روایت سے غداری

منکہ نیم پاکستانی ، یعنی نصف نارویجین  اور نصف پاکستانی ، دو مختلف معاشرتوں  میں تقسیم ہو کر بھی روایت سے منسلک ہوں۔  اور ایک روایتی معاشرے کا فرد اور دو ملکوں کا شہری ہوں ۔ روایتی معاشرہ رب المشرقین اور رب المغربین  کی مخلوق کا معاشرہ ہے کیونکہ مشرقین اور مغربین ایک ہی رب کے ہیں۔ 

زمین کے لوگ کسی بھی مذہب، کسی بھی لادینیت یا کسی بھی الحاد سے وابستہ ہوں ، خالق سے اپنے رشتے کے منکر نہیں ہو سکتے۔  یہ الگ بات کہ وہ اپنی ہستی کو اس طرح نہیں پہچانتے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔  اور جو خُود کو نہیں پہچانتا  وہ اپنے رب کو کیسے پہچان سکتا ہے۔ اور وہ اس لیے  کہ خاتم النبیین ﷺ کا فیصلہ ہے کہ  من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا  اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔  چنانچہ جو لوگ الحاد کے پنجرے کے قیدی ہیں ، در اصل وہ اپنی ذات کے منکر ہیں۔  وہ کٹھ پتلیاں اور مشینی روبٹ ہیں  جو معاشرے میں  پس منظر میں تار ہلانے والوں اور  کی بورڈ پر بیٹھے  لوگوں کے  اشاروں پر ناچتے ہیں اور  معاشرے میں نقال بن کر رہتے ہیں۔ لنڈے کے مال کی طرح جن کا نہ کوئی انفرادی وجود ہوتا ہے اور نہ ہی  اختیار۔  اس نقالی کا فارمولا خاتم النببین ﷺ نے اس طرح بیان کیا ہے:

اعمالکم عمالکم

تمہارے حاکم تمہارے اعمال ہیں۔  تم جیسے اخلاق و کردار  کے حامل ہوتے ہو ویسے  ہی حاکم تم پر مسلط ہو جاتے ہیں۔  ایک کرپٹ معاشرے کا حُکمران  انتہائی کرپٹ ترین شخص ہوتا ہے۔  ایک منافق معاشرے  کی باگ ڈور  وقت کے  منافقِ اعظم کے  ہاتھ  میں ہوتی ہے۔  چنانچہ ہر کرپٹِ اعظم  اور منافقِ ملت  اپنی معاشرت کا آئینہ ہوتا ہے۔  ہر منافقِ اعظم کے گرد منافقوں کا گروہ جمع ہوجاتا ہے  کیونکہ ایک جیسے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا فطری میلان ہوتا ہے۔  یہ لوگ معاشرے کے ہر طبقے کے نمائندے ہوتے ہیں۔  ہر قومی ادارہ  اپنے کرپٹوں اور منافقوں کے ذریعے  منافق اور  کرپٹ حکمران کی حکمرانی کو تقویت دیتا ہے  اور ایسے معاشروں میں فطرت کی روایت قتل ہو جاتی ہے۔ 

فطری روایت آسمان کی وہ وقوت ہے جسے نیابت کہتے ہیں  جو کبھی خلافت کہلاتی تھی۔  اس فطری روایت میں زمین کے لوگ آسمان کے آئین اور قانون کو  زمین پر نافذ کرتے ہیں ، جس میں ہر عہد کی اپنی  جدت مونہہ سے  بولتی ہے۔ یہ قدیم کا وہ سفر ہے جو ماضی سے  حال کی شاہراہ سے گزرتا ہوا  مستقبل کی طرف جاتا ہے۔ روایت میں ماضی حال اور مستقبل تینوں ایک  ہی حقیقت کا تسلسل ہیں۔  آسمان کا پیغام اخلاقی اور روحانی ہوتا ہے ،  جو طبعی  اقدانات سے اظہار پاتا اور تکمیل کا سفر طے کرتا ہے۔  آسمانی پیغام کے نفاذ میں اشیا  املاک اور زرِ نقد پر ولایت، محبت، رواداری، اخوت، مساوات ، خدمتِ خلق اور انصاف کو ترجیح ملتی ہے۔  اشیائے ضرورت کو فوقیت دی جاتی ہے  اور سامانِ آسائش و تعیش کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ روایت میں ٹُوٹا ہوا حُجرہ، پھٹا ہوا بوریہ  اور  دنیا کے مال کو  مخلوق میں حسبِ ضرورت  تقسیم  کا عمل فائق ہے۔  اور ہر حقدار کو اس کا حق دینے کا آئین اور قانون رائج الوقت  ہوتا ہے ۔

