افغانستان: جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب بھگڈر سے 15 افراد ہلاک
- بدھ 21 / اکتوبر / 2020
- 6600
افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ویزا کے حصول کے لیے آنے والے ہزاروں افراد کے مجمع میں بھگڈر سے 15 افراد ہلاک ہوگئے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دوصوبائی عہدیداروں نے بتایا کہ قونصلیٹ کے باہر کھلے میدان میں 3 ہزار افراد جمع تھے جو ویزا درخواست کا ٹوکن ملنے کا انتظار کررہے تھے۔ ہجوم میں دھکم پیل کے دوران بھگدڑ کے باعث 15 افراد ہلاک ہوگئے۔
افغان نیوز چینل کی جانب سے تصاویر میں پاسپورٹ پر اسٹیمپ لگوانے کے لیے آئے ہوئے ہزاروں افراد کو پاسپورٹ ہاتھوں میں پکڑے دیکھا گیا ہے جبکہ بھگدڑ کے بعد لی گئی تصاویر میں پاسپورٹ زمین پر بکھرے ہوئے تھے۔ ایک زندہ بچ جانے والے شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ کیسے لوگ غصے میں بھڑک اٹھے اور ہجوم میں بھگڈر مچی۔
فرمان اللہ نے بتایا کہ میں پوری رات قطار میں کھڑا رہا لیکن کسی معاملہ پر لوگ غصہ ہوئے اور دھکم پیل شروع ہوگئی جس کی وجہ سے ہم میں سے متعدد زمین پر گر گئے۔ جلال آباد میں موجود ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ویزا درخواست گزار قونصلیٹ حکام سے ٹوکن کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے اور ہجوم قابو سے باہر ہوگیا تھا جو بھگڈر کا باعث بنا۔
خیال رہے کہ تعلیم، علاج اور روزگار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے ہر سال پاکستان کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین اور کاروبار کے لیے آئے تارکین وطن موجود ہیں۔
افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ رپورٹ ہونے والی اموات پر انتہائی غمزدہ ہیں۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ہمیں متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ہے، ہم ویزا درخواست گزاروں کو بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ہم نئی ویزا پالیسی کے تحت افغان شہریوں کو ویزا جاری کرنے کا عزم برقرار رکھیں گے۔ ہم اپنی طرف سے اس عمل کو مزید ہموار بنا رہے ہیں۔