چیلنج ہوشربا ہے مگر۔۔۔۔۔

قومی مفاد یا عوامی خدمت کا نعرہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں بے دردی سے استعمال ہوا ہے اور 98فیصد مواقع پر اس نعرے کے ذریعے بدترین استحصال ہوا ہے۔ جو جتنا بڑا فراڈیا ہوتا ہے اتنے ہی بلند بانگ نعروں کے ساتھ لچھے دار تقاریرکرتا دکھائی دیتا ہے۔

 بس پہچاننے والی نظر ہونی چاہیے ایسے مداری ڈرامے باز کی اصلیت کو پہچاننا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ درویش نے ایسے بہروپیوں کو پہچاننے میں کبھی زیادہ دیر نہیں لگائی۔ البتہ مشکل ہمیشہ یہ پیش آئی ہے کہ اپنے ہم نفسوں تک یہ آگہی کیسے پہنچائی جائے عمومی و عوامی ذہن کی تطہیر کیسے کی جائے۔ بارہا یہ سوچ دریچہ ذہن میں نمودار ہوتی ہے کہ ہٹلر جب اپنی قوم کو بے وقوف بنا رہا تھا تو جرمن اس کی اصلیت کو کیوں سمجھ یا پرکھ نہیں پا رہے تھے؟ وہ اس کے دھوکے میں کیوں آ رہے تھے۔ پھر نئی سوچ ابھرتی ہے کہ جرمنوں کو مطعون کیوں کروں۔ مسلمانان جنوبی ایشیا کے ساتھ جب جب نوسربازیاں ہوئی ہیں، ان دردناک مواقع پر عوامی ہجوم کی اندھی جذباتبت کہاں سے کہاں تک پہنچائی جا چکی تھی۔ اس کو کیا کوسیں ایسے تمام مواقع پر ہماری قومی دانش اور ذمہ دار میڈیا کہاں کھڑے تھے، تب آخر عقل و دانش کہاں گھاس چرنے چلے جاتے ہیں۔

اس کسوٹی پر پرکھنے کا ایک پیمانہ ضرور ہے۔ قیادت کا کوئی بھی دعویدار، جتنی لمبی لمبی چھوڑے، بڑھ چڑھ کر سبز باغ دکھائے۔ سمجھ جائیں، یہ رانگ نمبر ہے، اقتدار کا بھوکا ہے۔ شیطانی ذہن کی ایک نشانی اور بھی ہے۔ ہر فراڈیا خود نمائی و خود ستائی کے تحت اپنی شخصیت کے خول میں بری طرح گرفتار ہوتا ہے۔ اپنی ذات کے عشق میں مرا ہوا پارسائی و حب الوطنی کے دعوےاٹھائے قوم کو ہمیشہ یہ جتلائے گا کہ آپ کی تقدیر بدل دینے والا بس مسیحا آ گیاہے۔ خود کو ایک ایسی ماورائی ہستی کے طور پر پش کرے گا جس پر تنقیدی نظر ڈالنا گویا گناہ کبیرہ سے کم نہیں جس کا سزاوار راندہ درگاہ ہو گا۔

ہمارے ایک حضرت فرمایا کرتے تھے کہ ہر ڈرامے باز کو اس کا حصہ بقدر حبثہ کے مطابق میں احمق یا بے وقوف مل جاتے ہیں۔ اور اس دنیا کی رعنائیاں ان احمقوں کی برکات میں رنگینیاں بکھیر رہی ہیں۔ ورنہ اگر سارے ارسطو و افلاطون ہوتے تو ویرانے یا دیوانے کہاں جاتے۔ ان شیدائیوں کی بدولت ہی ڈرامے بازیاں قائم و دائم ہیں اور کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے اگر یہ جادو برسوں نہیں صدیوں پر محیط ہو جائے۔ کیونکہ عمومی ذہن کو اس شراب طہور کے نشے سے نکلتے کئی نسلیں بھی بیت سکتی ہیں۔ جو زمانے کو دھوکہ دے سکتے ہیں، وہ عمومی تاریخ کی آنکھوں میں دھول کیوں نہیں جھونک سکتے۔  

