڈاکٹر معید یوسف نے وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ انہوں نے بھارتی ناظرین سے کہا کہ کشمیری سیاست دان بھی اعتراف کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی اب بھارتی قبضے میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری تنازع میں اصل فریق ہیں اور ان کی خواہشات اور امنگیں کسی بھی مکالمے کا حصہ ہوں گی۔
معید یوسف نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پاکستان اور خطے کی خوشحالی کے لیے معاشی استحکام اور راہداری کا ویژن رکھتی ہے۔ مودی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت خطے میں تنہا رہ گیا ہے۔ تاہم پاکستان اپنے پڑوس میں امن کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کے جواب میں ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان نے عدالتوں میں زیر التوا تمام معاملات میں تحقیقات میں مدد فراہم کی لیکن بھارت ثبوت فراہم نہ کرکے تحقیقات میں تاخیر کرتا رہا۔
گلگت بلتستان اور کشمیر کے معاملے پر بھارت کی طرف سے تازہ ترین پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان تنازع کے حل اور 8 لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا حامی ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ حالیہ تاریخ میں وزیر اعظم عمران خان نے پچھلی حکومتوں سے بڑھ کر دنیا میں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم مذاکرات کے راستے بند کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے اور بھارت کے ساتھ کسی بھی مکالمے کا خیرمقدم کرے گا۔ تاہم اسے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی معمول پر لانا ہوگی اور کشمیریوں کو مذاکرات میں پرنسپل پارٹی تسلیم کربا پڑے گا۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی بھی بند کرے۔
انہوں نے آپریشن سوفٹ ریٹورٹ میں پاکستان کے ردعمل کی طرف بھی اشارہ کیا اور متنبہ کیا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی غلطی کے نتیجہ میں پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا۔