مہنگائی میں اضافہ ہوگا: آئی ایم ایف

  • بدھ 14 / اکتوبر / 2020
  • 5790

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ قیمتوں پر کنٹرول کے لئے اقدامات کررہی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ دو فی صد رہے گی تاہم آئندہ سال یہ شرح آٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد ہونے کا امکان ہے۔  قومی پیداوار  کی شرح بھی منفی سے بہتر ہو کر ایک فی صد ہونے کی توقع ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے دنیا کے تمام ممالک سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کورونا وائرس سے مشکلات کا شکار ہونے کے بعد آئندہ پانچ سال تک کی معیشت کے اندازے لگائے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو اعشاریہ پانچ فی صد اور بے روزگاری صفر اعشاریہ چھ فی صد سے بڑھ کر پانچ اعشاریہ ایک فی صد ہونے کا امکان ہے۔ حکومتِ پاکستان نے شرح نمو جی ڈی پی کے دو اعشاریہ ایک فی صد، افراطِ زر چھ اعشاریہ پانچ فی صد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ پانچ فی صد رہنے کا ہدف مقرر کیا تھا جو آئی ایم ایف کے مطابق پورا ہونا ممکن نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی عالمی کوششوں کو کورونا کے باعث دھچکہ لگا ہے۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی اور روپے کی قیمت میں بہتری کے باوجود ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں اس وقت ڈالر کی قیمت 163 روپے تک پہنچی ہے جو دو ماہ قبل تک 168 روپے تھی۔

ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ سے بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کی بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ زر ہیں جب کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر ستمبر میں مسلسل چوتھے مہینے دو ارب ڈالر سے زائد رہی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق دو اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے پاس محفوظ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا حجم 12 ارب ایک کروڑ 54 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جب کہ مجموعی ذخائر کا حجم 19 ارب تین کروڑ 51 لاکھ ڈالر تھا۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں صفر اعشاریہ نو فی صد کمی جب کہ درآمدات میں صفر اعشاریہ پانچ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں آٹے کی قیمتیں گندم درآمد کرنے کے باوجود خطرناک حد تک پہنچ گئی ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں یہ بحران گندم کی سپلائی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ حکومت اس کمی کا ملبہ ذخیرہ اندازوں پر ڈال رہی ہے۔

گندم کے علاوہ چاول، چینی اور دالیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں 15 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 1100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال حکومت نے اُنہیں گندم اسٹاک کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی حکومت نے خود مطلوبہ گندم خریدی جس کی وجہ سے ملک میں شارٹ فال ہے۔ ملک میں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران روس سے ایک لاکھ 80 ہزار ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر نظر رکھنے کے لیے ٹائیگر فورس سے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں باقاعدگی سے آٹا، دال، چینی اور گھی کی قیمتوں پر نظر رکھیں اور نرخوں کو ٹائیگر فورس پورٹل پر پوسٹ کریں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیرِ اعظم کے اس اقدام کو سختی سے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ قیمتوں کو چیک کرنے کے حوالے سے ٹائیگر فورس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اس دوران وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود نے تسلیم کیا ہے کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں نہیں بڑھنی چاہیے تھی لیکن بڑھی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ  منافع خوروں  سے بچنے کے لیے گندم اور چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر خوراک سید فخر امام اور وزیرصںعت حماد اظہر کے ہمرا پریس میڈیا سے گفتگوکے دوران یہ باتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کواحساس ہے کہ شہریوں نے تکلیف برداشت کی ہے۔ چینی اور آٹے کی قیمت نہیں بڑھنی چاہیے تھی لیکن حکومت غافل نہیں ہے۔ جو لوگ اس نظریے سے مال چھپائے بیٹھے تھے کہ منافع پہلے سے زیادہ کمائیں گے تو ان کو جاننا چاہئے کی اجناس کی کمی درآمد سے پوری کی جائے گی۔۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ان کے لیے یہ فائدہ مند نہیں ہوگا۔ حکومت منافع خوری نہین کرنے دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت ایک اجلاس ہوا۔  وفاقی حکومت قیمتوں کے استحکام میں سنجیدہ ہے۔ ہمیں مالی اور انتظامی حوالے سے جو اقدامات کرنا پڑے کریں گے تاکہ قیمتوں میں استحکام آجائے۔