لاہور پولیس کے سربراہ نے ایس پی سی آئی اے کو گرفتارکرنے کا حکم دے دیا
- جمعہ 16 / اکتوبر / 2020
- 6370
محکمہ پولیس میں ایک اور تنازع پیدا کرتے ہوئے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ نے سیف سٹی اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس کے دوران لفظی تکرار کے بعد سی آئی اے کے ایس پی عاصم افتخار کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے تاہم سینئرز کی مداخلت پر گرفتاری کے احکامات واپس لے گئے۔
ذرائع کے مطابق صورت حال اس وقت خراب ہوئی جب مبینہ طور پر سی سی پی او اجلاس کے دوران آپے سے باہر ہوگئے اور سول لائنز کے ایس پی کو اپنے ساتھی عاصم افتخار کے خلاف پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155 (سی) کے تحت مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں موجود اعلیٰ پولیس افسران نے مداخلت کی اور دونوں سینئر افسران کے درمیان ثالثی کروا دی۔
تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ عمر شیخ نے سی آئی اے ایس پی کو اجلاس سے ہٹ جانے پر مجبور کیا اور کہا کہ لاہور پولیس کو ان کی خدمات کی ضرورت نہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سی سی پی او نے ’ایس پی کو ان کے گریبان سے پکڑا‘ تو دونوں افسران میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
قبل ازیں لاہور کے سی سی پی او نے اجلاس میں موجود ایک اعلیٰ پولیس افسر پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے مبینہ طور پر نرم گوشہ رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ معلومات رکھنے والے ایک اہلکار نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ صبح 3:30 بجے اجلاس کے اختتام تک صورتحال کشیدہ رہی۔
اس واقعے نے سی سی پی او کی سربراہی میں کام کرنے والے دوسرے ڈویژنل ایس پیز اور افسران کو ان کے جارحانہ رویوں نے خوف زدہ کردیا ہے۔ افسران کی اصل تشویش یہ ہے کہ عمر شیخ نے اپنے سینئر پولیس افسران کے ساتھ جونیئر ماتحت افسران کے ساتھ درشت سلوک کرتے ہیں۔ وہ غیر ضروری سزا دینے والے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے 10 پولیس افسروں کے خلاف مقدمہ درج یا ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تازہ ترین واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس جمعہ کو گوجرانوالہ میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے عوامی جلسے اور لاہور میں جلسوں کے سلسلے میں طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں آپریٹنگ ونگ کے تمام ڈویژنل ایس پیز موجود تھے۔
تکرار کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب عاصم افتخار اجلاس میں دیر سے پہنچے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی سی سی پی او نے عاصم افتخار کی عدم موجودگی کو نوٹ کیا اور استفسار پر انہیں بتایا گیا کہ سی آئی اے ایس پی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ بخار میں مبتلا ہیں۔ سی سی پی او نے اپنے عملے سے موبائل فون پر ایس پی سے رابطہ کرنے کو کہا۔
رابطہ کرنے پر ایس پی نے عمر شیخ کو بتایا کہ انہوں نے درخواست کی ہے کہ وہ بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ عہدیدار نے بتایا کہ سی سی پی او نے ان کی درخواست مسترد کردی اور ایجنڈے کی حساسیت کی وجہ سے کسی بھی قیمت پر اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی۔
سی آئی اے کے ایس پی تھوڑی دیر سے اس اجلاس میں شامل ہوئے۔ سی سی پی او ان پر سخت ناراض ہوئے اور دوسرے ساتھیوں اور سینئر افسران کی موجودگی میں ان کے بارے میں توہین آمیز جملے کہے۔ ایس پی نے اپنے باس سے درخواست کی کہ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک نہ کریں جس کے بعد سی سی پی او مزید بھڑک اٹھے اور مبینہ طور پر اس پر چیخنے لگے کہ ’میں تمہیں گرفتار کرادوں گا‘۔
اس پر ایس پی نے جواب دیا کہ سی سی پی او ان کے ساتھ کانسٹیبل کی طرح برتاؤ نہ کرے۔ اس کے نتیجے میں سی سی پی او نے سول لائنز کے ایس پی صفدر رضا کاظمی کو عاصم افتخار کی گرفتاری اور ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ سی سی پی او نے وہاں موجود عہدیداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ’نافرمانی‘ کے الزام میں سی آئی اے ایس پی کے اختیار میں گن مین اور دیگر عملے کو واپس لے۔
تاہم اجلاس میں موجود اعلیٰ پولیس افسران نے فوراً مداخلت کی اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایس پی اجلاس کے مقام سے روانہ ہوگئے۔
ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عمر شیخ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عاصم افتخار نے ’نظم و ضبط‘ کی خلاف ورزی کی ہے اور انہوں نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کو فوری طور پر سی آئی اے ایس پی کی معطلی کے لیے سفارشات بھجوا دی ہیں۔
سی سی پی او نے کہا کہ جب (عاصم افتخار) سے میری ہدایت پر رابطہ کیا گیا تو اس نے بخار کا بہانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی میری واضح ہدایات کے باوجود اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور جان بوجھ کر اپنا موبائل فون بند کردیا جس کی وجہ سے انہوں نے سخت کارروائی کی۔
انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اجلاس میں موجود ڈی آئی جیز کی مداخلت پر گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔ تاہم ایس پی کا عملہ اور پولیس وین واپس لے لی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سی سی پی او نے واضح کیا کہ عاصم افتخار کے خلاف ان کے اقدامات کا موٹروے گینگ ریپ کیس کے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس سلسلے میں مؤقف کے لیے رابطہ کرنے پر سی آئی اے کے ایس پی نے معاملے پر اپنی رائے دینے سے انکار کردیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ عمر شیخ کی اپنے ماتحت افسران کے ساتھ بد سلوکی سے تنازع ہؤا ہو۔ اس سے قبل تھانہ گوجر پورہ کے ایک سابق اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نے لاہور کے سی سی پی او پر ایک سرکاری معاملے پر ان سے گالم گلوچ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
سی سی پی او نے ایس ایچ او کو نہ صرف ملازمت سے معطل کردیا تھا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا تھا۔ تاہم بعدازاں انہیں ایک عدالت نے ضمانت دے دی جس کے بعد انہوں نے سیشن عدالت سے رجوع کیا جس نے آئی جی پی سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت تھی جس کا فیصلہ زیر التوا ہے۔