گنہگار آنکھوں نے بچپن میں مداری گیری کو قریب سے دیکھا ہے جس سے تھڑے والوں نے ویسی ہی امیدیں باندھ لیں جیسی حالیہ برسوں باندھی گئی ہیں اور پھر چند برسوں میں ایسا سواد چکھا جیسا اب کے چکھا جا رہا ہا گویا دن میں تارے نظر آ گئے۔

عوام کالانعام جو پہلے محبتوں میں گلے پھاڑ رہے تھے، اب کے بہتی آنکھوں کے ساتھ پورے سسٹم کو چیڑ پھاڑ دینا چاہتے تھے جو سہانے سپنوں اور پہاڑ جیسی اونچی امیدوں سے مایوسیوں کی کھائیوں میں گرتا ہے تو دھماکہ بھی کچھ اسی ریشو سے ہوتا ہے۔ سو ہوا بدترین مخالفین کو  ڈرامے کے بالمقابل ایکتا و اکھنڈتا اپنانی پڑی۔ قربان جائیں باچا خان کے فرزند کی تلخ نوائی پر فرمایا شیطان کے ساتھ بھی اتحاد کرنا پڑا تو کریں گے مگر ڈرامہ اختتام پذیر کرکے رہیں گے۔

ہیچمدان کا خیال تھا کہ یہ سماں بندھنے میں ابھی وقت لگے گا کہ کم از کم اگلے چناﺅ میں پہلے والی سیاہی لگائی جائے گی تو نتیجتاً عوامی لاوا اسی بے دردی سے پھٹ پڑے گا۔ جو دو ٹرم کا خواب چکنا چور کر دے گا لیکن یہاں تو فصل وقت سے پہلے ہی پک کر تیار ہو گئی ہے۔ اللہ بخشے مفتی صاحب شاید قوم کو پھر یاد آ رہے ہیں۔ وہ تو کب کے خدا کو پیارے ہو چکے ہیں لیکن بڑے لوگوں کی آل اولاد تو پیچھے رہ ہی جاتی ہے۔ اور پھر کون نہیں جانتا کہ تاریخ اپنے آپ کو ہر عہد میں دہراتی ہے۔ صدیوں پرانے معرکے اگر آج بھی اسی آن بان اور شان کے ساتھ وقوع پذیر ہو سکتے ہیں تو چار دہائیاں قبل کے مناظر کی گردش کیوں پلٹ کر سامنے نہیں آ سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پہاڑ سے ٹکرا کر راستہ بنایا جا سکتا ہے؟ سر پھٹے گا یا چترال کی طرف جاتے ہوئے راستے میں آنے والی لمبی سرنگ نکلے گی؟ یہ امکانات کی دنیا ہے کسی بھی صورتحال کو دو ٹوک رد نہیں کیا جا سکتا۔ یاس یگانہ اگر یہ فرما گئے ہیں کہ مصیبت کا پہاڑ آخر اک دن کٹ ہی جائے گا تو حضرت علامہ نے بھی امیدیں جگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جو بحر ظلمات میں گھوڑے ہی نہیں دوڑاتے بلکہ پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی بن سکتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”سچی لگن ہو تو پربت بھی دھول ہے“۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مختصر قومی تاریخ میں صدق دل سے عوام جب بھی اٹھے ہیں انہوں نے پہاڑوں کو رائی بنا کر ہی دم لیا ہے۔

یہاں خلیج بنگال تک جھانکنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کوئی ایک نہیں چاروں مثالیں سامنے ہیں لیکن جائزہ لینے والی پہیلی یہ ہے کہ کیا قیادت میں اتنا دم خم ہے کہ دکھتی عوامی رگوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں اپنے ساتھ آگے تک لے جا سکے۔ بلاشبہ چیلنج ہوشربا ہے لیکن کیا ڈینٹ ڈالنے کیلئے عوامی مکا آپ کی تمناﺅں کے مطابق اٹھ پائے گا؟ کچھ بھی کہیے نوکیلا کیل مٹیالے ٹرک کو پنکچر کر سکتا ہے، ہمارا اشارہ 35 پنکچرز کی طرف ہرگز نہیں ہے۔