وقت اور ترجیحات کی پابندی
- تحریر آبیناز جان علی
- اتوار 18 / اکتوبر / 2020
- 19900
لوگوں کواکثر کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں اورانہیں وقت کا پیچھا کرنا پڑتا ہے۔ وقت پلک جھپکتے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور کام مکمل نہیں ہوپاتا۔
مشہور اتالوی ماہر معیشت پارتو کے مطابق ہمارا بیس فی صد کام ہمارے اسی فی صد کامیابی کا تعین کرتا ہے۔ یعنی اگر کوئی کام کامیابی سے مکمل کرناہے تو بیس فی صد محنت اور توانائی اس کام میں لگانا پڑتی ہے۔ سب سے اہم کام کو سب سے پہلے ختم کیا جائے۔ جو کام سب سے پیچیدہ اور مشکل ہے اسی کو پہلے ہاتھ ڈالا جائے۔ اپنی ذمہ داریوں، مشاغل، مقاصد اور کلیدی کام کی فہرست بنا لی جائے۔ اگر فہرست میں دس کام درج ہیں تو اس میں سے تین کام زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے اور انہی تین کاموں کی طرف اپنی توجہ سب سے پہلے مرکوز کرنی ہے۔
منصوبہ بندی کے بغیر وقت ضائع ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وقت کی کمی ہے بلکہ ہم جس طریقے سے وقت کے بارے میں سوچتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہمارا رویہ ہی تمام کاموں کے انجام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اپنے ذہن میں دن کے اغراض و مقاصد طے کر لیں۔ اپنے کلینڈر میں اہم تاریخ اور واقعات درج کر لیں۔ ناشتہ کرتے وقت یا رات کو سونے سے پہلے دن بھر کے کاموں کی فہرست بنالیں۔ ایک ڈائری میں تمام اہم ملاقاتوں اور میٹنگ نوٹ کر لیں۔ خریداری کرنے سے پہلے بھی ایک فہرست بنالیں۔ اگر ہوسکے تو ایک ساتھ دو کام کرسکتے ہیں۔ جن کاموں میں وقت برباد ہوتا ہے ان کو کم کریں جیسے انٹرنیٹ اور ٹی وی وغیرہ۔
کام کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لئے، زیادہ منظم ہونے اور تناؤ سے دور رہنے کے لئے ایک ذاتی ڈائری استعمال کی جاسکتی ہے۔ گھر اور آفس میں بکھرے کاغذات پریشان کرتے ہیں۔ اس سے اچھا ان کو ایک فائل میں رکھا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم دن میں گمشدہ کاغذ کو تلاش کرنے میں پینتالیس منٹ گنوادیتے ہیں۔ اگر میز پر کوئی کاغذ رکھا گیا ہے تو دن میں کم از کم پانچ بار ہماری نظر اس پر جائے گی۔پرچوں کو سنبھالتے ہوئے سوال کرنا ضروری ہے کہ کیا واقعی مجھے اس کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو اسے مستقبل کے لئے فائل میں رکھا جاسکتا ہے یا اس کو کوڑے دان میں پھینکا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو کاغذات ایک سال تک فائل میں رہتے ہیں، پچانوے فی صد، ان کا استعمال نہیں ہوتا۔ چناچہ بہتر ہے کہ فائل کو بھی وقتاً فوقتا ًدیکھ لیا جائے۔ میز پر صرف کام کی چیزیں ہوں اور باقی کو نکال دیا جائے۔ ڈاک میں آنے والے جن خطوط کی ضرورت نہیں انہیں پھینک دیا جائے۔ جہاں تک ہوسکے اپنی میز کو خالی رکھنے کی کوشش کریں۔ جواب دیتے وقت اسی کاغذ کا استعمال کریں جو آپ کو بھیجا گیا ہے۔ غیر ضروری کام کے لئے بچے ہوئے کاغذ کا استعمال کرسکتے ہیں۔
