سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن فنڈ کے لئے کمیشن قائم کردیا
- منگل 20 / اکتوبر / 2020
- 5680
سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کروائے گئے فنڈز کے استعمال کا فیصلہ کرنے کے لئے 11 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ادا کیے جانے والے فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کی درخواستوں پر سماعت کی۔Skip سماعت میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین، بحریہ ٹاؤن پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے سید علی ظفر اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی جانب سے فنڈز کے استعمال کے لیے کمیشن بنانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ فنڈ ایک اعلیٰ سطح کے کمیشن کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے۔ عدالتی حکم کے مطابق کمیشن سندھ میں ضرورت کے مطابق نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرے گا۔ پہلے سے جاری منصوبوں پر بحریہ ٹائون کا ملنے والا پیسہ خرچ نہیں ہوسکے گا۔
کمیشن کا ایک چیئرمین اور 5 ووٹنگ اراکین ہوں گے جو مستقل سندھ کے رہائشی اور کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوں گے جبکہ چھ نان ووٹنگ اراکین کو عہدوں کی وجہ سے کمیشن میں شامل کیا جائے گا۔ کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ مقرر کرے گی جو سندھ سے تعلق رکھنے والے عدالت عظمیٰ کے ریٹائر جج یا کوئی سابق سرکاری عہدیدار ہوسکتے ہیں۔
کمیشن کے ووٹنگ اراکین میں چیئرمین کے علاوہ گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ کا نامزد کردہ ایک ایک نمائندہ، اٹارنی جنرل پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کمیشن کی تجویز کردہ ایک خاتون شامل ہوں گی جو نہ تو سرکاری عہدیدار ہوں اور نہ ہی ان کی کوئی سیاسی وابستگی ہو۔
نان ووٹنگ اراکین میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری خزانہ(جو کمیشن کے سیکریٹری بھی ہوں گے)، بورڈ آف ریونیو سندھ کے سینئر رکن، آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر میں تعینات سندھ کے سب سے سینئر افسر، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان کے دفتر میں تعینات سندھ کے سب سے سینئر افسر اور گورنر اسٹیٹ بینک کا نامزد کردہ نمائندہ شامل ہو گا۔
سپریم کورٹ کے مطابق چیئرمین اور دیگر ووٹنگ اراکین کے عہدے کی مدت کمیشن کے پہلے اجلاس سے لے کر 4سال تک ہوگی تاہم عدالت عظمیٰ کسی بھی رکن کو کسی بھی وقت تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ حکم نامے کے مطابق کمیشن کے تمام فیصلےاکثریت کی رائے سے کیے جائیں گے اور ووٹنگ مساوی ہونے کی صورت میں چیئرمین کو دوسرا ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