پاکستان کورونا کی دوسری لہر سے متاثر ہوسکتا ہے: اسد عمر

  • جمعرات 15 / اکتوبر / 2020
  • 4340

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے بڑھنے کے واضح اشارے ملے ہیں۔ اس دوران یورپ مین کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے پیرس سمیت فرانس کے متعدد شہروں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزیر اسد عمر نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ملک میں 2.37 فیصد کیسز مثبت آئے جو 50 دن میں سب سے زیادہ مثبت شرح ہے۔ عوام ایس او پیز پر عمل کریں بصورت دیگر ہمیں پابندیاں عائد کرنا پڑیں گی۔ اپن ٹوئٹ پیغامات میں انہوں نے لکھا ہے کہ رواں ہفتے کے ابتدائی 4 روز میں کورونا وائرس کی اوسطاً اموات یومیہ 11 رہی جو 10 اگست کے ہفتے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

کورونا کے بڑھنے کے واضح اشارے ہیں۔ مظفرآباد میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز بہت زیادہ ہیں جبکہ کراچی میں بھی یہ تعداد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی کیس بڑھ رہے ہیں۔  ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ کورونا کو سنجیدگی سے لیں اور پابندیوں کا خیال رکھیں۔

پاکستان کورونا وائرس کی پہلی لہر سے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر طریقے سے نمٹا۔ یہاں کیسز کی مجموعی تعداد میں سے 95 فیصد صحتیاب ہوگئے تاہم دوسری لہر کا خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔

اس دوران فرانس میں دارالحکومت پیرس سمیت نو شہروں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث رات کا کرفیو عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔  یورپی ملکوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے جس کے بعد مختلف ملکوں میں ایک بار پھر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ جرمنی میں بھی کورونا وائرس کے کیسز دوبارہ بڑھ رہے ہیں اور یومیہ کیسز کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ بدھ کو جرمنی میں سات ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے اعلان کیا ہے کہ ماسک پہننے اور اجتماعات کی پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ اسپین میں بھی حالات مختلف نہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپین میں 11 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسپین کے شمال مشرقی علاقے کاتالونیا میں شراب خانے اور ریستوران 15 روز کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

چینی حکام نے چنگ ڈاؤ شہر میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ایک اسپتال کے صدر اور ہیلتھ کمیشن کے ڈائریکٹر کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔ چنگ ڈاؤ کی شہری انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ کمیشن کے ڈائریکٹر سوئی ژین ہوا اور جس اسپتال میں حالیہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے صدر ڈینگ کائی کے خلاف مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں پیر کو لگ بھگ دو ماہ بعد چنگ ڈاؤ شہر میں مقامی منتقلی کے نو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد حکام نے پورے شہر کے کورونا ٹیسٹ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تمام کیسز ایک ہی اسپتال کے مریضوں اور عملے کے ایک فرد میں سامنے آئے تھے۔