جہاں تک ہو سکے آن لائن سے کام لیا جائے۔ فوٹوکاپی کرتے وقت کاغذ کی دونوں طرف کا استعمال کیا جائے۔ ایک ہی فائل کو کئی خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے کہ بنک کے کاغذات، بجلی کا بل، ٹیلی فون کا بل وغیرہ۔الیکٹرانک چیزیں جو ٹوٹ گئی ہیں، ان کی مرمت کی جائے یا انہیں پھینک دیا جائے۔کچھ نوٹ کرتے وقت یہاں وہاں لکھنے کی جگہ نئی معلومات کو ان کی کی اصل جگہ پر لکھا جائے۔اس طرح بوقت ضرورت آسانی سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
زندگی میں اپنا مقصد پہچاننا ضروری ہے۔ اس سے زندگی کو اس کی اصل جہت ملتی ہے۔ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے آخری نتیجہ کو ذہن میں رکھیں۔ ایسا نہ کرنے سے ہم حالات اور دوسروں کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ ہر فرد کی اپنی خواہشات ہیں اور ہر دل میں اپنے اپنے ارمان ہیں۔ اپنی انفرادیت کا احترام کرتے ہوئے اپنی خواہشات کی طرف قدم بڑھائیں۔ہماری اقدار ہمیں صحیح منزل کی طرف لے جاتی ہیں۔ بچپن میں آپ کیا پسند کرتے تھے؟ کیا وہ چیزیں آج بھی آپ کو تسلی دیتی ہیں؟ کیا ان کو پورا کرنے کے لئے آپ کو موقع ملتا ہے؟ اب آپ کو کیا پسند ہے؟ آپ کی روح کو کس چیز سے سکون ملتا ہے؟ کل اگر آپ کو لاٹری مل جائے تو آپ اپنے وقت کے ساتھ کیا کریں گے؟ بیس سال بعد آپ زندگی میں کہاں ہوں گے؟ مرنے کے بعد آپ کیا چاہیں گے کہ آپ کو کس کام کے لئے یاد رکھا جائے؟ ان سوالوں کے جواب سے کامیابی ملتی ہے۔
اپنے خوابوں کو پہچاننے سے ہمیں آگے جانے کا راستہ ملتا ہے۔ ہمارا وقت اور ہماری ترجیحات کا تحفظ ہوتا ہے۔ ہماری اقدار ہمارے خواب کو شرمندۂ تعبیر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ اپنے خواب کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے کے بعد ان کو بار بار دیکھنے سے ذہن ان کی طرف راغب ہوتا ہے۔ آپ جس چیز کی طلب رکھتے ہیں، اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ ایسی چیز جس کو پانا آپ کے بس میں ہو جس کا حقیقت سے بھی تعلق ہو اور اس کو پانے کا وقت بھی طے کریں۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا پانا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے لئے آپ کا خاندان اہم ہے، آپ دو سالوں کے اندر اندر ایک مکان بنانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس پہلے سے زمین موجود ہے۔ اب آپ کو معمار اور بنک سے قرض لینے کی ضرورت ہے۔
آپ کی شخصیت بھی آپ کا وقت بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ دوسروں کو خوش کرنے کے لئے اپنی ضروریات کو بالائے طاق رکھنابہت بھاری پڑسکتا ہے۔دوسروں کو منع کرنے سے اپنا وقت اور اپنی توانائی بچتی ہے۔ اپنے کا م کے لئے زیادہ وقت ملتا ہے اور رشتے بھی سالم رہتے ہیں۔ اگر وقت پیسہ ہوتا تو کیا آپ اسے سب کو دیتے؟ اگر دوسروں کو آپ اپنے پیسے دیتے رہے تو آپ کا کیا ہوگا؟ پیسہ کمایا جاسکتا ہے لیکن جو وقت ہاتھ سے نکل گیا دوبارہ نہیں آتا۔ جلد بازی میں فیصلہ لینے سے پہلے وقت نکال کر اس پر سوچیں۔ کام کرتے وقت دروازہ بند رکھیں تاکہ آپ کے کام میں خلل نہ ہو۔ کام کا وقت طے کریں۔ ٹیم میں کام کریں اور آپس میں وقت تقسیم کریں۔ اگر شک ہو تو وضاحت طلب کریں۔ نہ کہتے وقت احساسِ ندامت سے گریز کریں۔ کامیابی ملنے پر دوسروں کو خوشی میں شامل کریں۔
