پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا رکن منتخب ہوگیا
- بدھ 14 / اکتوبر / 2020
- 7100
پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ تاہم سعودی عرب یہ نشست حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایشیا بحر الکاہل خطے کے لیے خالی ہونے والی چار نشستوں پر پانچ امیدوار تھے جس کے لیے منگل کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے رکن ملکوں نے ووٹ دیا۔ پاکستان کو 193 رکنی جنرل اسمبلی میں 169 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔ اس خطے سے منتخب ہونے والے دیگر ممالک میں چین، نیپال اور ازبکستان شامل ہیں۔ سعودی عرب انتخاب جیتنے میں ناکام رہا ہے۔
پاکستان یکم جنوری 2018 سے ایچ آر سی کا رکن ہے۔ منگل کو دوبارہ انتخاب کے بعد پاکستان آئندہ تین برس کے لیے اس کونسل کا رکن رہے گا جس کا آغاز آئندہ سال یکم جنوری سے ہو گا۔ 2006 میں ایچ آر سی کے قیام کے بعد سے یہ پانچویں بار ہے کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اہم ادارے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
رواں برس انسانی حقوق کونسل کی 15 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ فرانس اور برطانیہ ایچ آر سی میں یورپ سے منتخب ہوئے ہیں۔ میکسیکو، بولیویا اور کیوبا لاطینی امریکہ سے جب کہ افریقہ سے سینیگال، آئیوری کوسٹ، ملاوی، گیبون اور مراکش کا انتخاب ہوا ہے۔ رکن منتخب ہونے والے ملکوں میں روس اور یوکرین بھی شامل ہیں۔
جنیوا میں قائم 47 ملکوں پر مشتمل ہیومن رائٹس کونسل ایک بین الحکومتی کونسل ہے جو کہ اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرتی ہے۔ ایچ آر سی اور اس کی ذمہ داریوں میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کا تحفظ اور ان کو تقویت دینا ہے۔ اس کونسل میں وسیع تر انسانی حقوق سے متعلق معاملات اور توجہ طلب مخصوص حالات پر بات چیت کی جاتی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کونسل سے مقبوضہ کشمیر کے علاوہ السلاموفوبیا کے بارے میں آواز بلند کرے گا۔