بھارتی قیدیوں کی رہائی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن
- جمعہ 16 / اکتوبر / 2020
- 4200
پاکستان میں بھارت کے ہائی کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں گرفتار چار بھارتی شہریوں کی رہائی کا حکم دیا جائے جنہیں سزا مکمل ہونے کے کئی برس بعد بھی رہا نہیں کیا گیا۔
ہائی کمیشن کے مطابق ان قیدیوں کی رہائی کے لیے بھارت کے ہائی کمیشن کی طرف سے 32 مرتبہ خطوط تحریر کیے گئے لیکن انہیں رہائی نہ مل سکی۔ چاروں بھارتی شہریوں کو پاکستان کی فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی تھیں۔ البتہ یہ سب اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں۔
بھارتی ہائی کمیشن اور قیدیوں نے بیرسٹر ملک شاہ نواز نون کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بھارتی قیدی برچو، بنگ کمار، ستیش بھگ اور سونو سنگھ کو رہا کیا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور جیل میں قید تین اور کراچی جیل میں موجود ایک بھارتی شہری کو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات پر سزا سنائی گئی تھی۔ جیل میں موجود بھارتی قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔ قانونی طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ جیل میں قید رہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سزا پوری کرنے کے بعد قیدیوں کو جیل میں رکھنا آئین پاکستان کے تحت حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قیدیوں کو رہا کر کے واپس بھارت بھیجنے کی ہدایت کی جائے۔ بھارت کے ہائی کمیشن کا درخواست میں کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین کسی بھی شخص کو آزادانہ اور منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق دیتا ہے لیکن ان بھارتی شہریوں کو ان کے وکلا سے ملنے نہیں دیا گیا اور نہ ہی انہیں کوئی وکیل حکومت کی طرف سے دیا گیا۔
ہائی کمیشن اور قیدیوں کی طرف سے دائر درخواست کے مطابق چاروں بھارتی شہری دراصل بھارتی ماہی گیر تھے جو غلطی سے پاکستان آئے تھے۔ تاہم انہیں طویل سزائیں دی گئیں اور سزائیں مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا نہیں کیا جا رہا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سال قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ ہوتا ہے جن میں سے بیشتر ماہی گیر ہوتے ہیں۔ جو غلطی سے اپنی سمندری حدود پار کرکے دوسرے ملک کی حدود میں چلے جاتے ہیں اور گرفتار بھی کر لیے جاتے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے گزشتہ برس 100 سے زائد ماہی گیر رہا کیے تھے۔ جب کہ رواں برس جنوری میں مزید 20 ماہی گیروں کو رہا کیا گیا تھا۔ بھارت نے بھی 150 کے قریب پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کیا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کی واپسی کے لیے باقاعدہ میکنزم موجود ہے۔ لیکن جاسوسی کے خدشات کے پیشِ نظر گرفتار افراد کی رہائی میں طویل عرصہ لگ جاتا ہے۔