ترجیحات سے آپ کو خوشی ملتی ہے جیسے آپ کا خاندان، آپ کی ملازمت اور آپ کی صحت کا خیال رکھنا۔ حالات اور دوسروں پر قابو پانے سے بہتر ہے کہ خود کوسنبھالا جائے۔جو کام آج مکمل کرنا ہے، اسے کل پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مستقبل کے لئے جو کام پورا کرنا ہے اس کے لئے تاریخ کو ذہن میں رکھیں۔ جوکام نہیں ہو سکتا وہ دوسروں کو دے دیا جائے اور جن کاموں سے وقت برباد ہوتا ہے ان کو کم کیا جائے یا ان سے کنارہ کشی کیا جائے۔
پہلے سے منصوبہ بندی بنالیں۔ ہر ہفتے، ہر مہینے اور ہر سال کا منصوبہ بنائیں۔کام کے درمیان وقفہ لینا نہ بھولیں۔ اپنے خاندان کو وقت دیں۔خود سے واقف ہوں۔ یہ سوچیں کہ آج سے آپ کون سا پانچ کام شروع کریں گے۔ کون سے پانچ کام منقطع کریں گے اور کون سے پانچ کام جاری رکھیں گے۔ کمزور منصوبہ بندی سے کمزور نتیجے برآمد ہوتے ہیں۔ ترجیحات کے مطابق اپنے کام کو انجام دیں۔کچھ لوگ مانتے ہیں کہ دنیا میں ان کے پاس کوئی طاقت نہیں اور ہوا کا رخ جہاں انہیں لے جاتا ہے وہ وہیں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کی زندگی کے حادثات پر ان کا اختیار ہے۔وہ اپنی طاقت سے آگے جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
تناؤ سے بچنے کے لئے وقتاً فوقتاً رکنا ضروری ہے۔ اس طرح آرام کرنے کے بعد کام کرنے کے لئے زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ آرام بھی درست نہیں ہوتا۔ سستی اور کاہلی وقت کی چوری کرتی ہے۔ سستی کی ابتدا مشکل کام کرنے کی جگہ آسان کام کرنا ہے اور کم اہم کام کو ترجیح دینا ہے۔ ایسے میں سارا کام ویسے کا ویسا رہ جاتا ہے۔ اس اثنا میں تناؤ، شرمندگی، شک و شبہ، اداسی، کام میں پریشانی اور صحت خراب ہوتی ہے۔آخری منٹ میں کام مکمل کرنے سے کام کی نوعیت میں فرق آجاتا ہے۔کام کو چھوٹے حصّوں میں تقسیم کریں اور ایک وقت میں ایک ہی حصّہ پر کام کیا جاسکتا ہے۔ کام کو پورا کرنے کے لئے وقت مقرر کریں۔ایسے لوگوں کی صحبت میں رہیں جو اپنے اعمال و اقوال سے آپ میں جوش و ولولہ پیدا کرے۔اپنے کام میں کسی کو شامل کریں۔ دوسروں کو اپنے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتائیں۔ اس طرح آپ کو اپنے کام کے لئے دوسروں کو جواب دینا پڑے گا۔ہر وقت اپنی منزل کے بارے میں سوچیں۔جہاں تک ہوسکے اپنے کام کو آسان بنائیں۔
بار بارصحیح وقت پر صحیح کام کرنے سے آدمی کو خوشی اورکامیابی کا احساس ہوتا ہے۔ غلط خیال کو اپنے پاس آنے نہ دیں۔ مجھے سب کچھ کرنا ہے۔ سب کچھ سمیٹ کے رکھنا ہے۔ منظم رہنے سے میری قوت تخلیق میں خلل پیدا ہوتی ہے۔ ایک دن میں کافی وقت نہیں ہوتا۔ کام کرنے میں بہت محنت لگتی ہے۔ یہ تمام چیزیں منفی ہیں۔دوسروں کے وقت کا بھی لحاظ رکھیں۔ ان کو اپنے کام میں دخل اندازی کرنے نہ دیں۔ فضول باتوں سے گریز کریں۔اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلے کریں۔ اگر کام کا بوجھ بڑھ جائے تو دوسروں کو بھی کام دیں۔
ایک دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں۔ وقت پر کسی کا اختیار نہیں۔ وقت کو خریدا نہیں جاسکتا اور نہ ہی ادھار لیا جاسکتا ہے۔ ہم بس ایسے
مشاغل منتخب کرسکتے ہیں جن سے من پسند نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ کامیابی کے لئے نظم و ضبط اور لگن کی ضرورت ہے۔
وقت سب سے محدود وسیلہ ہے اور اس کا تحفظ نہ کیا جائے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ وقت کا پابند ہونے سے کم وقت میں زیادہ کام انجام دیا جاسکتا ہے۔