جاپانیوں کی فطرت پسندی مثالی ہے

ہم ٹوکیو کے کین مین نامی پارک میں پہنچے تواس وقت ہر جانب سنہری دُھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ صبح کی خنکی میں یہ دھوپ بہت بھلی محسوس ہوتی تھی۔ہم پارک کی وُسعت اور دلکشی دیکھ کر دنگ رہ گئے۔جاپانیوں نے گنجان آبادٹوکیو کے انتہائی گراں علاقے میں جہاں زمین کا ایک ایک انچ انتہائی قیمتی ہے اتنا بڑا پارک بنا رکھا تھا۔

 پھر خیال آیا کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ منظم اور عوام دوست قوم ہے۔ انہوں نے زمین کی قلت کے باوجود عوام کی صحت اور ماحول کی پاکیزگی کے لئے اس بنیادی ضرورت سے صرفِ نظر نہیں کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جہاں پارک موجود اور آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ اور جہاں پارک کم یاب یا غیر آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔

یہ پارک کئی ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں بچوں اور بڑوں کی تفریح اور کھیل کود کے تمام لوازمات موجود ہیں۔یہاں بچوں کے لئے بے شمار جھولے اور کھیل کے میدان ہیں۔ اس کے ساتھ بڑوں کی تسکینِ طبع کے لئے مختلف تفریحی اورورزشی مشینیں اور میدان موجود ہیں۔

پارک میں جاپان کے روایتی پرندوں اور دوسرے جانوروں پر مشتمل چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہے۔ پارک میں پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے الگ الگ ٹریک موجود ہیں۔اس کے علاوہ ایک ٹریک نابینا افراد کے لئے بھی ہے۔ اس ٹریک پر گول ٹکیاں سی اُبھری ہوتی ہیں۔ان ٹکیوں کے اوپر نابینا افراد بے فکر ہوکر چل سکتے ہیں۔یہ سہولت ٹوکیو کی عام سڑکوں پر بھی موجود ہے۔

 ٹوکیو کی سڑکو ں کی ایک اور خاص بات کا ذکر کرتا چلوں۔ جگہ کی قلت کے باوجود ان کے فٹ پاتھ بہت چوڑے ہیں۔ان فٹ پاتھوں پر سائیکل سواروں اورراہ گیروں کے لئے الگ الگ ٹریک ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں سائیکل سواری کا رواج بہت عام ہے۔ گھر میں جتنے افراد ہوتے ہیں اتنی ہی سائیکلیں ہوتی ہیں۔جاپانیوں کی اکثریت مقامی ٹرین اسٹیشن اور شاپنگ سنٹر جانے کے لئے گاڑی کی بجائے سائیکل کا استعمال کر تی ہے۔ان میں مردوں اور عورتیں کی تخصیص نہیں ہے۔ میں نے اسّی نوے برس کی بوڑھی عورتوں کو بھی سائیکل چلاتے دیکھا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے موٹے کام سائیکل کے ذریعے نمٹاتی ہیں۔سائیکل کے آگے ایک ٹوکری لگی ہوتی ہے۔ جس میں سبزی، پھل اور ڈبل روٹی وغیرہ لے کر وہ گھر جارہے ہوتے ہیں۔

یہاں ہر جگہ سائیکلوں کے اسٹینڈ موجود ہوتے ہیں۔ٹرین اسٹیشن پر جہاں گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جگہ مختص ہوتی ہے وہاں سائیکلوں کے بھی بڑے بڑے سٹینڈ دکھائی دیتے ہیں۔اس پارکنگ کا بھی کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جو گاڑی کی پارکنگ کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ سائیکل جاپان کی نسبتاََ تنگ گلیوں کے لئے نہایت موزوں سواری ہے۔ سب سے زیادہ آسانی پارکنگ کی ہے۔ جاپانیوں کے چھوٹے چھوٹے گھروں میں پارکنگ کی جگہ بہت محدود ہے۔ عام گھروں میں زیادہ سے زیادہ ایک گاڑی پارک کرنے کی جگہ ہوتی ہے۔جبکہ اس گھر کے سامنے کئی سائیکلیں کھڑی ہوتی ہیں۔اس طرح شہر کی فضا بھی دُھوئیں اور کثافت سے پاک رہتی ہے۔نیز سائیکل سواروں کی جسمانی مشق بھی ہوجاتی ہے۔ یہ کم خرچ اور بالا نشین سواری جاپانیوں کی روزہ مرہ  زندگی کا جزوِ لاینفک ہے۔ جاپانیوں نے بہت ذوق و شوق سے سائیکل سواری کو اپنی زندگیوں کا حصہ اور معمول بنایا ہوا ہے۔

