کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی مذمت، آئی جی سندھ کو اغوا کرنے کا الزام
- سوموار 19 / اکتوبر / 2020
- 5830
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ آئی جی سندھ کو رینجرز نے اغوا کرنے کے بعد اُنہیں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے احکامات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سندھ نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے انکار کیا تو اُنہیں اغوا کرنے کے بعد مقتدر قوتوں کے دفتر میں چار گھںٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔ اس سے قبل اس طرح کا الزام سابق گورنر سندھ اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے بھی ایک آڈیو میں عائد کیا تھا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
پولیس نے پیر کو علی الصباح مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو اس ہوٹل سے گرفتار کرلیا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ اتوار کو 'پی ڈی ایم' کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے جلسے سے قبل مزارِ قائد پر حاضری دی تھی۔ مزارِ قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد کیپٹن (ر) صفدر نے وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے 'ووٹ کو عزت دو' اور 'مادرِ ملت زندہ باد' کے نعرے لگوائے تھے جس پر ان کے خلاف مزار کی بے حرمتی اور قتل کی مبینہ دھمکیاں دینے کے الزام میں ایک شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے خلاف پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اُنہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں لگا کہ یہ کارروائی سندھ حکومت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر غصے میں تھے اور انہوں نے کال کر کے کہا کہ آپ ہماری مہمان اور بہن ہیں۔ ہم سوچ نہیں سکتے تھے کہ ایسا ہو گا۔
رینجرز کی جانب سے آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا سے متعلق جب صحافیوں نے سوال کیا تو مریم نواز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے احتیاط سے کام لیا ہے۔ لیکن میں بتاتی ہوں کہ آئی جی سندھ کو اغوا کے بعد رینجرز کے سیکٹر کمانڈر کے دفتر میں لے جا کر کہا گیا کہ گرفتاری کے احکامات پر دستخط کریں۔ مریم نواز نے کہا کہ اگر کسی نے صفدر کو سندھ میں گرفتار کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس عمل سے پی ڈی ایم میں دوریاں پیدا ہو جائیں گی تو ایسا نہیں ہو سکتا۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمے کا مدعی وقاص احمد خان خود دہشت گردی کی عدالت کا مفرور ہے۔ ایسے مدعی لائے گئے جن کا اپنا کرمنل ریکارڈ ہے۔ ایف آئی آر کے لیے ایسے لوگ ہی کیوں لائے جاتے ہیں؟ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ جب پرویز مشرف کا دور ختم ہوا تھا تو اُس وقت ان سے پے در پے غلطیاں ہوئیں۔ آج موجودہ حکومت کا حال بھی ویسا ہی ہے۔ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریں گے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ طاقت کے نشے میں اندھے ہوتے ہیں تو دماغ سے نہیں سوچتے اور ایسی غلطیاں کرتے ہیں۔ ہمارا کام آپ نے آسان کر دیا ہے اور موقع دیا کہ قوم کے سامنے یہ بات رکھیں کہ ریاست کے اندر ریاست اور حکومت کے اندر حکومت موجود ہے۔ جب نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ تو صحیح کہتے ہیں۔
حزبِ اختلاف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج جو حرکت کی گئی ہے وہ بدمعاشی ہے۔ یہ جبر اور ظلم کی حکومت ہے جو خود کو آئین کی پاسداری کا پابند نہیں سمجھتی۔ پی ڈی ایم کے صدر کا کہنا تھا کہ رینجرز کے اس عمل کے بعد اب بتائیں ملک میں حکومت کس کی ہے؟ ملک میں جبر اور ظلم کی حکومت ہے جب کہ سیاست دان آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے نکلے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت سندھ میں کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کی حرکت کی گئی تاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ پی ڈی ایم میں دوریاں پیدا کر دیں گے آج اُنہیں مایوسی ہو گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صرف مسلم لیگ (ن) پر نہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم پر حملہ کیا گیا ہے۔ ہم اپنی حرمت کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ جن لوگوں نے بدمعاشی کر کے آئین و قانون کو ہاتھ میں لے کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا انہیں بہت شرمندگی ہو گی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے واقعے پر پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت انتہائی دکھی ہیں۔ کوئی معاشرہ ایسی حرکت کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس گرفتاری سے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو لاعلم رکھا گیا اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اس سے بے خبر تھی. یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ہے۔
پریس کانفرنس سے قبل پی ڈی ایم رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا جس میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر مشاورت کی گئی۔