گوجرانوالہ جلسہ: جنرل قمر جاوید باجوہ پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کا الزام

  • ہفتہ 17 / اکتوبر / 2020
  • 8190

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد محمد نواز شریف نے گوجرانوالہ میں جلسے لندن سے تقریر کرتے ہوئے ملک میں سیسی انجینئرنگ کا براہ راست الزام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عائد کیا ہے۔

خطاب میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سویلین حکومتوں کو ان کی مدت مکمل کرنے کیوں نہیں دی جاتی۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ یہ سوغات آپ کی ہی دی ہوئی ہے۔ آپ ہی اس پریشانی کا موجب ہیں۔ فوج کے سربراہ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کیا۔ ججوں سے زبردستی فیصلے لکھوائے۔ ان کو جواب دینا پڑے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے بل، بجلی بن کر گر رہے ہیں۔ جس کا جنرل قمر جاوید باجوہ جواب آپ کو دینا ہو گا۔ ان غریبوں کے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ذمہ دار بھی وہ ہیں۔ اس کا جواب بھی ان کو ہی دینا ہو گا۔ فوج کے سربراہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس کا جواب اور حساب بھی ان کو دینا ہو گا۔

پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ جنرل فیض حمید کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔ ان کو بھی جواب دینا ہو گا۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے الزامات پر پاکستان کی فوج کے ترجمان کی جانب سے کسی قسم کا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ حکمران جماعت کے وفاقی وزرا نے نواز شریف کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حکومت کے خلاف اعلان کردہ تحریک کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم میں ہوا ۔ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات سوا گیارہ بجے نواز شریف نے لندن سے اپنی تقریر میں ملک میں مہنگائی، ترقیاتی منصوبوں، سول ملٹری تعلقات، انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور سیاستدانوں کو ’غدار‘ قراردینے جیسے موضوعات پر بات کی۔

نواز شریف نے کہا کہ تمام سیاستدانوں کو ’غدار‘ کہا جاتا ہے اور شروع سے فوجی آمر سیاست دانوں جن میں فاطمہ جناح، باچا خان، شیخ مجیب الرحمان اور دیگر رہنما شامل ہیں، کو غدار قرار دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات میں مینڈیٹ کو چوری کیا گیا اور دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے میڈیا لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کے خلاف حال میں لگنے والے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ سابق فوجی جنرل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ الزامات کے باوجود سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر کیسے کام کر سکتے ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کیس نہیں بنایا گیا۔ نیب کو ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

نواز شریف نے سیاستدانوں پر غداری کے الزامات لگانے پر کہا کہ پاکستان میں محب وطن کہلائے جانے والے وہ ہیں جنہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ملک توڑا۔ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام پہلا جلسہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں گزشتہ رات ہوا۔ جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے جلسے میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی مسائل اور معاشی صورتِ حال پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ نیب ایک ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا بنایا ہوا ایک کالا قانون ہے۔ شہباز شریف، حمزہ شہباز، خورشید شاہ اور دیگر اپوزیشن رہنما آج بھی پابند سلاسل میں ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ کب تک عمران خان نیازی اور عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن کو تحفظ دیتے رہیں گے۔​

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو باغی اور اشتہاری کہنا ہے تو ضرور کہیے۔ اثاثے ضبط کر لیجیے۔ لیکن نواز شریف غریب اور مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا۔ نواز شریف عوام کے ووٹ کو عزت دلا کر رہے گا۔ بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر رہنما ووٹ کو عزت دلا کر رہیں گے۔

اپنی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کیوں منتخب وزیرِ اعظم کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے جاتے۔ کبھی ڈان لیکس اور کبھی دھرنا آڑے آ جاتے ہیں۔ جتنا وقت ان آئین توڑںے والوں نے سازشوں پر ضائع کیا، اس کا آدھا وقت بھی دفاع پر لگاتے تو ملک بہت سی قباحتوں سے بچ جاتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ڈکٹیٹر سیاسی رہنماؤں کو غدار قرار دیتے آئے ہیں۔ آئین توڑنے والے خود کو محبِ وطن کہتے ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز نے کہا کہ آج پاکستان کے تمام شہریوں کے کاروبار بند ہیں۔ ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا ایسا ہی برا حال ہوتا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاستدان کا مقدمہ لے کر نہیں آئیں بلکہ وہ عوام کے پاس عوام کا ہی مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ عوامی نمائندے کو نکالے۔ حکومت بنانے اور ختم کرنے کا اختیار صرف عوام کو ہی حاصل ہونا چاہیے۔​

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اٹھارویں ترمیم اور علاقائی خود مختاری کو لاحق خطرات کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پی ٖڈی ایم کی تحریک اس حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ پہلوانوں کا شہر ہے اور پہلوان اب اکھاڑے میں اُتر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جعلی حکمران ایک ٹمٹماتا ہوا چہرہ ہیں۔ اب جمہوریت کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمران آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے۔ اِن کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔ اب یہ تحریک چل پڑی ہے اور تحریک تب ہی رکے گی جب ادارے سیاست میں مداخلت نہ کریں۔ وہ اپنے کردار پر معافی مانگیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ادارے اگر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کریں تو ملک نہیں چلا کرتے۔