پارکنگ کا ذکر آیا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ ٹوکیو کے چھوٹے گھروں میں گیراج نہیں ہوتے۔بلکہ گھر کے سامنے کی دیوارکے ساتھ اس طرح

جوڑ کر گاڑی کھڑی کی جاتی ہے کہ بائیں طرف والا دروازہ نہیں کھولا جاسکتا۔گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ کے سامنے ایک بڑاسا آئینہ چسپاں ہوتا ہے جس میں پیچھے سے آنے والی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ڈرائیور اس آئینے میں دیکھ کر اپنی گاڑی باہرنکالتا ہے۔جاپان گاڑیوں کا گھر ہے جہاں ہر طرح کی گاڑیاں بنائی جاتی ہیں اور دنیا بھرمیں بہت شوق سے خریدی جاتی ہیں۔لیکن خود شہروں میں رہنے والے جاپانی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ تنگ پارکنگ، تنگ گلیاں اور ان کی سادہ طرزِ حیات ہے۔

اس کے برعکس سڈنی میں ان دنوں بڑی اور فور وِیل گاڑیوں کا عام رواج چل نکلا ہے۔ شہر کی کھلی سڑکوں پر بڑی بڑی فور ویل گاڑیاں صرف فیشن اور رواج کی وجہ سے ہیں۔ان کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ ایسی گاڑیاں مہنگی بھی ہوتی ہیں اور ایندھن بھی زیادہ کھاتی ہیں۔ مگر جب کسی چیز کا رواج ہوجائے  تو دیکھا دیکھی ہر کوئی اس راہ پر چل پڑتا ہے۔ اسے کہتے ہیں بھیڑ چال۔

ٹوکیو اور سڈنی کی سڑکوں سے واپس اب ہم کین مین پارک میں چلتے ہیں۔جہاں کھیل کے میدانوں،بچوں کے جھولوں اور چڑیا گھر سے آگے کمیونٹی سنٹر اور ان ڈور کھیلوں کے ہال اور کمرے موجود ہیں۔ وہاں سوئمنگ پول،کراٹے سنٹر،مساج سنٹر،ٹیبل ٹینس اور دیگر کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں۔ایک بڑے ہال میں درجنوں خواتین ایک انسٹرکٹر کی زیر نگرانی فوجیوں کی طرح اجتماعی جسمانی مشقوں میں مشغول تھیں۔اس طرح اس پارک میں کھلے میں اورچھت کے نیچے دونوں قسم کی جسمانی مشقوں اور کھیلوں کی سہولتیں موجود ہیں۔ کمیونٹی سنٹر کے ایک ہال میں آرام دہ صوفے رکھے تھے۔وہاں موجود وینڈگ مشین سے گرم چائے کے کپ لے کر ہم ان صوفوں پر جا بیٹھے۔ اس چائے کا ذائقہ ٹرک اڈوں والی کڑک چائے کی طرح تھا۔ جاپان کی یہ دودھ پتی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ چائے پی کر ہم پارک کے اگلے حصے میں گئے تو وہاں سائیکلیں کرائے پر دینے کا مرکز تھا۔یہاں سینکڑوں سائیکلیں کھڑی تھیں۔چلتے چلتے ہم ایک مصنوعی جھیل کے کنارے پہنچے۔یہ اچھی خاصی بڑی جھیل تھی۔صبح کے اس وقت جھیل کے کنارے اور پارک میں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے۔ کیونکہ یہ کام کے اوقات تھے۔ معلوم ہوا کہ شام کے وقت اور چھٹی والے دن اس پارک میں بہت رونق ہوتی ہے۔

