مزید مہنگائی سے ڈر تو لگے گا صاحب!
- تحریر
- ہفتہ 17 / اکتوبر / 2020
- 5760
حکومت کی جانب سے عام آدمی کے لئے یہ پیغام ہے کہ ہمیں مہنگائی پر تشویش ہے، ہمیں احساس ہے کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یقین جانئے حکومت مہنگائی کو ہر صورت کنٹرول کرنے کے لئے تیار ہے۔
ہم ہر ضروری مالیاتی اور انتظامی اقدامات اٹھائیں گے تاکہ قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکے۔ ذخیرہ اندوز کان کھول کر سن لیں حکومت انہیں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی اجاز ت نہیں دے گی۔ یہ تھی گرج برس اُس مشترکہ پریس کانفرنس کی جو تین بھاری بھر کم وزرا نے کابینہ اجلاس کے بعد گزشتہ روز حکومتی موقف واضح کرنے کے لئے کی تھی۔شاہ محمود قریشی کی اس وارننگ پر ہم ایسوں کو تو اعتبار ہے لیکن کیا کیجئے کہ ذخیرہ اندوز ان کے بیانات اور تقرریں نہیں دیکھتے یا پھر وہ ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے ان سے اجازت نہیں لیتے۔ ہماری خوش گمانی یہی ہے کہ جس روز ذخیرہ اندوزوں نے حکومت سے اجازت لینے کی کوشش کی، انہیں ٹکا سا جواب ملے گا۔
اب خرابی یہ ہے کہ کم بخت ذخیرہ اندوز حکومت سے اجازت لینے کا تکلف ہی گوارہ نہیں کرتے۔ مشتاق یوسفی یاد آئے، لکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہم سے پوچھتے رہتے کہ دنیا میں فلاں کام یوں کیوں ہوا؟ فلاں کام ووں کیوں نہ ہوا؟ روز روز کے ان سوالوں سے تنگ آکر ہم نے ایک سکہ بند جواب سوچا اور اب ہر سوال پر یہی جواب دیتے ہیں:میاں، دنیا میں جہاں کہیں اور جو کوئی بھی ہو رہا ہے ہماری اجازت کے بغیر ہو رہا ہے۔
حالیہ مہنگا ئی نے دوچار ہفتوں میں تو زور نہیں پکڑا بلکہ سال بھر سے زائد ہونے کو آیا کہ ایک کے بعد ایک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو بقول اس کے معیشت لڑکھڑا رہی تھی، اس لئے حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑے، جن میں ایک فیصلہ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ میں اضافہ تھا۔ دو اڑھائی سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ 105 سے گھٹ کر 167 رہ گئی۔ ایک ایسی معیشت جس میں درآمدات، برآمدات کا تین گنا ہو، وہاں کرنسی میں ساٹھ فیصد کمی کے بعد مہنگائی کا سیلاب آنا لازمی تھا۔ حکومت نے شدومد سے اس مہنگائی کو جانے والی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیا۔ شرح مارک اپ تیرہ فیصد سے بھی زائد ہو گئی، افراطِ زر کے ضبط کا بندھن ٹوٹاتوطلب و رسد کے بگڑتے توازن کا اثر ہر شعبے میں مہنگائی کی صورت میں محسوس ہونے لگا۔
حکومت نے اپنے دوسرے سال میں بھی طلب و رسد میں عدم توازن جانچنے میں اغماض برتا۔ بار بار انتظامی تبدیلیوں کے سبب اہم فیصلہ سازوں کو ڈھنگ سے پالیسیاں بنانے اور عمل کرنے کی نوبت کم ہی آئی۔ اس دوران آٹے اور چینی کی شارٹیج پر انکوائری رپورٹس اور کئی کیسز میں نیب کی جواب دہی کے تفتیشی عمل سے انتظامی افسران کارہا سہا اعتماد بھی متزلزل ہو گیا۔ اس پر مستزاد پیداوار کے تخمینے اپنی جگہ محلِ نظر نکلے۔ بروقت فیصلوں سے گریز اور فیصلوں کو لٹکانے کے عمل سے طلب و رسد کے ضروری فیصلے بھی تاخیر کا شکار ہو گئے۔ گئے سالوں میں گندم اور چینی کی امپورٹ ایکسپورٹ کو صرف سیاسی عینک سے دیکھنے اور سبسڈی کو گناہ کبیرہ کا ہم پلہ قرار دینے کی روش سے قوتِ فیصلہ متاثر ہوئی۔ جس کا لازمی نتیجہ فیصلہ سازی میں تاخیر اور ذمہ داری سے پہلو تہی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ صورتحال ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے لئے آئیڈیل ثابت ہوئی۔ وفاقی حکومت اور سندھ کے درمیان بد اعتمادی اور ورکنگ ریلیشن کے فقدان نے بھی طلب و رسد کے توازن کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ کیا دھرا اسمگلنگ کا بھی رہا۔
سانپ نکل گیا مگر اب اس کی لکیر پیٹنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ حماد اظہر فرماتے ہیں کہ چینی اور گندم کی درآمدی کھیپ پہنچنے والی ہے۔ چینی دس سے پندرہ روپے کم ہو جائے گی۔ گندم کی سپلائی بھی صوبائی حکومت نے بڑھا دی ہے، سندھ حکومت نے بھی سپلائی دینے کا ارادہ کرلیا ہے، یوں مل ملا کر شارٹیج کا بھی مسئلہ حل ہو جائے گا اور قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر مہنگے داموں امپورٹڈ گندم اور چینی کو سبسڈی کے ساتھ فراہم کرنے کا ارادہ نہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب آٹے اور چینی کی قیمتوں کے نئے لیول کو برقرار رکھنا ہی کامیابی گردانا جائے گا۔ 35/40 کلو آٹا اب 70/80 روپے پر برقرار رکھنا ہی قابلِ داد ٹھہرے گا۔ اسی طرح 60/65 روپے کلو چینی 105/110 روپے کلو پر ہی روکے رکھنا حکومتی کمال ٹھہرے شاید۔
اشیائے خوردونوش کی مہنگائی ہر روز بھگتنے کی وجہ سے سب کے علم میں آ جاتی ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی کیش فصل کپاس کی پیداوار لگاتار دوسرے سال بھی تباہ کن رہی۔ ملکی صنعت کو سالانہ کم از کم ڈیڑ ھ کروڑ گانٹھ درکار ہوتی ہے۔ کئی سالوں سے فصل بمشکل ایک کروڑ سے کچھ زائد یا کم معمول سا بن گیا ہے۔ گزشتہ سال فصل نوے لاکھ گانٹھ سے کچھ زائد تھی۔ اس سال بارشوں اور موسمی تغیر کی وجہ سے فصل میں ریکارڈ کمی کا خدشہ ہے، بمشکل اسّی لاکھ گانٹھ ہو شاید۔ اس پر مستزاد گھٹیا کوالٹی کا رونا الگ۔ کسان کی سب محنت بیکار گئی، بیج، کھاد، پانی اور محنت سب مٹی ہو گئے۔ کسانوں کی بپتا سنیں تو ہول اٹھتا ہے لیکن فی الحال تو آلو ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کا رونا اس قدر بلند ہے کہ کپاس کی تباہ کاری کی خبر کون لے؟
کپاس کی تباہ کن فصل ہو یا اشیائے خوردونوش کی مہنگائی، سب کی تہہ میں انتظامی غفلت، بر وقت فیصلہ سازی سے گریز، طلب و رسد کے لئے امپورٹ ایکسپورٹ اور سبسڈی کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر تال میل کے فقدان جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ یہ سنجیدہ عوامل پریس کانفرنسوں سے کبھی حل ہوئے نہ شاید اس بار ہو سکیں۔ سال بعد اگر یہی سننے کو ملے کہ ذخیرہ اندوز کان کھول کر سن لیں حکومت انہیں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی اجاز ت نہیں دے گی تو مزید مہنگائی سے ڈر تو لگے گا صاحب