یوم سرسیدؒ اور ہماری فکری تطہیر
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 17 / اکتوبر / 2020
- 7380
وطن عزیز میں آج ہم ”سرسیدؒ ڈے“ منا رہے ہیں اور یہ دن ہم ہر سال 17اکتوبر کو مناتے ہیں لیکن اتنی سادگی کے ساتھ کہ کسی کو کان و کان خبر تک نہیں ہونے دیتے۔ کہیں کوئی تقریب ہوتی ہے نہ کیک کاٹا جاتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا چھوڑ پرنٹ میڈیا بھی اس مبارک دن کو اسی سادگی سے منانے کا عادی ہے۔ کیا اس کی یہ وجہ ہے کہ سرسیدؒ اتنی غیر اہم اور چھوٹی شخصیت ہیں کہ بڑے بڑے دانشوروں اور اخبار نویسوں کو بھی نظر نہیں آتے؟ یا پھر یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم اتنے چھوٹے ہیں، ہمارے شعور کی سطح اور فکر ہنوز اتنی پست اور تنگ و تاریک ہے کہ سرسیدؒ جیسی مہان ہستی اس میں سما ہی نہیں سکی۔
دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو اس میں قصور وار کوئی اور نہیں خود محبان سرسیدؒ ہیں جو اتنے تن آسان، سہل پسند، کم کوش بلکہ ہڈ حرام ہیں کہ اتنی جامع الصفات شخصیت اور اس کے افکار کو نسل نو تک منتقل کرنے کے لئے ان کے خون میں کوئی تپش نہیں اٹھتی۔ ناچیز نے اپنے طور پرمیر شکیل صاحب اور شامی صاحب سے لے کر سرکاری ذمہ داران تک اس حوالے سے کاوشیں کی ہیں لیکن ہنوز کامیابی بہت تھوڑی ملی ہے۔
پچھلے سال کچھ احباب نے بھی معاونت کا وعدہ کیا تھا۔ ایک آرزو ہے کہ ہر سال 17 اکتوبر کو سرسید ڈےکی حیثیت سے منایا جائے۔ قومی سطح پر اس سلسلے میں علمی و فکری تقاریب ہوں، بالخصوص ہمارے تعلیمی اداروں میں علمی وادبی مذاکرے ہوں تاکہ قوم کی علمی و فکری سطح بلند تر ہوسکے۔ نوجوانانِ قوم کے اذہاں میں مزید نکھار آسکے۔ اس وقت ہمارا تعلیمی معیار بہت ہلکی سطح کا ہے۔ اس میں کچھ قصور ہمارے سیلبس کا ہے تو کچھ پڑھانے والوں کا۔ جنوبی ایشیا میں سرسیدؒ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے عصری تقاضوں کی مطابقت میں ہماری نئی نسلوں کو نہ صرف یہ کہ انگلش میڈیم تعلیم پر لگایا بلکہ جدید سائنٹفک علوم کی دسترس پر بھی اکسایا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے روایتی حلقوں میں انگریزی یا سائنسی مضامین پڑھنے کو گناہ اور بے دینی و الحاد قرار دیا جا رہا تھا۔ اکبر الٰہ آبادی جیسے ان کے ہم عصر یہاں تک کہہ رہے تھے:
یوں قتل میں بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
طفل میں بوُ آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ ہے ڈبے کا اور تعلیم ہے سرکارکی
ہم ایسی کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
علی گڑھ کالج قائم کرنے کےلئے سرسیدؒ نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال دی۔ کیسے کیسے طنز و تضحیک کے نشتر اس بزر گ دانائے راز پر چلائے گئے۔ بالمقابل حضرات نے بڑھ چڑھ کر محض مخالفت کا شور نہیں مچایا بلکہ ردِ عمل میں دینی مدارس کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں ان کا جال بچھادیا، جن پر ہاتھ ڈالنے کا آج بھی کسی کو یارا نہیں۔ تمامتر تقدس کے باوجود ان کی آؤٹ پٹ کیا رہی؟ اس پر ضرور کھلا مباحثہ کروایا جانا چاہیے جبکہ سرسیدؒ نے عصری علوم کی مناسبت سے جس جدید تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی اور پھر دیے سے دیا جلاتے ہوئے حیدرآباد دکن سے پنجاب اور سندھ تک پورے ہندوستان میں اس کی کڑیاں اور لڑیاں پھیلائیں، جس کی برکت سے درماندہ مسلمان نوجوان اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوگئے۔