ہم جس ٹریک پر چل رہے تھے اس کے دونوں اطراف میں مقررہ فاصلے پر درخت اس طرح قطار میں کھڑے تھے جیسے فوجی قطار میں

کھڑے پہرہ دے رہے ہوں۔پارک کے میدانوں اور ڈھلوانوں میں گھاس اجڑی اجڑی اور زرد تھی۔اسکی وجہ موسم سرما تھا۔بہار آتے ہی جاپان کے میدان،کھیت کھلیان اور درخت سرسبز وشاداب ہوجاتے ہیں۔جاپانیوں کو سبزے،پھولوں اور درختوں سے بہت پیار ہے۔جگہ کی قلت کے باوجود انہیں باغبانی کا بہت شوق ہے۔ان کے گھروں میں جتنی جگہ دستیاب ہوتی ہے چھوٹے چھوٹے خوبصورت پودوں،پھولوں اور بیلوں سے بھری نظر آتی ہے۔عمر رسیدہ جاپانی مرداور عورتیں ان پودوں کی دیکھ بھال میں مصروف نظر آتے ہیں۔راولپنڈی شہر کی گلیوں کے دونوں کناروں پر جہاں گندی اور غلیظ نالیاں بہتی ہیں ٹوکیو میں انہی کناروں پر پھول کھلے ہوتے ہیں۔یہ قوم یوں ہی دنیا میں ممتاز مقام نہیں رکھتی۔اس کے پیچھے بہت محنت،ایمانداری،صفائی اور نظم و ضبط کارفرما ہے۔کاش اس کا عشرِ عشیر ہماری حکومتوں اور عوام تک پہنچ پاتا۔کاش ہم ان سے کچھ سیکھ پاتے۔

جاپانیوں نے ملک میں موجود قدرتی وسائل اور قدرتی حسن کو جہاں دوام بخش دیا ہے وہاں اپنے ہاتھوں سے ان خوبصورتیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سب سے آگے ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو فطرت سے دور نہیں کیا ہے۔یہ پھول،یہ پودے،یہ ہرے بھرے میدان،یہ پیچ دار بیلیں،یہ سائیکل سواری،یہ سادہ خوراک،سادہ لباس اور سادہ رہن سہن انہیں فطرت سے بہت قریب رکھے ہوئے ہیں۔جس قوم کا اخلاق عمدہ،زبان شیریں اور لہجہ نرم ہے اسکے اندر کتنی حلاوت اور نرمی ہوگی۔یہی قانونِ فطرت ہے۔یہی انسانیت ہے۔ یہی دنیاوی جنت ہے۔جو لوگ آغوشِ فطرت میں پناہ لیتے ہیں قدرت انہیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہے۔جو قومیں اور افراد فطرت سے دُور ہوتے ہیں فطرت بھی ان سے روٹھ جاتی ہے۔

اس کی مثال وہ شہر اور گاؤں ہیں جہاں سے درخت اور سبزہ  ختم کرکے سیمنٹ،بجری اور اینٹ کے پہاڑ کھڑے کر دیے گئے ہیں، وہاں لوگ بارشوں کو ترستے ہیں،تازہ ہوا میں سانس لینے کے لئے تڑپتے ہیں اور آسمان کی نیلاہٹ دیکھنے سے محروم ہیں۔یہ فطرت سے دُوری کی سزا ہے۔انسان جتنی بھی ترقی کر لے فطرت سے دُوری برداشت نہیں کرسکتا۔فطرت سے قربت انسان کو انسان بناتی ہے اور اِس سے دوری اسے مشین بنا دیتی ہے۔لطف اورخوبی انسان بننے میں ہے مشین بننے میں نہیں۔

(یہ مضمون مصنف کی کتاب ’دُنیا رنگ رنگیلی‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔)