اداروں کے خلاف دشمنوں کی زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: شبلی فراز
- ہفتہ 17 / اکتوبر / 2020
- 5910
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ فلاپ شو تھا۔ کسی کو اداروں کے خلاف دشمنوں کی زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن نے کل جو زبان استعمال کی خصوصاً بلاول بھٹو اور خواجہ آصف نے انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔
شبلی فراز نے کہا کہ کل پی ڈی ایم کے جسلے میں نہ تو اتحاد نظر آیا، نہ یقین نظر آیا اور نہ کوئی نظم و ضبط نظر آیا۔ اس اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو جس طرح خالی کرسیوں کے سامنے خطاب کروایا گیا، میرے خیال میں انہوں نے مولانا صاحب کو ہمیشہ دھوکا دیا۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز بتائیں کہ انہوں نے آخری مرتبہ کسی غریب سے کب ملاقات کی تھی۔ انہیں غریبوں کے دکھ درد کا کیا پتہ، ان کے تو جلسے میں بھی غریب لوگ نہیں تھے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کا پہلا ہی شو اتنا فلاپ ہوا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی مستقبل ہے۔ ایک ایک مہینے سے تیاریاں کر رہے تھے، اس کا انجام ہم نے کل ایک فلاپ شو دیکھا۔ آدھا اسٹیڈیم خالی تھا۔ لوگ تقریریں سنے بغیر چلے گئے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس طرح آپ نے اداروں پر بات کی یہ ایسا کھیل ہے جس سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آپ دشمنوں کی زبان استعمال کررہے ہیں جس کی ہم آپ کو اجازت نہیں دیں گے۔ ہم پوری طرح سے اداروں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور کوئی بھی ایسی بات برداشت نہیں کی جائے گی جو اس ملک کی سلامتی، اس ملک کے لیے کھڑے ہونے والے لوگوں کو نشانہ بنائے۔
شبلی فراز نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ آپ نے تقرر کیا، آپ ایکسٹنشن میں شریک تھے۔ آج کیونکہ آپ کی منشا کے مطابق چیزیں نہیں ہو رہیں تو آپ نے گندی زبان استعمال کرنی شروع کردی ہے۔ یہ بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 2011 میں عمران خان نے پیش گوئی کی تھی کہ جب بھی احتساب شروع ہو گا تو یہ سب اککٹھے ہو جائیں گے۔ کل ہم نے دیکھا کہ امیرزادوں کے ناخلف بچے کس طریقے سے گفتگو کر رہے تھے اور یہ بگڑے ہوئے امیرزادے کس طریقے سے عوام اور فوج کو للکا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 11 جماعتیں کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے بعد بھی اپوزیشن صرف 15 سے 18ہزار آبادی جمع کر پائی۔ تنظیم کا یہ حال تھا کہ پیلپز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے رات 2بجے مولانا فضل الرحمٰن کو خطاب کا موقع دیا۔ اس وقت اسٹیڈیم خالی ہوچکا تھا۔