آج اس مردِ خود آگاہ کی فکری عظمت کا کمال ہے کہ مسلمانان جنوبی ایشیا جدید تعلیم اور علوم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اپنی ہم عصر اقوام کے دوش بدوش چلنے کے قابل ہیں۔ آج ہر خطے میں ان کے کالجز اور یونیورسٹیوں کے جال بچھے ہوئے ہیں اور ہر ہر شعبہ حیات کے ماہرین تیار ہوکر قوم کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سرسیدؒ ہماری قومی زندگی کے محض ماضی تک نہیں بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کے بھی معمار ہیں، وہ کیسے؟ ہم اس باریک نکتے کو تھوڑی وضاحت سے کھولتے ہیں جس طرح 19ویں صدی کاپھیلایا ہوا یہ پروپیگنڈہ تھا کہ انگریزی اور ماڈرن سائنٹفک علوم پر دسترس حاصل کرنا گناہ اور معصیت سے خالی نہیں۔ اسی طرح آج بھی ہمارے نہاں خانوں میں دھنسی ہوئی قدامت پسندی اتنی شدید ہے کہ طرز کہن پر اڑنا اور آئین نوسے ڈرنا جیسے ہماری گھٹی میں ہے۔ ہم دقیانوسی ان پڑھوں یا دینی مدارس کے سند یافتہ عالموں کی بات نہیں کر رہے۔ ہمارے انگریزی تعلیمی اداروں کے پڑھے ہوئے بظاہر جینز پہنے یا ٹائی لگائے بہت سے نوجوان ہیں جن کی نمائیشی انگریز یت اچھل رہی ہوتی ہے لیکن دماغ یا شعور کے تمام خانوں میں قدامت پسندی کا بھوسا بھرا ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انگریزیت اور ماڈریٹ اپروچ میں فرق ہے۔
محض جینز پہن لینے یا کلین شیو ہو جانے سے دماغ میں سائنٹفک علوم نہیں آ جاتے۔ چلیں بظاہر وہ بھی آگئے آپ نے الحمد للہ انجینئرنگ یا ڈاکٹری بھی پاس کرلی، کمپیوٹر سائنسز میں بھی پی ایچ ڈی کر آئے تو کیا کائنات اور سوسائٹی کے حوالے سے آپ کے اندر بلند فکری اور روشن خیالی بھی آپ سے آپ آ گئی؟ اگر آپ دوسرے عقیدے والوں کو حقارت آمیز امتیازی نظروں سے دیکھتے ہیں، آپ قومی، نسلی، وطنی، مذہبی، لسانی یا آبائی تفاخر کے انہی تعصبات میں مبتلا ہیں، اگر آپ میں رواداری، برداشت، تہذیب اور انسانیت نہیں آئی ہے تو یقین رکھئے سر سیدؒ اور ان کے بچھائے ہوئے جدید تعلیمی اداروں نے آپ کا کچھ نہیں بگاڑا ہے۔ بلاشبہ
وہ آپ کو سوسائٹی کا ایسا کارآمد فرد دیکھنا چاہتے تھے جو انسانی دکھوں کو بلاتمیز اپنے سینے میں نہ صرف محسوس کرتا ہو بلکہ اس سے آگے بڑھ کر سوسائٹی کے لئے کچھ کر گزرنے کا داعیہ بھی رکھتا ہو۔
مجھے ایک دن محترم ڈاکٹر جاوید اقبال نے یہ کہا کہ آج میں اگر مسلمان ہوں تو اس کا کریڈٹ سر سیدؒ کو جاتا ہے۔ میرے استفسار پر انہوں نے مجھے سر سیدؒ کی تفسیر کے حوالہ جات نکال کر دکھائے۔ جنوبی ایشیا میں سرسیدؒ وہ پہلے مسلم سکالر ہیں جنہوں نے صرف تفسیر القرآن ہی نہیں لکھی بلکہ بائبل کی تفسیر تبعین الکلام بھی تحریر فرمائی۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مسلم شعور جوں جوں روایت و قدامت کی اسیری سے نکل کر فکری بلندی کی طرف گامزن ہو گا، سر سیدؒ کے سائنٹفک افکار کو قدم بہ قدم اپنے سامنے محسوس کرے گا۔ تب اس کے اندر سے یہ آواز ازخود آئے گی کہ سر سیدؒ ہمارے ماضی کے ہی نہیں حال اور مستقبل کے بھی امام و قائد اور پیر و مرشد ہیں۔
اس مقام تک پہنچنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اعترافِ عظمت کرتے ہوئے اپنے نونہالوں کو سرسیدؒ اور ان کی سائنٹفک فکر کے قریب لائیں، ان کی حقائق شناسی اور حقیقت پسندی سے آگہی بخشیں۔ اقبال اور قائدنے ان کی جن خدمات کے سامنے سرجھکایا ہے ایک قومی امانت خیال کرتے ہوئے اسے آگے پہنچائیں۔ ہم مانیں نہ مانیں ہماری قومی سوچ میں روایت اور جدت کی ایک کشمکش چل رہی ہے۔ اگر ہم نے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق اقوام عالم کے دوش بدوش چلتے ہوئے سربلند ہوناہے تو ہمیں روایت کا احترام رکھتے ہوئے جدت کو توانائی بخشنا ہو گی۔ اِس سفر میں جو شخصیت ہماری معیاری فکری رہنمائی کر سکتی ہے، اس کا نام سرسیدؒہے۔ جسے بلاجواز اس قدر اجنبیت میں رکھا گیا ہے کہ لاہور جیسے شہر میں بھی کوئی بڑی سڑک، عمارت یا ادارہ اس کے نام سے منسوب نہیں ہے۔ اس سے انہیں فرق پڑے نہ پڑے ہمیں پڑتا ہے، ہمارے نونہالوں کی اگر ان سے شناسائی نہ ہوگی تو فیضیابی کیونکر ہو سکے گی۔ سائنٹفک اور لاجیکل اپروچ ڈویلپ کرنے میں معاونت کیسے مل سکے گی۔ اقبال ”سید کی لوح تربت“ پر کیا خوب نمائندگی کرتے ہیں:
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیں
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا
کہیں وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے