پاکستان کا بحران: مکالمہ کرنا ہوگا

پاکستان کا حالیہ بحران سنگین بھی ہے اور ایک ادارہ جاتی عمل میں ٹکراؤ کی کیفیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ دو بنیادی نوعیت کے مسائل اس وقت ہمیں درپیش ہیں۔ اول حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نہ صرف بداعتمادی بلکہ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے کی روش سے تلخی کا ماحول۔ دوئم اسٹیبلیشمنٹ اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، بدگمانی سمیت عملی طور پر براہ راست اداروں او ران کے سربراہان پر تنقید او رالزامات کی بوچھاڑ۔

حزب اختلاف کا نیا اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کا اس وقت خصوصی ٹارگٹ جہاں عمران خان ہیں وہیں وہ اسٹیبلیشمنٹ کو بھی متنازعہ یا فریق بنا کر اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔یہ ٹکراؤ  کسی بھی صورت پاکستان، سیاست، جمہوریت اور ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔حز ب اختلاف کے اتحاد کے تحت ہونے والے جلسوں میں اسٹیبلیشمنٹ یا کسی ادارہ کے سربراہ سمیت ان کے کردار پر سیاسی گفتگو یقینی طور پر مناسب نہیں اور نہ ہی یہ ادارے اور ملک کے مفاد میں ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ خود اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں بھی حزب اختلاف کے اس کھیل پر تشویش کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔نواز شریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی،  عبدالمالک،سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگوں کے لہجے میں تلخی ہے۔ وہ براہ راست اسٹیبلیشمنٹ کو فریق سمجھتے ہیں او ران کے بقول عمران خان کی حکومت کی حقیقی حمایت عوام نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو اسٹیبلیشمنٹ ہی چلتا کرے او رملک میں نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔یہ شفاف انتخابات کیسے ہوں گے اور ہارنے والا کیونکر انتخابی نتائج کو قبول کرے گا او رکیسے اسے مداخلت سے پاک انتخاب بنایا جائے گا، خود ایک بڑا سوال ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف کی سیاست میں جوش یا جذباتیت کا پہلو نمایاں ہے تو دوسری جانب حکومت بھی معاملات کو ٹھنڈا کرنے یا حزب اختلاف کو سیاسی مکالمہ میں لانے کی بجائے خود  ردعمل کی سیاست میں الجھی نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جارحانہ حکمت عملی کے تحت حزب اختلاف کو چیلنج کررہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان او ران کے وزرا، مشیر وں کا لہجہ یا طرز عمل  جارحانہ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ  حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا گرانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف اسٹیبلیشمنٹ کو ٹارگٹ کررہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے بیانات میں بھی بلاوجہ اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو گھسیٹا جاتا ہے۔

اس صورتحال کے دو امکانی منظر نامے ہوسکتے ہیں۔ اول حکومت او رحزب اختلاف کی لڑائی میں اسٹیبلیشمنٹ کو اور زیادہ متنازعہ بناکر ان کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جائیں۔ اس کا نتیجہ پہلے سے جاری ٹکراؤ کی سیاست میں اور زیادہ تلخی پیدا ہو۔  یا اداروں کے درمیان مقابلہ بازی یا تقسیم کا سبب بنے ۔یہ عمل یقینی طور پر قومی مفاد میں نہیں ہوگا۔ دوئم طاقت کے تمام مراکز میں موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا سنجیدہ مکالمہ کیا جائے۔ اس میں حکومت، حزب اختلاف سمیت تمام اداروں کے اہم افراد  بیٹھیں اور معاملات کو افہام تفہیم سے سلجھانے کی کوشش کریں۔کیونکہ مسائل کا حل ہم ٹکراؤکی بجائے مکالمہ میں یا بات چیت کی مدد سے ہی تلاش کرسکتے ہیں۔

طاقت کے مراکز میں اس مکالمہ کی بحث نئی نہیں ہے۔ پہلے بھی کئی افراد انفرادی سطح پر اس طرز کے مکالمہ کی حمایت کرچکے ہیں۔ چوہدری احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، سابق چیرمین سینٹ رضا ربانی، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ،کئی اہل دانش، علمی و فکری راہنما، سابق بیوروکریٹ، سابق فوجی افسران ایک سے زیادہ مرتبہ بحران کا حل   طاقت کے مراکز میں ایک نیا مکالمہ  تجویز کرچکے ہیں۔لیکن اس تجویز کو سیاسی پزیرائی نہیں مل سکی۔

