موروثی سیاست اور پاکستان کا اسٹبلشمنٹ نواز دانشور

جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے خلاف شکست خوردہ پاکستانی دانشوروں کی آخری اور بوسیدہ دلیل ’موروثیت‘ ہوتی ہے۔

بڑی جماعتوں کی قیادت میں موروثیت کو اگر فی نفسہہ غلط تسلیم بھی کر لیا جائےتو اس کی وجوہات کا جائزہ لینے سے یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ بڑی جماعتوں پی پی اور ن لیگ کی حد تک اس رجحان کو پالنے پوسنے اور زندہ رکھنے کی اصل ذمہ دار ملک کی مقتدرہ ہے۔ جس نے بھٹو کی پھانسی سے لےکر ، جلا وطنی ، جبری برطرفی ، قیدو بند اور ڈکٹیٹیڈ نااہلوں کے ذریعے ان پارٹیوں کےلیڈروں کی اولاد کو سیاست میں دھکیلا۔

بھٹو کو پھانسی لگا کر اور خاندان اور پارٹی کو دیوار سے نہ لگا دیا جاتا تو بے نظیر اور نصرت بھٹو اور بے نظیر کے مقتدرہ کے ہاتھوں قتل کے بعد بلاول شاید آج سیاست میں نہ ہوتے۔ قریباً یہی حال مریم نواز کا بھی ہے۔ مقتدرہ کی سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کرنے کے عمل نے بھی سیاسی جماعتوں اور ان کے ووٹروں کو براہ راست قیادت اور کے خاندان کو ہی فالو کرنے پر مجبور کیا۔ بلکہ اس میں تو پاکستانی ووٹر اس حد تک سمجھدار ہے کہ اس نے اپنے کسی محبوب لیڈر کے خاندان میں سے بھی کسی ایسے شخص کو جو اسٹیبلشمنٹ کے کٹھ پتلی ہو یا جماعتی ویژن سے منحرف ہو کو قیادت کے لیے شرف قبولیت کبھی نہیں بخشا۔

بے نظیر کے مقابلے میں ممتاز بھٹو ، مرتضی بھٹو کی ووٹرز میں عدم مقبولیت اور مریم کے مقابلے میں شہباز کی قیادت پر ن لیگ کے ووٹروں کا کم اعتماد اس کی چند مثالیں ہیں۔ یہ بات تو خیر ذہن و جسم پر چربی کی تہیں چڑھائے ہوئے دانشوروں کی سمجھ میں سما ہی نہیں سکتی کہ ووٹر جسے چاہیں ، چاہے ہو قائد کی اولاد ہو ، وہی پارٹی قیادت کا حقدار ہے۔ اور یہی جمہوریت ہے۔

 پاکستانی ووٹر بارہا متبادل قیادت کو اپنی مرضی سے مسترد کرکے اس ’موروثیت‘ والی دلیل کو جھٹلا چکا ہے۔  قیادت پر جے یوآئی سے علیحدہ ہونے والے سمیع الحق جے یو آئی کے ووٹ بنک میں باوجود مقتدرہ کی مستقل حمایت کے باوجود مفتی محمود کے وارث فضل الرحمان کی کبھی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکے۔  پیپلز پارٹی کا تو خیر ذکر ہی کیا جس کے ووٹر نے ہمیشہ اپنی آزادانہ مرضی سے پارٹی کی مین سٹریم قیادت کے مقابل آنے والے کو چاہے ہو اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو تھا یا نہیں ہمیشہ دھول چٹائی۔

پاکستانی سیاسی پاٹیوں کا ووٹر مقتدرہ کی طاقت اور ہتھکنڈوں کے سامنے اپنی بے بسی اور اپنی قیادت کے عدالتی قتل ، جلاوطنی ، برطرفی اور دن دہاڑے خون بہائے جانے کا انتقام مقتدرہ کے معتوب سیاستدان کی اولاد پر پارٹی قیادت کے لیے اعتماد کرکے دیتا ہے۔ مقتدرہ اور اس کے حامی دانشوروں کو اپنے عمل سے پیغام دیتا چلا آ رہا ہے کہ کبھی احتساب اور کبھی کسی اور نام سے ہماری سیاسی قیادت کو انتقام کا نشانہ بنانا بند کرو، ہماری پارٹیوں میں مداخلت بند کرو، ہمارے ووٹوں کے بکسے اور مینڈیٹ چوری کرنا بند کرو۔

ہماری پارٹی کی قیادت کس کے پاس ہے اس فکر میں اپنے دماغ اور جسم کی چربی پگھلانے کی بجائے اگر مداخلت بند کردو۔ جب بھی ہمارا دل چاہے گا ہم لیڈر کے خاندان سے باہر کی قیادت کے پیچھے چل پڑیں گے۔ پارٹی کو اندرونی انتخابات کے لیے مجبور کریں یا پھر کسی نئی پارٹی کے ساتھ شامل ہوجائیں۔

اس وقت تک مقتدرہ اور اس کے تنخواہ دار دانشوروں کی موروثی سیاست پر تنقید عوامی رائے کے سامنے بے بس اور بے اثر ہوچکی ہے۔