پاکستان زندہ باد
اکتوبر کا مہینہ ہماری سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ مہینہ ہے جب 16اکتوبر کو ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا۔ اس سازش کو آج تک بے نقاب نہیں کیا گیا کیونکہ کچھ پردہ نشینوں کے نام آرہے تھے۔ ملک کی سیاسی سمت کو تبدیل کرنا مقصود تھا۔
یہ مہینہ اکتوبر 1958کے پہلے مارشل لا کی یاد بھی دلاتا ہے جب سیاسی افراتفری کو بہانہ بنا کر قائداعظم اور لیاقت علی خان کے تصور جمہوریت کے بجائے ’نظریہ ضرورت‘ کی بنیاد رکھ دی گئی۔ حسین شہید سہروردی کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ہماری تاریخ کا المیہ ہے۔ اس محب وطن کو پاکستان کے پہلے ’غدار‘ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، یہ اعزاز ایک وزیراعظم سے دوسرے وزیراعظم کو منتقل ہوتا رہا۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں تو بغاوت کے مقدمات نے وبائی شکل اختیار کرلی تھی۔ صرف ایک انار کلی، لاہور کی ایف آئی آر میں 54افراد نامزد ہوئے اور اس دوسری میں کوئی 300سے زائد پی پی پی کے رہنما اور کارکن نامزد ہوئے۔
یہ مہینہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی قتل عام کی یاد بھی دلاتا ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی ایک واقعہ میں 200کے لگ بھگ ایک ہی جماعت کے سیاسی کارکن شہید ہوئے ہوں۔ جتنے 18اکتوبر 2007 کو کارساز کے قریب دو خودکش حملوں میں ہوئے۔ ٹارگٹ بہرحال بے نظیر بھٹو تھیں کیونکہ وہ اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آرہی تھیں۔ اگر وہ اس دن شہید ہوجاتیں تو ایک ہی ماہ میں دو وزرائے اعظم کی شہادت ہوتی۔ مگر شہادت ہوئی 27 دسمبر کو البتہ مقام وہی تھا جہاں لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تھا یعنی راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ (یہ نام شہادت کے بعد رکھا گیا)۔
یہ مہینہ سندھ کے ایک درویش گورنر اور سماجی کارکن حکیم محمد سعید کی شہادت کا بھی ہے جنہیں 17اکتوبر 1998کو کراچی میں ان کے مطب کے سامنے نامعلوم افراد نے شہید کردیا۔ ایم کیو ایم کے ایک کارکن کو گرفتار کیا گیا، سندھ میں گورنر راج لگا، فوجی عدالتیں قائم ہوئیں مگر وہ ملزم کئی سال بعد سپریم کورٹ سے بری ہوگیا اور اِس معاملے پر آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ اس نے نہیں تو یہ قتل کس نے کیا؟ یہ مہینہ 12اکتوبر 1999کی بھی یاد دلاتا ہے۔ جب وزیراعظم کے ایک اقدام کو جواز بناکر پوری حکومت اور منتخب پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا گیا اور پھر ماضی کی طرح اس اقدام پر بھی ’نظریہ ضرورت‘ کی اسٹیمپ لگا دی گئی۔
اب اسی مہینہ میں حال ہی میں قائم ہونے والے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کیا جارہا ہے جس کا پہلا جلسہ 16اکتوبر کو گوجرانوالہ، 18اکتوبر کو کراچی، پھر 25اکتوبر کو کوئٹہ میں طے پایا ہے۔ یہ جلسے کسی تحریک کی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے مگر یہ طے ہے کہ ان کی کامیابی یا ناکامی میں حکومت کا حصہ شامل ہوگا۔ اگر تحریک کے لئے مہنگائی کا ڈیزل حکومت مہیا کرتی رہی اور زور زبردستی کی تو وہ خود ہی اس کو کامیاب کروا دے گی۔
اسی مہینہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک سابق وزیر اعظم اشتہاری قرار پائے اور اب ان کا نہ صرف اشتہار ملک کے دو بڑے اردو اور انگریزی کے اخبارات جنگ اور ڈان میں شائع ہوگا بلکہ لندن کے بڑے اخبارات میں بھی دیا جائے گا۔ اگر ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن کا یوٹیوب پر ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو سامنے نہ آتا جس کی تصدیق میں نے خود میمن صاحب سے کی، تو میں یہ نا کہتا کہ وہ کتنے دباؤ میں رہے ہیں؟ پورے شریف خاندان کو جیل میں ڈالنے کے لئے یہ سارے کام تحمل اور برداشت کے ساتھ بھی ہوسکتے تھے۔
غداری اور بغاوت، منی لانڈرنگ سب ہی تحقیقات چل تو رہی ہیں مگر کیا کہیں ’قصرِ شاہی سے یہ حکم صادر ہوا‘ یاد ہے، نہ جالب کا یہ مصرع بھٹو صاحب کے زمانے میں کہا تھا ’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو‘۔ بس شہر بدلتے رہے، نام بدلتے رہے۔ سب کا اندازِ حکمرانی کم و بیش ایک ہی جیسا رہا ہے۔ آپ بھی کالم پڑھتے ہوئے سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اس کا عنوان ’پاکستان زندہ باد‘ کیوں رکھا؟ دراصل بشیر میمن نے مجھے بتایا کہ اس نے استعفیٰ دیتے وقت ایک طویل خط بھی تحریر کیا تھا جو وہ تمام سرکاری افسران کو بھیجنا چاہتا تھا جس کا عنوان تھا ، ’پاکستان زندہ باد‘۔
’مظہر بھائی، میں ایک سرکاری ملازم تھا اور جواب دہ میں ریاست کو تھا، جس کسی نے مجھے خلافِ قانون جانے اور اپنے اختیار سے تجاوز کا کہا، میں نے اُسے منع کردیا اور معذرت کرلی۔ اب سرکار اس پر ناراض ہوگئی، میری پنشن روک لی۔ 68لاکھ روپے کا چیک میرے اکاؤنٹ میں جمع کراکر واپس لے لیا جائے اور مجھے عدالت جانا پڑے تو میں کیا کروں؟ کیا یہ ہے میری اور میرے جیسے باوقار انداز میں کام کرنے والوں کی سزا‘؟
مجھے یاد ہے کہ بشیر میمن نے اصغر خان کیس میں پچھلے سال عدالت میں رپورٹ جمع کرائی تھی کہ جن لوگوں نے پیسے دیے اُن میں سے کچھ ملک سے فرار ہوگئے اور پیسے لینے والے سیاست دان بشمول میاں نواز شریف انکاری ہیں۔ میمن نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف بےنامی اکاؤنٹ کی تحقیقات میں بھی اہم کام کیا۔ مگر ایک ملاقات میں اس پر وزیر اعظم نے، ان کے بقول ان سے جو کہا وہ میں یہاں بیان نہیں کرسکتا کیونکہ وہ بات آف دی ریکارڈ ہے۔ استعفیٰ میں تو خیر انہوں نے صرف اتنا لکھا کہ ’حکومت میرے کام سے خوش نہیں لہٰذا میں یہ استعفیٰ بھیج رہا ہوں‘۔
اب آپ بتائیں ناصر درانی، طارق کھوسہ، اے ڈی خواجہ یا کلیم امام اور ایسے افسران کی کہانیاں سن کر بشیر میمن کے انٹرویو کو دیکھ کر اور ان سے بات کرکے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکمرانی چاہے کسی کی بھی ہو ’طرز حکمرانی‘ ایک جیسا ہی ہے۔ اب سیاسی جماعتیں میثاق جمہوریت کرلیں یا میثاق پاکستان جب تک آپ خود مثال قائم نہیں کریں گے، اپنے اندر جمہوریت نہیں لائیں گے، ہر دور میں کوئی ایک افسر ضرور کھڑا ہوگا اور آپ کو بےنقاب کرے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)