ماضی میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے براہ راست صدر مملکت عارف علوی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ذاتی کوشش سے اداروں کے درمیان مکالمہ کا اہتمام کریں تاکہ اداروں کے درمیان موجود خرابیوں سمیت ایک نیا چارٹر آف گورننس سامنے آسکے۔ان کے بقول اس مکالمہ میں پارلیمنٹ کے ارکان، عدلیہ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان بھی شریک ہوں۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ تمام اداروں کو اپنی سیاسی، قانونی، انتظامی یا ادارہ جاتی حدود میں رہنا ہوگا او راپنے اپنے دائر ہ کار سے تجاوز کی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا۔اگرچہ بہت سی حدود اس وقت قانون میں موجود ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ اس پر عملدرآمد نہ ہونے کہ برابر ہے۔ یہ خرابی کسی ایک فریق کی جانب سے نہیں بلکہ تمام ہی اپنی اپنی سطح پر غلطیوں یا حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔ایسے میں اس طرز کے   مکالمہ  کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ تمام فریق مل بیٹھ کر متبادل حکمت عملی پر اتفاق کرکے آگے بڑھیں۔

جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ تمام ادارے متنازعہ ہوگئے ہیں او رایک دوسرے کے خلاف دست وگربیان ہیں تو ایسی صورتحال میں مکالمہ واقعی ناگزیر ہوجاتا ہے۔کیونکہ سیاست او رجمہوریت کے لیے خودریاست او راس کے اداروں کا مضبوط ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اورہمیں ایسے طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے جو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر بطور ریاست ہماری مشکلات میں اضافہ کرنے کا سبب بنے۔ اس سوچ اور فکر سے بھی سب کو آزاد ہونا ہوگا کہ سب خرابیاں محض ایک ہی ادارے میں ہیں او رباقی سب شفافیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مسائل سب میں ہیں اور سب نے اپنی اپنی سطح پر ماضی او رحال میں غلطیاں کی ہیں۔ اگر ان غلطیوں کی اصلاح کرنی ہے تو سب کو اپنی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے ہار یا جیت کی بجائے ریاستی یا ملکی مفاد کے تحت اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔

یہ مکالمہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر جس مشکل دور سے گزررہا ہے او رجو ہماری علاقائی سیاست سے جڑے مسائل ہیں یا جو ہمیں معاشی بحران کا سامنا ہے اس کا حل ایک مضبوط سیاسی استحکام سے ہے۔فوج کا کردار، عدلیہ کا شفا ف نظام یا احتساب کا شفافیت پر مبنی نظام، سیاسی مداخلتیں، شفاف انتخابات، سیکورٹی سے جڑے مسائل یا معاشی استحکام کا روڈ میپ پر واقعی ہمیں نئی سوچ اور فکر یا بیانیہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جو سیاسی یا ادارہ جاتی تلخی ہے اس کا علاج بھی اسی مکالمہ او راس کے نتیجے میں بننے والے بڑا اتفاق رائے ہی مسائل کے حل کی کنجی ہو سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ مکالمہ کیسے ہوگا او رکون اس کی پہل کرے گا۔ اصولی طو رپر تو اس پہل کا آغاز خود حکومت کو کرنا چاہیے یا صدر مملکت کو یہ زمہ داری دینی چاہیے کہ وہ اس کا آغاز کریں او رحکومت سمیت حزب اختلاف اس مکالمہ کی کھل کر حمایت کرے۔کیونکہ جو بحران ہے اس کا علاج محض نئے انتخابات یا حکومت کا خاتمہ نہیں۔کیونکہ طاقت کے زور پر حکومتوں کو گھر بھیجنا یا ماضی کی طرز کے انتخابات کا کھیل بھی مزید نئے انتشار کو جنم دے گا اور صرف کھیل کے فریق بدلیں گے اور تماشہ جاری رہے گا، جو ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