غیر اخلاقی مواد ہٹانے کی یقین دہانی پر پاکستان میں ٹک ٹاک بحال
- سوموار 19 / اکتوبر / 2020
- 5550
پاکستان کی حکومت نے معروف سوشل میڈیا ایپلی کیشن 'ٹِک ٹاک' کی انتظامیہ کی جانب سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کی یقین دہانی کے بعد اسے پاکستان میں دوبارہ بحال کر دیا ہے۔
ملک میں مواصلات کے نگران ادارے 'پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی' (پی ٹی اے) کے ترجمان خرم مہران نے بتایا ہے کہ 'ٹِک ٹاک' کی انتظامیہ نے پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد پر قابو پانے کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد ایپلی کیشن سے پابندی ہٹائی جا رہی ہے۔ پی ٹی اے نے اپنے ایک اجلاس میں 'ٹِک ٹاک' انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل پی ٹی اے نے غیر اخلاقی مواد نہ روکنے پر 'ٹِک ٹاک' کو نو اکتوبر کو پاکستان میں بند کر دیا تھا۔
ترجمان پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ 'ٹِک ٹاک' کی انتظامیہ غیر اخلاقی و غیر مناسب مواد کی پاکستان میں روک تھام کا طریقۂ کار بنانے پر آمادہ ہو گئی ہے جس کے بعد ایسے اکاؤنٹس جن سے فحش اور غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کیا جائے گا، انہیں مستقل بلاک کر دیا جائے گا۔ خرم مہران نے بتایا کہ غیر اخلاقی مواد کی مسلسل نگرانی اور اس قسم کا مواد اپ لوڈ کرنے والے اکاؤنٹس کو معطل کرنے کا مقامی نظام بھی بنا دیا گیا ہے۔
نوجوانوں میں مقبول اس ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن پر پاکستان میں نو اکتوبر کو پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد بعض حلقوں نے اس کی حمایت کی تھی جب کہ بعض پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے اس اقدام پر تنقید کر رہے تھے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں 'ٹِک ٹاک' استعمال کرنے والے صارفین بھی حکام پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اس ایپلی کیشن پر عائد پابندی کو ہٹایا جائے۔