تمام ڈاکوجمع ہوکر شور مچارہے ہیں کہ این آر او دو: وزیراعظم عمران خان

  • جمعہ 16 / اکتوبر / 2020
  • 5410

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارے ڈاکوایک جگہ جمع ہوگئے ہیں۔ سب شور مچارہے ہیں کہ ان کو این آر او دے دو۔ زندگی آسان ہوجائے گی۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک تقریب  سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔ بہتری کا راستہ آسان نہیں ہوتا، مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ سمندرپار پاکستانی ہیں۔ دوہری شہریت والے پاکستان کے لیے ترستے ہیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک اس کی امپورٹ زیادہ اور ایکسپورٹ کم ہو۔ ہمارے پاس ڈالرکی کمی ہوجاتی ہے ہمیں ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑجاتا ہے۔ اگرملک کو ترقی دینی ہے تو ڈالر ملک میں زیادہ لانا ہوں گے اور باہرکم بھیجنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ایسے ہی ترقی کی کہ اپنی ایکسپورٹ کو بڑھایا۔ ترکی کےوزیراعظم اردوان بھی ایسے ترقی لے کر آئے کہ اپنی ایکسپورٹ پر توجہ دی۔ ساٹھ کی دہائی میں ہم انڈسٹریالائزیشن کی طرف جارہے تھے۔ بدقسمتی سے ستر کی دہائی میں کنفیوژ مائنڈ سیٹ آگیا اور نیشنلائیزیشن کا نعرہ لگایا گیا۔ یہی کنفیوژ مائنڈ سیٹ آج بھی ہے جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کوئی ملک صرف کپاس بیچ کر اوپر نہیں جاسکتا۔ پاکستان کے مائنڈ سیٹ کو درست کرنا ہے۔ جوبھی ایکسپورٹ کی طرف جارہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس کوسپورٹ کرے ۔ پاکستان کا سب سےبڑا اثاثہ سمندرپار پاکستانی ہیں، سمندر پار پاکستانی سب سے زیادہ محب وطن ہیں، اسلامو فوبیا کے باعث وہ زیادہ محب وطن ہیں۔ دوہری شہریت والے پاکستان کے لیے ترستے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں صرف ماحول درست کرنا ہے تاکہ ہمارے ماہرین باہر سے واپس آسکیں۔ میرےپاس وہ تجربہ ہے جوبہت کم پاکستانیوں کےپاس ہے۔ اس لیے اپنا تجربہ طالب علموں سے شیئرکرنا چاہتا ہوں۔ طالب علموں کو پیغام دیتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کوپہچانتے ہی نہیں۔ مولانا رومی نے کہا کہ اللہ نےہمیں پر دیئے ہیں تو ہم چیونٹیوں کی طرح کیوں زمین پرچلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی روح اس وقت خوش ہوتی ہے جب ہم اللہ کے بتائے راستے پر چلتے ہیں۔ دوچیزیں سائنس آپ کو کبھی نہیں بتا سکتی۔ ایک کہ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے، دوسرا یہ کہ انسان کے مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ اسٹنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے افتتاح پر انہوں نے بتایا کہ مقامی طور پر دل کے اسٹنٹ بنانے سے آٹھ ارب روپے کی سالانہ بچت ہوگی۔ پاکستان اسٹنٹ بنانے والا 18 واں ملک بن جائے گا۔

واضح رہے کہ مقامی طور پر دل کے اسٹنٹ بنانے والے ممالک میں ترکی کے بعد پاکستان مسلم دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے اور مقامی طور پر اسٹنٹ تیار ہونے سے ملک میں دل کے مریضوں کو معیاری اور سستے اسٹنٹ دستیاب ہوں گے۔ جبکہ ملک کو سالانہ 8 ارب روپے کی بچت ہوگی۔