 روایت میں  خلیفہ  وقت  پیوند لگے کپڑے پہنتا ہے  اور اس لیے پہنتا ہے کہ اُس کی عملداری میں بہت سے لوگ  پینوند لگے کپڑوں میں لپٹے ہوتے ہیں اور اُن سے یک جہتی کا اظہار خلیفہ کا پیوند لگا لباس ہوتا ہے۔  اُسے اپنی ریاست کے ہر فرد کی کفالت  کرنی ہوتی ہے  اور اگر ایسا شخص یہ کہتا ہے کہ اگر دجلہ کے کنارے  ایک کُتا بھی بھوکا سویا تو حکمران جواب دہ ہے  تو وہ اُس کا اپنا سچ ہے لیکن آج کا حکمران جو ریاستِ مدینہ کی لوریاں گا کر لوگوں کو وعدوں کی  نیند سلا دیتا ہے،  وہ کوئی ذمہ دار حکمران نہیں ہے۔  اگر اُسے لوگوں کی غربت اور بھوک  کا واسطہ دیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ بہت سے  لوگ تو امریکہ میں بھی بھوکے سوتے ہیں۔دوسرے ملکوں میں بھی لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہوتے ہیں۔  یہ  مکرو فریب کا بیانیہ ہے  جو پاکستانی معاشرے پر عذاب بن کر اُترا ہے۔  لہٰذا وہ روایت  جس میں دجلہ کے کنارے موجود کُتّے  کی کفالت کی ذمہ داری لی جاتی ہے  ، کہاں ہے َ آج ؟

آج کے مسلمان معاشرے میں کروڑوں لوگ اُس کفالت سے محروم ہیں۔  آج کے مسلمان معاشرے کی نفسیات اقبال نے یوں بیان کی تھے:

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

چنانچہ پاکستانی معاشرے میں  عضوِ ضعیف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے  وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ معاشرہ روایت کا غدار ہے،  جو روایت  کا واسطہ دے کر  لوگوں کو فریب میں مبتلا کرتا ہے۔  مجھے حیرت ہوتی ہے کہ بائیس کروڑ نفوس کا حکمران فیصل آبادی جُگت بازوں کے لب و لہجے میں کیسے گفتگو کرسکتا ہے مگر آج چشمِ فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھ لیا اور سن لیا کہ  فیصل آبادی  جگت باز اور حکمران ایک ہی زبان بولتے ہیں اور دونوں کا  بیانیہ ایک ہے۔  قرائن بتا رہے ہیں کہ  ہمارا معاشرہ روایت کا غدار ہے ۔ یہ معاشرہ محمدی اقدار پر استوار نہیں ہے۔ اس معاشرے میں مذہب کا ادارہ  ایک کاروباری ادارہ  ہے جس سے ایک طبقے کی روزی روٹی وابستہ ہے  اور یہ ادارہ عام آدمی کو اسلام سکھانے کا کام نہیں کر رہا۔  اس کے بر عکس یہاں تو معاشرے کے طاقت ور طبقوں کے درمیان  کشا کش اور کھینچا تانی جاری ہے اور گالی گلوچ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال پر میرا تبصرہ یہ ہے کہ:

شریفوں کا ہے جھگڑا باجوے سے

مجھے بالکل کوئی ٹینشن نہیں ہے

شریف اور باجوہ معاشرے میں متحارب کیمپوں کی علامتیں ہیں  اور مریم نواز شریف نے فرمایا ہے کہ یہ بڑوں کا جھگڑا ہے اس میں عمران خانیت کیا بیچتی ہے۔ یعنی ایک بڑا شریف خاندان ہے اور دسرا بڑا باجوہ خاندان  جو خلائی مخلوق کا تیسرا نام ہے۔  اور جہاں ہاتھیوں کی لڑائی ہو وہاں  عمران جیسے مینڈک صرف ٹرا سکتے ہیں  اور بس۔  اُن کے پاس فیصلہ کُن قوت نہیں ہوتی مگر بعض اوقات بازی اُلٹ بھی سکتی ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ  جب کروڑوں مینڈک مل کر ٹرا  رہے ہوں تو ہاتھی اپنی سونڈ کو  دم کی طرح دبا کر بھاگ بھی سکتے ہیں۔  اب دیکھیں اس جنگ کا فتح کون ٹھہرتا ہے ؟ مگر فاتح کوئی بھی ہو، مفتوح  غریب عوام ہی ہوں گے  کیونکہ نزلہ ہمیشہ عضوِ ضعیف پر ہی گرتا ہے۔ قسم ہے زمانے کی انسان خسارے میں رہے گا۔ ہم حکمران ہوں یا رعایا، ہم سب خسارے میں ہیں۔

 اور روایت ببانگِ دہل یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اس صورتِ حال کے ذمہ دار  ہم سب ہیں  کیونکہ خاتم النبیین ﷺ نے فرمادیا ہے  کہ: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔ اور ہم سب اپنی اپنی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ادارہ ء رسالت ﷺ کے مجرم ہیں  اور اپنی اپنی سزا سہہ رہے ہیں۔

وما علینا الالبلاغ